بینک کو علیحدگی پسند کہنے سے انکار: ہماری حکومت جمہوری ہے، (یمنی سنٹرل بینک) کے گورنر (الشرق الاوسط) کے ساتھ یہاں تک کہ عدن میں بھی - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
کو: پیر, 7 نومبر, 2016
0

بینک کو علیحدگی پسند کہنے سے انکار: ہماری حکومت جمہوری ہے، (یمنی سنٹرل بینک) کے گورنر (الشرق الاوسط) کے ساتھ یہاں تک کہ عدن میں بھی

بینک حکومت سے خودمختار ہوگا

14-2

بدر القحطاني اور عبد الهادي حبتور: رياض

يمنى مركزى بینک كے گورنر منصر قعيطى يہ سوال سن كر برہم ہوگئے كہ: "عدن پہنچنے كے بعد سب سے پہلے آپ كيا كريں گے؟”، انهوں نے فورا كہا كہ ميں مركزى بینک جاؤنگا، پهر الشرق الأوسط سے پرسكون انداز سے بات كرتے ہوے كہا كہ: «یہ صورت حال کا تدارک کرنے کے لئے ضروری تھا .. مجهے پیسے سے خالی، مالى گردش کے ناقابل كيش اور ڈيٹا بیس سے محروم بینک موصول ہوا»، «لیکن ہم حوثی ڈیٹا بیس کو برقرار رکھنے کے باوجود، تنخواہوں کی ادائیگی کا مسئلہ حل کریں گے، اور يہ مرکزی بینک كى صوبائی شاخوں میں ریکارڈ شدہ ڈیٹا کے ذریعے ہوگا»، انهوں نے اس بات پر زور ديا كہ وه خود مختارى کے بعد امريكى طرز پر بینک كو وفاقی نظام كے ذريعے چلانے كا اراده ركهتے ہيں.

مرکزی بینک میں اپنی تقرری کے ایک ہفتہ بعد ہی قعیطی نے قہوہ نوش کرتے ہوئے یہ کہا کہ انہیں حالیہ سال کے آخر تک وقت درکار ہے تاکہ بینک ابتدائی طور پر اپنی مصلحت کے حق میں کچھ کرسکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ: ہم یہ نہیں چاہتے ہیں کہ کسی طرح یوں ہی کام چلتا رہے ، بلکہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ قانون میں لائحہ کے مطابق مرکزی بینک اپنا فریضہ بخوبی انجام دے۔

3 ماه سے ہى اس پر بحث جارى تهى كہ سابقہ وزير ماليات كو بطور گورنر تعينات كيا جائے. گورنر پر دباؤ تها كہ وه سابقہ گورنر كےبيان كا جواب ديں ليكن انهوں نے صبر كو ترجيح دى، يہ ملاقات پرسوں  رياض كے موفمبيک ہوٹل ميں ہوئى جس ميں گورنر نے اس عزم كا اظہار كيا كہ عدن ميں بینک مستقل ہوگا اور اس بات كو يكسر مسترد كيا كہ بینک "عليحدگی پسند” ہوگا، انہوں نے كہا كہ "ہم جمہوريۂ يمن كى نمائندگى كرتے ہيں اور تمام يمنيوں كے ذمے دار ہيں”.

قعيطى نے  61 سال كى عمر ميں 3 گهنٹوں كے اندر 40 سالہ كمزور معيشت كو چلايا، مستقبل، نتائج اور تعميراتى اصلاحات کی منصوبہ بندی كے بارے ميں تفصيل سے بات كرتے ہوے يمنى مركزى بینک كے گورنر كہتے ہيں کہ: ان كے سامنے دو مشكلات ہيں: بینک كے خزانے ميں نقد كرنسى نوٹ نہيں ہيں” جس قدر ہم قابل تهے ہم نے بنيادى ضرورت كے مطابق معیشت میں توسیع كى اور يہ مركزى بینک كا پہلا مشن تها”.

دوسرى بات:  يہ كہ ہمارے سامنے نقدى كى گردش معطل تهى يعنى رابطے کے  چينلز نقدى كى گردش ميں مركزى بینک كے ساتھ اپنا اعتماد كهو چكے تهے، كيونكہ يہ گردش اس طرح كام كر رہی تهی كہ: بینک كرنسى جارى كرتا پهر کرنسی اداروں  اور باہر عوام میں رائج ہوتی، اس گردش میں عوام سے ہونے والا فائدہ  بینکاری نظام كى جانب لوٹ آتا، اس کے بعد ایک نئے انداز میں مرکزی بینک کی جانب جو  اس سے پوری مارکیٹ بھر دیتا ، نئے خزانے سے نكالنے كى ضروریات نہيں تهى سوائے فرق آنے كى صورت كے. بعض اوقات سرپلس ميں بهى اضافہ كيا جاتا. يہ طريقۂ كار پورى طرح معطل  ہوگيا.

فيصلہ كرنے ميں دير كيوں ہوئى؟

گورنر سے سوال كيا گيا توانہوں نے جواب ديا: صدر نے اس سے  پہلے  اس پر کارروائی  کیوں نہیں کی؟ كيونكہ يہ سب قانون اور اس كے احترام كى وجہ سے تها، ليكن كيسے؟  اس کا جواب  یہ ہے کہ مرکزی بینک کی انتظامیہ کے بورڈ كى مدت ختم نہیں ہوئى تھی، لہذا کوئی بھی اقدام اس کی خود مختاری میں  مداخلت شمار ہوتی. صدر ہادى نے بینک كو چهوڑے ركها تاكہ وه اپنى قانونى مدت پورى كرلے كيونكہ وه پورى طرح سے اپنے فرائض ادا نہيں كر سكتے تهے حتى كہ انہوں نے يہ فيصلہ ليا. قانونى مدت كے دوران گورنر اور انكے نائب كے خلاف كوئى فيصلہ نہيں ليا گيا اور آزاد شده علاقے بهى انكے فيصلے سے محروم رہے يہ بهى جزوى طور پر انكى مجبورى تهى.

ايک قانونى حق ركهنا يہ ادارے كى اسٹراٹیجک پاليسى اور اسكى خودمختارى كے زمرے ميں آتا ہے، ليكن جب قانونى خود مختارى كا وقت آيا تو فيصلے لئے گئے. انہوں نے مزيد كہا كہ: "قانون كے مطابق صدر جمہوريہ پر يہ پابندى عائد ہوتى ہے كہ وه مركزى بینک كى سابقہ ادارتى كميٹى كى مدت مكمل ہونے تک سعودى عرب اور امارات سے اتفاق كى بناء پر كسى بهى قسم كا خلاء نہ چهوڑيں، انہيں اس کے بارے میں علم بھی تھا. خصوصيت كى بنياد پر انسٹيٹيوٹ پهيلے جن ميں بعض اداروں كو اسكے لئے انكى مدد حاصل تهى اور چار ركنى گروپ كى نقل مكانى كى بهى تجويز دى گئى”.

ترجيحات

ترجيحات پر سوال کے جواب میں القعیطی نے کہا کہ: اضافی کرنسی نوٹ مہیا کرنا، بینک پر اعتماد بحال کرنا، اور گردش کو معمول کی سطح پر واپس لانے کے لئے نقدی کا بحال کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ منڈی میں موجود مالیاتی تخمینے 16 ارب ڈالر تک پہنچتے ہیں، "ہمارے اندازے کے مطابق 50 فیصد نقدی مکمل طور پر ضائع ہو چکی ہے”۔ بینک کی کارکردگی کی ابتداء میں القعیطی نے کہا کہ ہماری ترجیحات اور کوششوں میں سرفہرست یہ ہے کہ دہشت گردی کی مالی معاونت، اور منی لانڈرنگ کا تدارک کرنا اور ملک کے اندر اور باہر ہونے والی ٹرانزیکشن کی نگرانی کرنا، ادائیگی کے نظام کو اپ ڈیٹ کرنا اور بینکاری اداروں کی حوصلہ افزائی کرنا اور یہ قانونی مادے پر عمل درآمد کا مرحلہ بھی ہے، مرکزی بینک کے فرائض میں یہ شامل ہے کہ اس کی ادائیگی کے نظام کو آسان بنا کر اس میں ترقی ہونا چاہئے اور اس پر بینکاری اداروں اور عوام کی حوصلہ افزائی کی جائے۔

یہی ہمارے مستقبل کے اہداف ہیں۔ گورنر کا کہنا ہے:  کہ وہ اسٹڈی،  تجزیہ اور حل تلاش کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں، مرکزی بینک کی انتظامیہ کے بورڈ کی دوبارہ تشکیل میں صدر کی جانب سے دو نئے ڈپٹی گورنروں کی تقرری اور عدن میں اپنے ہیڈکوارٹر اور انتظامی کارروائیوں کی منتقلی کا فیصلہ کامیابی کی راہ ہموار کرتا ہے، کیونکہ یہ عمل پیچیدہ اور مشکل ہے کیونکہ یہ انتظامی تنظیم کے علاوہ فنی اور ٹیکنیکی ادارہ پر مشتمل ہے، بہت ہی مختصر حالات میں گویا ہم نے بینکاری ادارہ جو کہ بہت بڑا تھا اسے وقت کے ساتھ ذیلی شاخ میں تبدیل کر دیا.

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>