جنرل سیکریٹری کے نائب: غیر ملکی مداخلت کی روک تھام ضروری - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
سوسن ابوحسین
کو: پیر, 7 نومبر, 2016
0

جنرل سیکریٹری کے نائب: غیر ملکی مداخلت کی روک تھام ضروری

عرب ليگ: موصل کی آزادی کی طرح شہریوں کی حفاظت اولین ترجیح ہونی چاہیئے

13-1

قاہرہ: سوسن ابو الحسن

عرب لیگ کے نائب سیکریٹری سفیر حسام زکی نے شرق اوسط نیوز پیپر کے ایک خصوصی بیان میں کہا کہ موصل کو دہشت گرد تنظیموں کی گرفت سے آزاد کرنا بہت ہی اہم ضرورت ہے جس کی پوری طرح سے عرب لیگ حمایت کرتی ہے لیکن وہ شہریوں کے جان بچانے کو اولین ترجیح دیتی ہے۔ عراق نیز عرب کاز کے حوالے سے منعقد مخصوص اجتماعات میں شرکت کی کوشاں ہے تاکہ اس حوالے سے عرب وزارت کونسل اور اجلاس کی طرف سے جاری فیصلوں کے مطابق عرب لیگ اپنی پوزیشن کو واضح کرے۔ عرب لیگ موصل کو آزار کرانے والے شریک عناصر سے یہ اپیل کرتی ہے کہ وہ انسانی آبادی کے معاملہ میں احتیاط برتیں تاکہ انھیں کسی جانی ومالی خطرات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ سفیر زکی نے اس بات کی طرف توجہ مبذول کروائی کہ آج موصل کے حوالے سے پیرس کانفرس میں عرب لیگ کی شرکت کا اصل مقصد یہ ہیکہ عرب ممالک کے مخصوص حالات ومسائل سے نمنٹے کے لئے سنجیدگي اور مؤثرانہ طریقے سے شامل ہوا جائے، خاص طور پر ان عرب ممالک کی صورتحال پیش نظر ہے جو سیاسی اور اقتصادی کے مخصوص حالات سے گزر رہے ہیں، ان میں سرفہرست شہر موصل ہے جسے دہشت گرد تنظیم داعش کی گرفت سے آزاد کرانے والی عراقی فوج کی کاروا‏‏ئی کے آغاز سے ہی ایک نئی بحرانی صورتحال کا سامنا ہے۔ زکی نے زور دیکر کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ غیر ملکی مداخلت کی روک تھام کی جائے اور مسائل کا داخلی طور پر عوام کو مد نظر رکھتے ہوئے کوئی مناسب حل تلاش کیا جائے۔ انھوں نے مزید کہا کہ: "موصل کے حالیہ صورتحال کے حوالے سے اجلاس میں عرب لیگ کے نقطہ نظر کو پیش کیا جائے گا، جس میں خاص طورپر  وہ تدابیر شامل ہیں جنھیں بروئے کار لا کر نہ صرف معصوم شہریوں کے جان ومال کی حفاظت کی جاسکے بلکہ عراق کی وحدت اور خودمختاری پر کوئی آنچ نہ آنے پائے نیز اس کی سلامتی اور استحکام کو کوئی  نقصان نہ پہنچے۔ موصل اور عراق کے حوالے سے دوسری طرف مصری وزارت خارجیہ کے ترجمان بیرسٹر احمد ابو زید نے کہا کہ پیرس میں آج ہورہے اجتماع میں شریک ہونے کے لئے مصر کو بھی دعوت نامہ موصول ہوا ہے۔ انھوں نے مزید انکشاف کیا کہ مصر کے جانب سے اس اجتماع میں تین سب سے اہم موضوعات پیش کئے جائیں گے۔ جس میں سب سے پہلے موصل اور اس کے قریبی دیہاتوں کے باشندوں کے جان ومال کی حفاظت کرنا شامل ہے جو داعش تنظیم کے جال میں پھنسے ہوئے ہیں۔ دوسرے ان عراقی باشندوں کی حفاظت جو ان علاقوں میں رہائش پذیر ہیں جن کے آس پاس جنگیں چھڑیں ہوئی ہیں۔ شہر نینوی کی ہموار زمینوں میں رہنے والی آبادیوں کی مدد کے لئے ضروری انسانی امداد مہیا کرنا۔ موصل میں جاری جنگوں کے حوالے سے نیز موصل اور اس کے دیہی علاقوں اور وہ علاقے جو داعش کی گرفت سے آزاد ہوچکے ہیں ان علاقوں میں استحکام قائم کرنے کے لئے حکومت عراق کو ایک منصوبہ بند  پلان بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ انھوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ شہر موصل اور اس کے علاقوں میں اعلی انتظامی امور مقامی مختلف فکر ومذاہب کے باشندوں کی خواہشات عراق کے اتحاد اور خود مختاری کے احترام کے ساتھ پورا کرنے کے لئے کافی ہونگے۔

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>