باسیل: عون "حزب اللہ" کے حلیف تھے- اور آج سارے لبنانیوں کے حلیف ہیں - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: بدھ, 9 نومبر, 2016
0

باسیل: عون "حزب اللہ” کے حلیف تھے- اور آج سارے لبنانیوں کے حلیف ہیں

لبنانى وزیر خارجہ نے "الشرق الاوسط” سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تاکید کی ہے کہ ان کا ملک سعودی عرب سے بہتر تعلقات بنانے کا خواہاں ہے

faraz

بیروت: ثائر عباس

     لبنان کے وزیر خارجہ جبران باسیل نے اپنے ملک کی سعودی عرب کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کی رغبت ظاہر کی ہے- انہوں نے اس بات کی بھی تاکید کی ہے کہ دونوں ملکوں کے تعلقات کے دن اچھے ہوتے جا رہے ہیں- انہوں نے سعودی عرب کے لبنان کے ساتھ بہتر تعلقات کی امید بھی ظاہر کی اور یہ کہ لبنان سعودی عرب کا مہمان نواز اور وہاں کے تمام باشندوں کا خیرمقدم کرتا ہے تاکہ اس کے ساتھ تعلقات بہتر ہوں اور ہم طبیعی کیفیت کی طرف اس طرح  پلٹ جائیں جس میں لبنان اور سعودی عرب دونوں کے مابین خیر وبھلائی ہو اور اس موضوع میں دونوں کا مستقبل تابناک اور روشن ہو”۔

     باسیل (جو کہ موجودہ صدر العماد میشل عون کے داماد ہیں اور ان کے دایاں ہاتھ بھی) نے "الشرق الاوسط” کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ عربی دنيا کی جانب لبنانی صدر کی نگاہ "مثبت پہلو سے بھی زیادہ” ہے-

     انہوں نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ صدر عون (حزب اللہ) کے حلیف تھے جب وہ پارلیمانی تبدیلی واصلاح گروپ کے صدر تھے، لیکن اب وہ ملک کے صدر منتخب ہو گئے اسلئے تمام لبنانیوں کے حلیف بن گئے۔

    ایک جانب جہاں باسیل نے یہ اعتراف کیا کہ جسے "حزب اللہ” کہا جاتا ہے وہ در اصل "شام میں مداخلت کرنے والی جماعتوں میں سے ہیں” وہیں پر یہ بھی کہا کہ یہ صورت حال کافی تکلیف دہ ہے اور اس بات کا مطالبہ کرتی ہے کہ تمام جماعتیں وہاں سے مکمل طور پر نکل جائیں اور شام کو شامی عوام کے حوالے چھوڑ دیں تاکہ موجودہ فوجی صورت حال نیز دہشت گردی کی جنگ کا خاتمہ ہو اور شام میں ایسا نظام قائم ہو سکے جو تمام شامی عوام کو خوش رکھ سکے۔

     باسیل نے اس بات کی بھی تاکید کی کہ وزیر اعظم سعد الحریری کے ساتھ کسی بھی لبنانی کے خلاف کوئی سودا نہیں ہے، انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ لبنان کی تمام سیاسی دھڑوں کے مابین مکمل طور پر تعاون ہے، انہوں نے اس بات کو بھی تسلیم کیا ہے کہ یہی تعاون ہی کامیابی وکامرانی کا ضامن ہے، ایسا نہ ہونے کی صورت میں عہدوپیمان، حکومت اور ملک میں ناکامی کے سوا کچھ ہاتھ آنے والا نہیں ہے۔

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>