گل کے سابق سینئر مشیر کا کہنا ہے کہ ترکی اور عرب مفاہمت بالکل بند نہیں ہوئی - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: پیر, 7 نومبر, 2016
0

گل کے سابق سینئر مشیر کا کہنا ہے کہ ترکی اور عرب مفاہمت بالکل بند نہیں ہوئی

سعودی عرب کو شدید حملے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے .. اور اسکے اسباب میں سے ایک "جاسٹا" ہے: ارشد ہورموزولو

13-2

سعيد عبد الرازق : انقره

ترکی کے سابق صدر عبد اللہ گل کے سینئر مشیر ارشد ہورموزلو نے کہا کہ: ہر کوئی دیکھ رہا ہے کہ سعودی عرب کو شدید حملوں کا سامنا ہے جبکہ وہ عام طور پر خطے میں دہشت گردی کا مقابلہ کرنے والوں میں سب سے پہلے تھا  مگر اسے سامنا کرنا پڑ رہا ہے جیسے ترکی کو۔

ہورموزلو نے "الشرق الأوسط” سے وضاحت کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا کہ: ترکی اس سلسلے میں سعودی عرب کے  موقف کو سمجھتا ہے کہ مختلف طریقوں سے سعودی عرب کی قیادت کو اکسانے کی کوششیں کی جا رہی  ہیں، جیسا کہ دہشت گردی کی پشت پناہی کے خلاف قانون جو کہ «جاسٹا» کے نام سے معروف ہے، جسے حال ہی میں امریکی کانگریس نے منظور کیا  ہے اور اس پر زوردیا ہے کہ یہ دہشت گردی کا سامنا کرتے ہوئے سعودی عرب کے مؤقف پر اثر انداز نہیں ہوگا۔ ترکی اور سعودی عرب کے تعلقات کو ہمیشہ ممتاز گردانتے ہوے کہا کہ دونوں ممالک کے مابین بڑی ہم آہنگی ہے اور ترکی سعودی عرب کے مواقف کی قدر کرتا ہے چاہے وہ علاقائی قضیوں پر ہوں یا بین الاقوامی مسائل  پر، اور دونوں کے مابین تعاون عام طور پر خطے کے مسائل کو حل کرتا ہے۔

  ہورمولوز نے نشاندہی کی کہ عرب ترکی مفاہمت بالکل ختم نہیں ہوئی ہے لیکن سب سے پہلے عراق پھر مصر، شام، لیبیا اور یمن میں ہونے والی تبدیلیاں اس خطے میں عمومی مؤقف پر اثر انداز ہوئیں، اور خیال رہے  حالیہ دہائیوں میں جو کچھ ترکی میں ہو رہا ہے وہ "واپسی کی پالیسی” ہے۔ یعنی ہماری ثابت قدمی اور ہماری قائم کردہ تاریخی، ثقافتی، دینی اور معاشرتی بنیادوں کی جانب واپسی اور یہ ہونا ہی چاہئے جو کہ یورپی یونین، انسانی حقوق اور بنیادی آزادی پر کوپن ہیگن معیار پر مکمل الحاق کی گذارش سے چشم پوشی کے بغیر ہو۔ اسی ضمن میں بات کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ: دیکھیں عرب ممالک اچھی طرح جانتے ہیں کہ ترکی کے ان پر علاقائی عزائم کے بغیر تحفظات ہیں اور حالیہ عرصے میں”واپسی کی پالیسی”  کے ثمرات کی بدولت بہت سےعرب ممالک اور خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ بہترین تعلقات ہیں، اور "امید ہے کہ ترکی اور دیگر مماک کے مابین گرما گرمی کا ماحول نہیں بنے گا”۔

ہورموزلو نے واشنگٹن کی جانب سے جاری ترکی کے بارے میں موقف پر تنقید کی، چاہے شام میں «فرات ڈھال » کی کاروائی کے ذریعے دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کا مقصد ہو، یا عراق کے شہر موصل میں آپ ہمارے بھائیوں کے لئے کیا کرنا چاہتے ہیں؟ انہوں نے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اخلاقی قوانین اور نہ ہی واشنگٹن اور انقرہ کے مابین اسٹراٹیجک اتحاد کے تعلقات کی بناء پر عمل نہیں کرتا۔ انہوں نے خیال کیا کہ ترکی کے ساتھ مشکلات پیدا کرنے کے لئے بعض جماعتوں کو بغداد حکومت کی حمایت حاصل ہے کیونکہ عشیقہ کیمپ میں اسکی محدود فوج کا کچھ فوجیوں کو "داعش” کے خلاف تربیت دینا ہے، انہوں نے اشارہ کیا کہ علاقائی ممالک کی بڑی تعداد عراق اور ترکی کی مخالفت نہیں کرتی جب تک مرکزی حکومت اسے قبول کرتی ہو لیکن حکومتِ بغداد کو جان لینا چاہیئے کہ عراق میں ترکی کے برادر ترکمان، عرب اور کردی اور دیگر تمام نسلی گروہ ہیں اور اس بناء پر اسے ان کی مدد کرنے کی اجازت دینی چاہیے۔ انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ترکی کی پالیسی عراق کی علاقائی سالمیت کی حمایت کرتی ہے اور اسکا بنیادی مقصد دہشت گردی کا خاتمہ ہے۔ اسی طرح انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اصل مسئلہ عراق میں موجود ملیشیا دستوں کے ایک حصے کی جانب سے خاص مطالبات کا ہونا ہے جن کے کچھ حصے دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>