اس كے ساتھ ايک امید افزا بحث وتحقيق كے ميدان كا وجود عمل میں آیا جس كا مقام ہمارے معاشرے كى ترقيوں كے مابين ہے. - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: پیر, 7 نومبر, 2016
0

اس كے ساتھ ايک امید افزا بحث وتحقيق كے ميدان كا وجود عمل میں آیا جس كا مقام ہمارے معاشرے كى ترقيوں كے مابين ہے.

اسلام كى انسان دوستی

16-2

كازابلانكا: العلوى رشيد

محترمہ صبا محمود کى پيدائش سن 1962ء ميں ہوئى ہے، وه ايک پاکستانی نژاد امريكن انسان دوست خاتون ہيں،  فرانكوک نامى مدرسہ كی تيسرى نسل سے تعلق ركهنے والى ايک معاصر ناقد اور محقق ہيں، اور انہيں مشرق وسطى كے سیاسی اور انسانى نقطۂ نظر پر مبنى مسائل سے دلچسپى ہے- وه مشرق وسطی اسٹڈیز سینٹر اور جنوبی ایشیا اسٹڈیز انسٹی ٹیوٹ كى ركن بهى ہيں- ان كى خدمات مسلم اکثریت پر مشتمل معاشروں ميں مركوز ہيں، اور اخلاق وسياست، دين وسیکولرازم كے مابين تعلق، عورتوں كا مقام اور معاشرے ميں ان كا كردار سے متعلق بهى ان كى كچھ خدمات ہيں۔

محترمہ صبا فى الحال صوبۂ بيركلى كے کیلی فورنیا یونیورسٹی ميں اسسٹنٹ لیکچرر كى حيثيت سے اپنى خدمت انجام دے رہى ہيں جبكہ اس سے قبل چار سال كى مدت تک ماہر تعمیرات كى حيثيت سے خدمت انجام دے چكى ہيں، ليكن ان كى دلچسپى انسان سے متعلق بحث وتحقيق سے ہے، اور خاص كر اسلامى انسان دوستى سے ان كا گہرا تعلق ہے- يہ اس وقت كى بات ہے جب وه شروع ميں سٹینفورڈ یونیورسٹی ميں ايم اے كى طالبہ تهيں اور اپنے طلال الاسد نامى ايک ايسے استاذ كے پاس زانوۂ تلمذ تہ كر رہى تهيں جنہوں نے ان كى تعلیمی اور  یونیورسٹی كے دور ميں بڑا ہى اہم كردار ادا كيا تها، اور ناثان شنايدر كے ساتھ اپنى ہوئی گفتگو كے سلسلہ ميں كہتى ہيں كہ ميں چار سال كى مدت تک ماہر تعمیرات كى حيثيت سے خدمت انجام دے رہى تهي، پهر ميں نے اسلامى معاشره ميں سياسى اور اجتماعى منظرنامہ پر ہونے والى تبديليوں ميں غور وفكر كى وجہ سے ايم اے مكمل كرنے کا عزم مصمم كيا، اس وقت ميں اسلام دوستى كے بارے ميں بہت كچھ نہيں جانتى تهي، اسى وجہ سے ميں نے ايم اے ميں علم سياست كا انتخاب كيا كيونكہ يہ علم يورپ كا مركزى توجہ بن چكا تها، پهر مجهے احساس ہوا كہ یہ فنِ تخصص ميرے سؤالات كے جوابات دينے سے قاصرہے، اور ميرے پاس اس علم انسانى ميں داخل ہونے كے لئے كافى معلومات تهے جو بعد ميں ميرا تخصص بن گيا، وه اس وقت يہ سوچتى تهيں كہ ان كا كسى دوسرے فن ميں تخصص کرنا ان كى سرگرميوں کا استيعاب كريگا ليكن علم انسانى نے مجهے مسئلۂ اختلاف كو اچهے انداز ميں سمجهنے کا موقع فراہم كيا، كيونكہ مسلمانوں كے سماج ومعاشرے سے متعلق اس فن كى كتابوں نے عورتوں كے كردار سے غفلت برتا اور خاص طور پر ثقافتی اور مغربی سماجی اقدار کى وجہ سے کسى دوسرى چيز كے بحث وتحقیق كا اہتمام كيا۔

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

متعلقہ عنوانات‬:, ,
شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>