خالد صلوی: سعودی ریفری پر شک کرنے والوں کے لئے برطانیہ کا اعتماد ایک بڑا جواب ہے - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: پیر, 7 نومبر, 2016
0

خالد صلوی: سعودی ریفری پر شک کرنے والوں کے لئے برطانیہ کا اعتماد ایک بڑا جواب ہے

خالد صلوی نے کہا کہ یونین اور وطنی فٹ بال میچوں میں اس کی اعلی کارکردگی کے بعد وہ مزید فٹ بال میچوں میں ریفری کے کام سر انجام دینے کے خواہاں ہیں

14-1

ریاض: عماد المفوز

درجۂ اول کے سعودی فٹ بال ریفیری خالد صلوی نے یہ یقین دہانی کرائی کہ اس کی یہ خواہش ہے کہ اسے اگلے مرحلہ میں عام فٹ بال میچوں میں ریفری کے کام سرانجام دینے کی ذمہ داری سونپی جائے، خاص طور پر ڈیربی فٹ بال میچ میں اس کی کامیابی کے بعد جس نے سعودی پروفیشنل لیگ کے چوتھے راؤنڈ میں یونین اور وطنی فٹ بال ٹیموں کو سیمٹا اور ان دونوں ٹیموں کو ایک کیا۔ شرق اوسط سے اپنے انٹرویو میں صلوی نے کہا کہ برطانوی کوچ ہاورڈ ویب، جو ریفری سرکل کے ڈائرکٹر ہیں، نے اسے ریفری کی ذمہ داری سونپ کر اس کے اندر پراعتمادی پیدا کی  ہے۔ اس نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ سعودی عربیہ فٹ بال فیڈریشن سے یہ امید کرتا ہے کہ وہ سعودی پروفیشنل لیگ کے میچوں میں قیادت کے حوالے سے غیر ملکی ریفریوں کے وجود کو کم کرے اس لئے کہ سعودی ریفری کے اندر اتنی صلاحیت اور قدرت ہے کہ وہ کسی بھی میچ کی پوری دلیری اور ہمت کے ساتھ قیادت کرسکے، اسے صرف کلب کے بعض ذمہ داروں کا اعتماد درکار ہے۔ اس نے زور دے کر یہ کہا کہ ریفریوں کے پینل کے حوالے سے مزاج داری اور تواضع کا مسئلہ مکمل طور پر ناقابل قبول ہے۔ اور یہ بھی کہا کہ اس کا یہ قطعا خیال نہیں کہ عمر مہنا اس طرح کے اسلوب کا مظاہرہ کریں گے۔

اس سوال کے جواب میں کہ سعودی کلبوں کا اپنے اہم اور نازک میچوں میں خارجی ریفریوں کو ترجیح دینے کے حوالے سے آپ کی کیا رائے ہے؟

        انہوں نے کہا کہ ہر کلب کو یہ اختیار ہے کہ وہ سعودی فٹ بال فیڈریشن کے طے شدہ قانون کے مطابق خارجی ریفریوں کا تعاون حاصل کرے، جس قانون کے مطابق ہر کلب کے لئے پانچ میچ مقرر ہیں۔ ریفری ہونے کی حیثیت سے ہمارے لئے یہ اہم نہیں ہے کہ کلب کیا مقرر کرتا ہے لیکن جو چیز ہمارے لئے سب سے اہم ہے وہ یہ کہ سعودی ریفری کی اعلی پراعتماد کارکردگی کے پیش نظر خارجی ریفریوں کی تعداد کم کی جائے، کیوں کہ سعودی ریفری کی ہمیشہ یہ کوشش رہتی ہے کہ وہ اپنے وجود اور موجودگی کو ثابت کرے، اور مجھے یہ پورا یقین ہے کہ سعودی ریفری کو اچھی کارکردگی اور ترقی کے لئے صرف لوگوں کا تعاون اور سپورٹ چاہیئے جس کا وہ ہمیشہ خواہاں رہتا ہے۔ ہم نے حالیہ میچوں میں یہ دیکھا ہے کہ سعودی ریفریوں سے نا کے برابر غلطیاں ہوئیں جو اس بات کی دلیل ہے کہ ریفریوں کا ٹیم کے افراد کو نفسیاتی اور جسمانی طور پر تیار کرنا ان کی کارکردگی کی سطح کو بہتر بنانے میں ایک اہم اور بااثر کردار تھا، اس کے علاوہ اس حوالے سے حلقہ کے ڈائرکٹر ہاورڈ ویب، نیز سعودی پروفیشنل لیگ کے صدر، اور تبدیلی وترقی کے ڈائرکٹر کی کوششوں کا بھی بہت بڑا دخل تھا۔

 اس سوال کے جواب میں کہ کیا آپ یہ مانتے ہیں کہ ریفریوں کی اعلی کارکردگیوں کی سطح بلند کرنے کے پیچھے ریفری حلقہ کا اہم کردار تھا خاص طور پر ممتاز ریفریوں کا حق مار کر دوسرے کم درجہ کے ریفریوں کی مزاج داری کی گئی اور جس کے لئے مہنا کمیٹی پر نکتہ چینیوں کا دائرہ وسیع ہوگيا ہے؟

انہوں نے کہا کہ امانت داری کا تقاضا تو یہ ہے کہ ہم اس کا اعتراف کریں کہ برطانیہ ریفری حلقے کے ڈائرکٹر ہاورڈ ویب نے سعوی ریفریوں کی کارکردگیوں میں بہت اہم اور بنیادی تبدیلیاں لائے ہیں اور وہ  یہ اہم کام اس لئے سر انجام دے سکے کیوں کہ ان کے پاس اس کے لئے وسائل اور ذاتی تجربہ ہے جو انھوں نے اپنے طویل تر پروفشنل کیریر میں حاصل کئے ہیں اور بہت سارے ورلڈکپ کے فائنل میچوں میں انھوں نے ریفری کی خدمات انجام دی ہیں اور اعلی کارکردگی کا مظاہر کیا ہے جس کی وجہ سے آج ان کا شمار عظیم ریفریوں میں ہوتا ہے، لیکن ہمارے پیش نظر یہ بات بھی رہے کہ عمر مہنا کی قیادت میں ریفری کمیٹی نے بھی سعودی ریفریوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے میں ان چار سالوں میں کافی اہم کردار ادا کیا ہے جس کی وجہ سے آج سعودی ریفریوں نے عرب افریقہ اور انٹرنیشل سطح پر اپنی شخصیت کا لوہا منوایا اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ کامیابی کے حصول میں ریفری حلقہ اور ریفری کمیٹی دونوں کا برابر کا ہاتھ رہا ہے۔ میں یہاں یہ اضافہ کرتا چلوں کہ ریفری حلقہ کے ڈائرکٹر لاجواب اور بہت ہی ذمہ دار شخص ہیں جب بھی آپ کوئی ضرورت محسوس کریں وہ آپ کے سامنے ہوتے ہیں اور کامیابی حاصل کرنے کے راستے میں وہ آپ کا مکمل تعاون کرتے ہیں، میں نے شخصی طور پر ان سے بہت کچھ سیکھا ہے اور ان سے ٹریننگ بھی حاصل کی ہے اور شاید سب سے اہم چیز میری پر اعتمادی جو انھیں کی دین ہے۔

        لیکن کیا آپ میرے ساتھ اتقاق نہیں کریں گے کہ عمر مہنا پر کی جانے والی نکتہ چینیاں اور کچھ ریفریوں کے حوالے سے ان کی مزاج سازی اس بات کی دلیل ہے کہ ریفری پینل میں ابھی بھی غلطیاں موجود ہیں؟

میں ایسا نہیں سمجھتا کیوں کہ مہنا نے ریفری کمیٹی کی اپنی صدارت کے دوران بہت محنت کی ہے اور ریفریوں کی کارکردگیوں کی سطح بلند کرنے میں ان کا بہت اہم کردار رہا ہے، میں نے خود شخصی طور پر ان سے رہنمائی، ٹریننگ، ڈائرکشن کی سطح پر بہت کچھ سیکھا ہے۔ ان کی ہمیشہ یہ کوشش رہتی ہے کہ کیسے ہم ٹریننگ کی پابندی کریں اور غلطیوں سے سیکھیں، ان حوالوں سے وہ ہر مہینہ ہونے والے اجتماعات میں نہ صرف شرکت کرتے ہیں بلکہ ہمارے ساتھ طویل وقت گذارتے ہیں تاکہ ہمیں مکمل فائدہ حاصل ہو۔ جہاں تک غلطیوں کا مسئلہ ہے تو میرا خیال ہے کہ غلطیاں تو ہیں اور وہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوسکتیں کیوں کہ ریفری ایک انسان ہے اور اس سے غلطی ہونے کا امکان ہوسکتا ہے، اس لئے عمر مہنا سے بھی غلطی ہوسکتی ہے اور ریفری حلقہ کے ڈائرکٹر بھی غلطی کے مرتکب ہوسکتے ہیں، اہم بات یہ ہیکہ کیسے ہم ان غلطیوں سے سیکھیں اور کیسے ان کا ازالہ کریں۔

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

متعلقہ عنوانات‬:, ,
شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>