غفلت اورکچھ لوگوں کے تجاوزات کی وجہ سے سعودیہ عرب کے آثار قدیمہ کو خطرہ لاحق - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: پیر, 7 نومبر, 2016
0

غفلت اورکچھ لوگوں کے تجاوزات کی وجہ سے سعودیہ عرب کے آثار قدیمہ کو خطرہ لاحق

آثار قدیمہ کو درپیش داخلی چیلنجز

16-1

ڈاکٹر سعد البازعی

شہر حائل کے حالیہ دورے کے موقع پر عربی سخاوت وکرم ضیافت کی دنیا میں معروف حاتم طائی کے علاقہ کی سیر کرنے کا موقع ملا۔ دراصل میں حائل کی ادبی ثقافتی کلب کی دعوت پر ایک لکچر دینے آیا ہوا تھا۔ کلب کے لوگوں نے نہ صرف میری خوب آؤبھگت کی بلکہ اعلی سخاوت وکرم کا ثبوت دیتے ہوئے شہر کے آثار قدیمہ کی زیارت بھی کروائی۔ مختلف اہم آثار قدیمہ دیکھنے کا مو قع ملا، جن میں سرفہرست حاتم طائی کا گھر اور قبر بھی ہے۔ حائل میں قیام کے دوران چیدہ دانشوروں سے اپنی گفتگو میں میں نے جدید عربی روایات میں مذکور تعلیم یافتہ طبقہ کے حوالے سے بات کی، بہت سارے زاویوں سے ان کی تصویر کشی کی۔ ان سے کہا کہ درحقیقت تعلیم یافتہ طبقہ کے حوالے سے جو تصویر ہمیں ان جدید ناولوں میں ملتی ہے وہ یا تو ان کے جلاوطنی سے تعلق رکھتی ہے یا انھیں ظلم وستم کا شکار بتاتی ہے۔ واقعہ یہ ہیکہ تعلیم یافتہ طبقہ کی اس تصویر سے ہم حقیقی زندگی میں ناولوں کی بنسبت زیادہ آشنا ہیں۔ باوجودیکہ ان ناولوں کو تعلیم یافتہ لوگوں نے ہی لکھا ہے لیکن تعلیم یافتہ طبقہ کی تصویر کشی کرنے سے پہلے عرب معاشرے میں خود لکھنے والوں کے برے احوال کی تصویر کشی کرنی چاہیئے تھی۔ درحقیقت یہ ایک ایسا معاشرہ ہے جس کی نظر میں تعلیم وثقافت کی کو‏ئی قدر وقیمت نہیں ہے اور نہ ہی اس معاشرے میں علم و ثقافت کے حوالے سے متمدن معاشروں کی طرح کوئی توجہ دی جاتی ہے۔ میں نے اس حوالے سے اپنے متعدد مقالوں میں بہت کچھ لکھا ہے۔ میرے خیال کے مطابق تعلیم و‌ثقافت پر دو طرح سے ظلم وستم ہورہا ہے، ایک کی ذمہ داری سیر وسیاحت کے ذمہ دار ادارہ کو جاتی ہے جس نے سعودیہ کے آثار قدیمہ سے بے توجہی اور بے اعتنائی برتی ہوئی ہے، باوجودیکہ سعودیہ میں آثار قدیمہ کی کوئی کمی نہیں ہے۔ اب یہی جن قدیم جگہوں کی ہم نے زیارت کی وہاں حاتم طائی کے گھر کے کھنڈرات کے پاس کئی تختیاں ملیں، بعض تو ان کی قبر کے پاس پڑی ہوئی ہیں۔ یہ تماشہ دیکھ کر میں یہ کہے بغیر نہ رہ سکا کہ یہ ثقافت کو زندہ دفنانے کے مترادف ہے۔ ان آثار قدیمہ والی جگہوں پر عبور کرنے کے لئے پختہ مضبوط راستے بنا دیئے گئے ہیں، نیز ان جگہوں کی زیارت کرنے والوں میں بعض نے ان آثار پر تجاوزات کرتے ہوئے ان پر مختلف عبارتیں مختلف زبانوں میں لکھ کر انکی شکل خراب کردی ہے، لیکن حقیقی پریشان کن بات ان آثار قدیمہ کے حفاظت کے حوالے سے علماء دین کے سخت ترین رویہ سے ہے۔ یہ آثار قدیمہ ایسی جگہوں پر واقع ہیں جہاں لوگ اپنی تاریخ جاننے کے لئے جاسکتے ہیں حتی کہ صرف گھومنے کی غرض سے بھی ان جگہوں کا معائنہ کرسکتے ہیں جس سے انھیں صرف اپنی تاریخ سے واقفیت نہی ہوگی بلکہ انھیں فخر محسوس ہوگا، لیکن واقعہ یہ ہیکہ ثقافت کا یہ اہم حصہ بدترین ظلم وستم کا شکار ہے۔

        ایک اہم موضوع جس پر میں نے اپنے لکچر میں خاص طور پر روشنی ڈالی تھی وہ ہے ناولوں میں تعلیم یافتہ طبقہ اورثقافت کی حالیہ صورتحال، جس کے تحت یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ جنگوں کے نتیجہ میں عرب ملکوں میں موجود آثار قدیمہ کو کیسے بیدردی سے تباہ وبرباد کردیا گيا۔ اس کے لئے میں نے عراقی ناول نگار سنان انطون کی ناول "فہرس” سے چند مثالیں پیش کی جس میں ناول نگار نے غم وغصہ کا اظہار کرتے ہوئے عراق کے آثار قدیمہ کی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے ان طریقوں کی نشان دہی کی ہے جنھیں بروئے کار لاکر جنگی جرائم نیز ذمہ دار اداروں کی لاپرواہی کے چنگل سے عراق کی تاریخ اس کی ثقافت اور موجودہ آثار قدیمہ کو بچایا جاسکتا ہے۔ باوجودیکہ اس ناول کا اصل موضوع آثار قدیمہ نہیں ہے اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی تفصیل بیان کی گئی ہے لیکن عراق کی عام علمی اور ثقافتی حالت کی مکمل تصویر کشی کی گئی ہے اور یہی حال تقریبا سارے عرب ممالک کا ہے۔ اسی عام علمی اور ثقافتی پیراے میں آثار قدیمہ کے حوالے سے بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ صرف ایک عراق کا ہی مسئلہ نہیں جہاں کے آثار قدیمہ کو تباہ وبرباد کیا گيا بلکہ اس سے خراب صورتحال سوریا کے آثار قدیمہ اور لیبیا وغیرہ عرب ممالک کی بھی ہے جہاں یا تو آثار قدیمہ کو قصدا تباہ کردیا گيا یا پھر اس میں موجود قدیم چیزوں کو لوٹ لیا گیا۔ ہمارے سعودیہ میں بھی کچھ ایسے ہی حالات ہیں جہاں ایسے لوگ ہیں جو یہ تمنا کرتے ہیں کہ سارے آثار قدمیہ کو لوٹ لیا جائے اور یہ ہمیشہ کے لئے نظروں سے اوجھل ہوجائیں۔ آثار قدیمہ کے حوالے سے ان کے پیچھے ایک عجیب وہم لگا ہوا ہے کہ لوگ پھر سے ان آثار قدیمہ اور قبروں کی عبادت اور ان سے تبرک حاصل کرنے لگیں گے۔ میں نے خود شخصی طور پر اسے اس وقت محسوس کیا جب میں نے حاتم طائی کے گھر کی بعض تصویریں ٹیوٹر پر ڈالیں تو بعض لوگوں نے مجھے قبروں کی زیارت اور ان سے برکت حاصل کرنے پر ابھارنے کا الزام لگایا۔ یہ سبھی کو معلوم ہے کہ یہ ایک عام الزام ہے جس کا شکار کئي سرکاری ادارے ہوچکے ہیں جس میں سرفہرست سعودی کمیشن برائے سیاحت اور آثار قدیمہ ہے جسے متعدد مورچوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے، جو کبھی اپنی سرگرمیاں تیز کردیتا ہے تو کبھی ایکدم سست پڑجاتا ہے، حاتم طائی کی قبر کی حالت جس کا میں نے اوپر ذکر کیا اس کے سستی اور لاپرواہی کا ہی نتیجہ ہے۔ بہرحال جو لوگ آثار قدیمہ کے حالالت سے باخبر ہیں وہ جانتے ہیں کہ آثار قدیمہ کو درپیش کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ ایک طرف اس کی حفاظت کا مسئلہ ہے تو دوسری طرف زائرین کے ہاتھوں اسے خراب ہونے سے بچانا ہے، تیسری طرف ان چوروں سے ہوشیار رہنا ہے جن کی یہ کوشش رہتی ہے کہ ان آثار قدیمہ میں سے جتنا ہوسکے چوری کر لی جائے۔ آثار قدیمہ کے احوال سے باخبر افراد کو ان پریشانیوں کا بھی اچھے طریقے سے ادراک ہے جو ان کوشش اور سعی کا احاطہ کئے ہوئے ہے جن کے ذریعہ نہ صرف ان آثار قدیمہ کا انکشاف کیا جاسکتا ہے بلکہ ان کی شدت پسندوں، چوروں سے حفاظت اور تاجروں کے ہاتھوں میں جانے سے بھی انھیں بچایا  جا سکتا ہے۔

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

متعلقہ عنوانات‬:, ,
شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>