ماسکو کی جنگ بندی کا جواب۔۔۔اپوزیشن "حلب کا معرکہ نمبر 2" شروع کر رہی ہے - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
به قلم:
کو: بدھ, 9 نومبر, 2016
0

ماسکو کی جنگ بندی کا جواب۔۔۔اپوزیشن "حلب کا معرکہ نمبر 2” شروع کر رہی ہے

"رقہ” کے بارے میں "جمہوریہ شام” اور ترکی کے مابین سخت کلامی

1478194863983881300

بولا اسطیح : بیروت

سعید عبد الرزاق : انقرہ

شامی اپوزیشن فورسز نے کل حلب شہر کے مشرقی محلوں میں محاصرے کو ختم کرنے کے معرکہ کے دوسرے مرحلے کا آغاز کیا، یہ فوجی رد عمل روسی فوج کی جانب سے حلب میں آج جمعہ کی صبح سے دس گھنٹوں کیلئے یک طرفہ جنگ بندی کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا  ، جس کا مقصد اپوزیشن جنگجوؤں کو شہر سے نکالنا ہے ۔

جھڑپیں شہر کے مغرب میں پھوٹ پڑیں، اور یہ 1070 اپارٹمنٹ اور 3000 اپارٹمنٹ کے پروجکٹ کے محوروں اور اسد ، حلب اور منیان کے مضافات  تک مرکوز رہیں ۔ حلب میں عسکری کمانڈر نے "الشرق الاوسط” سے بات کرتے ہوۓ کہا کہ: "اس وقت اپوزیشن فورسز نیو حلب کے محلوں اور 3000 اپارٹمنٹ کے پاس پائی جاتی ہیں ، یہ دونوں بہت بڑے اور اسٹریٹجک پوائنٹ کے حامل محلے ہیں ۔  ان پر کنٹرول حاصل کرنے کی صورت میں ہم مشرقی محلوں سے محاصرہ ختم کرنے کی 70 فیصد کاروائی سے آگے بڑھ جائیں گے "۔

یہ تغیرات روسی جنگ بندی سے پہلے سامنے آۓ جس پرآج صبح سے عمل کیا جانا ہے ۔ روسی وزارت دفاع نے براہ راست اپوزیشن قیادتوں کو متوجہ کرتے ہوۓ شہر میں  تمام جنگی کاروائیاں روکنے اور شہر سے دو گزرگاہوں : ایک شہر ادلب کی جانب  اور دوسری شامی ترکی سرحدوں کی جانب نکل جانے  کا مطالبہ کیا۔

دریں اثناء، "جمہوری شامی فورسز” کے واشنگٹن کے حمایت یافتہ کرد اکثریتی میلیشیا دستوں نے اپنے  ترجمان طلال سلو کی زبانی     کل اعلان کیا کہ وہ شام میں  تنطیم داعش کے گڑھ شہر رقہ کی آزادی کے لیے عسکری کاروائی کی  خود قیادت کریں گے اور اس میں ترکی شامل نہیں ہوگا۔ سلو کے بیانات پر ترکی کے سفارتی  ذرائع نے جواب دیا : رقہ کو آزاد کرانے کیلئے امریکی ذمے داران کے ساتھـ ابھی تک مذاکرات اور ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ذرائع نے "الشرق الاوسط” سے بات کرتے ہوے کہا کہ یہ مذاکرات انکی افواج، بین الاقوامی اتحادی افواج اور رقہ کی آزادی  کی کاروائی میں شامل عناصر کے مابین تکنیکی تفصیلات اور یکجہتی  پر مرکوز ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ انقرہ  نے کاروائی میں کرد فورسز کی عدم شرکت کے بارے میں  اپنا موقف تبدیل نہیں کیا ۔

متعلقہ عنوانات‬:, , ,
شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>