اوراگوائے کی ٹیم نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے ہر فنی مینیجر کو اپنے منصب پر کم از کم پانچ سال کیلئے رکھا جائے - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: پیر, 7 نومبر, 2016
0

اوراگوائے کی ٹیم نے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے ہر فنی مینیجر کو اپنے منصب پر کم از کم پانچ سال کیلئے رکھا جائے

اوروگوائے کی ٹیم ہر فنی ڈائریکٹر کو کم از کم پانچ سال اپنے منصب پر رہنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ گوس بویت ۔ ۔ کوچ جنہیں برخاست کر دیا گیا۔

15-1

سيد لوى: لندن

        ملاقات کے دوران ریئل بیٹیس کے کوچ گوس بویت نے کہا کہ: "میری یہ خواہش نہیں کہ میری ان باتوں سے کسی کی برائی ہو لیکن یہ حقیقت ہے کہ آپکو مختلف ہونا پڑے گا اور بعض چیزوں میں نمایاں بھی، مجھ سے کئی بار کہا گیا جیسا کہ کھیل کے سابقہ ساتھی روبیرٹو ڈی ماٹیو، ڈار پیٹریسکو اور جیانفرانکو زولا، اور ہمیشہ آپکے گرد چند لوگ یہ کہتے ہیں کہ: (خبردار جو مشق کی! تمہیں مشق کی کیا ضرورت ہے؟ اس سے بہتر ہے کہ ساحل سمندر پر جاؤ یا گولف کھیلو)۔ بحیثیت کوچ، آپ اپنے آپ کو فیصلہ کے اعتبار سے، اشارہ کے اعتبار سے، اور ہر اعتبار اور زاویے سے سب کے سامنے پوری طرح عیاں پائیں گے”۔

انہوں نے مزید کہا کہ: "یہ بات اتنی آسان نہیں ہے”۔ یا تو آپ اپنے جذبات پر مکمل کنٹرول رکھیں یا کم از کم اس سے خبردار رہیں اور اس کا انتظام کریں یا آپ کے لئے ایسا ممکن نہیں ہو گا۔  کیونکہ یہ غیر متناہی امر ہے اور ہر روز احساسات تبدیل ہوتے رہتے  ہیں، اور دل کے عارضے کیلئے یہی کافی ہے۔ بویت یہ کہہ کر چلے گئے کہ: "میں نے پہلے ہی گھبراہٹ اور زوال کے شکار ہونے والے سابق سوینڈرون کے ڈائریکٹر مارٹن لنگ سے ملاقات کی تھی”۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ: (کبھی میں بھی تمھاری طرح تھا، کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں تھا، لیکن اچانک مکمل طور پر سب کچھ بدل کر زوال آگیا)۔ اس وقت مجبورا اسے  گاڑی روکنی پڑی کیونکہ اسے  سانس لینے میں کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا تھا تب اسے ایمبولینس کو طلب کرنا پڑا۔ اور فٹ بال سے مجبورا طویل عرصے کیلئے دور رہنا  پڑا، اس وقت اسے شدید نقصان ہوا۔ اس نے ہم سے کہا کہ: (بات کرنا آسان ہے۔۔۔ لیکن رکنا بہت مشکل ہے)۔

بویت نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا: "کھلاڑی پورا ہفتہ پریکٹس کرتا ہے یہاں تک کہ وہ میچ کی بلندی تک پہنچ جاتا ہے، اس کے بعد وہ اندرونی طور پر محرکات کو تلاش کرتا ہے۔ اس کے برعکس ہم بحیثیت کوچ  منحنی انداز میں مسلسل اوپر کی جانب حرکت کرتے ہیں۔۔ اور کبھی بھی نیچے کی جانب متوجہ نہیں ہوتے۔ ہمہ وقت ہم صحت کی بحالی کی سرگرمیاں جاری رکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور ہمیں آرام کا وقت نہیں ملتا۔

        میچ کے بعد، بعض لوگ تصور کرتے ہیں کہ یہاں سب ختم ہوگیا۔ اور میں اپنی طرف سے ایسا سوچنا پسند کرتا ہوں کہ کبھی ایسا بھی دن آئے کہ جب فٹ بال میری زندگی سے غائب ہو جائے، لیکن در حقیقت میں ایسا نہیں کر سکتا۔ اور نہ ہی ایسا کچھ کرنے کی مجھ میں ہمت ہے کیونکہ یہ میرے لئے تفریح ہے۔

ملاقات کے دوران انہوں نے کہا کہ، یہ سمجھنا آسان ہے کہ بویت کو اسکی ہمہ وقت سرگرمیوں کی وجہ سے "ریڈیو” کہا جاتا ہے جو ہر وقت بولتا رہتا ہے، خاص طور سے فٹ بال سے متعلق۔ گفتگو کے دوران بویت نے کئی ایک مختلف موضوعات پر بات کی۔ ڈیلی آلی کے بارے میں بویت نے کہا کہ: "وہ ایک طویل عرصے میں عظیم کھلاڑی بنیں گے، جبکہ کوچ ٹوٹنہام ماوریسیو بوکیٹینو نے منفرد کامیابی حاصل کی، اور شاید یہ بات مزید اچھی ہو خاص طور سے تو ٹوٹنہام کیلئے کیونکہ وہ سات یا آٹھ کھلاڑی جو کہ مثالی عمر میں ہیں اور چند ہی سالوں میں جوان ہونگے مگر تجربہ کار۔ اگر بوکیٹینو اس گروپ کی حفاظت کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو وہ حیرت انگیز نتائج حاصل کریں گے۔ بہر حال بویت نے اقرار کیا کہ فٹ بال پر کئی ایک برے وقت بھی آتے ہیں جن میں مشہور ترین وہ ہے جو کرسٹل پلس کے لباس کی تبدیلی والے کمرے میں ہوا مگر پھر بھی کئی لمحے یادگار بھی ہیں۔ بویت کے لہجے میں اداسی جھلک رہی تھی جب انہوں نے اعتراف کیا کہ کئی ایک کھلاڑی فٹ بال پسند نہیں کرتے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ بویت نے اپنے سفر کا آغاز فرانس سے کیا جب انہوں نے نیس کلب میں شامل ہونے کی فرصت کو اپنے ہاتھ سے ضائع کر دیا، جس نے انہیں فرانسیسی ٹیم غرونوبل کے ساتھ جوڑے رکھا، بویت نے اسے "خوفناکی” سے تعبیر کیا، علاوہ ازیں وہ ہسپانوی ریئل زاراغوزا اور چیلسی کے ساتھ بھی رہے۔ جس دن چیلسی وہ پہلی ٹیم بنی کہ جس میں غیر ملکی کھلاڑی شریک تھے تب وہ کیپٹن کا لبادہ پہنے ہوئے تھے، اور ہوا یوں کہ براہ راست آنے والے اگلے میچ میں وہ اس لبادہ کے بغیر نظر آئے۔ کوچنگ کیریئر میں دلچسپ بات یہ ہے، کہ ان کو اب تک جہاں کہیں بھی تعیینات کیا گیا وہاں سے نکال دیا گیا۔ مگر اس کے باوجود ہر بار وہ نئے سرے سے مشق کرکے اس جانب واپسی کے خواہاں نظر آتے ہیں۔

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

متعلقہ عنوانات‬:, ,
شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>