بغير آپريشن كے ایک گهنٹہ سے كم كى مدت ميں چہروں كو دھاگوں سے باندھنے كا سب - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: پیر, 7 نومبر, 2016
0

بغير آپريشن كے ایک گهنٹہ سے كم كى مدت ميں چہروں كو دھاگوں سے باندھنے كا سب

سے بہترين طريقہ

21-2

لندن: جوسلين إيليا

عورتوں اور مردوں دونوں كا جنون ایک ہی ہے وه ہميشہ ظاہرى مظہر كے ركھ ركهاؤ ميں مشغول رہتے ہيں  اور يہ چاہتے ہيں كہ بڑهاپا کبھی آئے نا  اور ان كى ايک بڑى تعداد سرجری يا آپريشن كراتی ہے تاكہ ان كی جوانى كے دن لوٹ آئيں اور ان كے چہروں پر پڑى جهرياں اور نشانات ختم ہو جائيں پھر وہى تازگی اور خوبصورتى لوٹ آئے۔

آج ڈاكٹرى كى دنيا ميں کاسمیٹک سرجیکل آپریشنز اورغیر سرجیکل کاسمیٹک طریقہ کار دونوں ہى بہت زياده مطلوب ہيں اور اس حد تک مطلوب ہيں كہ سرجنوں اور ڈاکٹروں كى ایک بڑى تعداد نے ميڈيكل كے بہت سارے ميدانوں ميں اپنے تخصص كو چهوڑ كر کاسمیٹک سرجیکل آپریشنز يا غیر سرجیکل طریقہ علاج  كے ميدان ميں منتقل ہوئے ہيں.

چہرے كى ہلكى جھریاں ختم كرنے كے لئے لوگوں كى توجہ کاسمیٹک غير سرجیکل طریقہ علاج  كى طرف بہت زياده ہے، كبهى تو وه بوٹوکس يا فيلرز كے سوئياں لے كر يا كبهى دهاگوں كے ذريعہ سلائى كر كے اس عمل كو انجام ديتے ہيں۔ يہ علاج دنيا ميں بہت تیزی كے ساتھ ترقى کرنے اور منتشر ہونے والا ہے۔ اس كا نام Facelift Threading يا Threadlift Soft Silhouette ہے۔ چہرے كو سينے كا عمل بہت زياده قيمتى دھاگوں سے ہوتا ہے، ان قيمتى دھاگوں كو ڈاكٹر جلد كے ایک طرف سے دوسرى طرف نكالتا ہے، چنانچہ اس كى وجہ سے دو چهوٹے سوراخ ہو جاتے ہيں، پهر ڈاكٹر بڑى ہى باریک بينى كے ساتھ ان دھاگوں كو دونوں طرف سے سی كر كاٹ ديتا ہے، اس طرح بغير آپريشن كے چہره  ميں تازگی آجاتى ہے اور جھرياں ختم ہو جاتى ہيں۔

سوئٹزرلینڈ كے مونٹرو نامى علاقہ كے ڈاكٹر سيرج لى هو (Serge Le Huu)  كے "لا كلينيك”(Clinic La) ميں ان سے ملاقات كے دوران انہوں نے ايک ويڈيو دكها كر اس عمل كى كيفيت كو واضح كيا اور بتايا كہ اس عمل ميں ایک گھنٹہ سے كم وقت صرف ہوتا ہے اور بيمار اس علاج كے فورا بعد ہى سے بغير آرام كئے اپنے كام ميں مشغول ہو سكتا ہے، كيونكہ يہ عمل نيا سمجھا جاتا ہے ليكن يہ ہے قديم عمل، اس كا آغاز ستّر کی دہائی ميں شروع ہوا تها۔ یہ عمر بڑھنے  کے ساتھ ساتھ پیدا ہونے والى جھریوں اور ڈهيلے پن كى بيمارى كو بھی ختم كرنے ميں معاون ثابت ہوتا ہے اور اس علاج كو بغير نئے دهاگوں كے استعمال كئے ان ہی پرانے دهاگوں كو  كهينچ كر دوہرايا جا سكتا ہے۔

          ڈاکٹر لى هو کا کہنا ہے کہ اس میدان میں سائنسی ترقی بہت ہی امید افزا ثابت ہوئی ہے کیونکہ دھاگوں کے ذریعہ علاج جیسا کہ میں نے کہا کہ اس کا آغاز تو ستّر کی دہائی میں ہو چکا تھا لیکن اس وقت دھاگا کافی موٹا ہوا کرتا تھا اس وجہ سے یہ علاج باریک جلد والوں کے حق میں مفید نہیں ہوا کرتا تھا جیسے کہ یورپ کے باشندوں کی جلد ہوتی ہے، کیونکہ ان کے جلد کے اندر اس دھاگے کو دیکھا جا سکتا تھا لیکن ترقی کی وجہ سے بہت ہی باریک نئے دھاگے وجود میں آچکے ہیں جس کے ذریعہ بہت ہی باریک پلاسٹک کے چھوٹے ٹکڑے کو گزارا جا سکتا ہے، اس کا نام Bi Cones Directional   ہے۔ اس کا کام سلنے کے بعد دھاگے کو اپنی جگہ پر ثابت رکھنا ہے، اسی کے ساتھ ساتھ وہ کولیجن نامی مادہ فراہم کرنا ہے کیونکہ یہ سوزش کی ایک کیفیت پیدا کرتی ہے جسکی وجہ سے جلد خود اپنا دفاع کولیجن کی مدد سے کرتی ہے اور یہ کولیجن پھولنے کی صلاحیت کو پیدا کرتی ہے۔ اسی کو تازگی سے تعبیر کرتے ہیں اور ان چھوٹے اجزاء میں پولیٹک ایسڈ ہوتا ہے جسے انسانی جسم بغیر کسی نقصان کے حاصل کرتاہے۔

ہمارے سوال کا (جب علاج تکلیف دہ ہو تو) جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر سيرج لى هو نے کہا کہ بےہوش کرنے والی دوا کو ان نقطوں پر رکھا جاتاہے جہاں سوئی میں پیوست  دھاگے کے ذریعہ سوراخ کیا جائیگا اور عام طور پر چہرے کے دونوں طرف چار نشان لگائے جاتے ہیں ایک ٹھوڑی کے قریب آنکھ  اور  چہرے کے نچلے حصے کے درمیان اور اس سے سائڈ پروفائل کی واپسی میں تعاون ہوتا ہے اور جس کی وجہ سے جلد نیچے کی طرف نہیں لٹکتی ہے.

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس علاج سے ایسا نہیں لگتا ہے کہ جلد بہت زیادہ کھچی ہوئی ہے جیساکہ آپریشن میں ہوتا ہے کیونکہ اس کا مقصد ہی یہی ہے کہ جلد نیچے کی طرف لٹکتی نظر نہ آئے، لیکن فطری اور واقعی طور پر اور علاج کی کامیابی کے لئے یہ ضروری ہے کہ ایسا نہ ہو کی بیمار کی مختلف شکلیں نظر آنے لگیں اور اس کے چہرہ پر پہلے کے مقابلہ میں زیادہ تازگی اس طور پر ہو کہ یہ سوال کھڑا ہو کہ کیا اس شخص نے کوئی سرجری کرائی ہے یا نہیں اور تاکیدی طور پر یہ نہ کہا جائے کہ اس نے سرجری کرائی ہی ہے۔

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

متعلقہ عنوانات‬:, , , ,
شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>