سعد لمجرد: فن اورسياست - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
مشاری الذایدی
کو: بدھ, 9 نومبر, 2016
0

سعد لمجرد: فن اورسياست

ان دنوں مراکشی گلوکار "سعد لمجرد” مراکشی فن کی دنیا کا مشہور نام ہے، یہ شہرت ان کے عرب دنیا میں رقص وسرور والے نغمے ” الضاربة : زبردست ” کی وجہ سے ہی نہیں بلکہ فرانسیسی عدلیہ کے ساتھ درپیش ان کی مشکل کی وجہ سے ہے۔ گلوکار پر ایک الجزائری نژاد فرانسیسی لڑکی پر حملہ کرنے اور اسے حراساں کرنے سے متعلق الزامات لگائے گئے ہیں جو کہ پیرس کی میوزیکل کنسرٹ کے شروع ہونے سے پہلے ہے۔ یہاں تک تو یہ معاملہ واقعات اور گرما گرم فنی خبروں کے صفحات کے موضوع کیلئے بہترین ہے، لیکن سعد لمجرد کے ساتھـ جو ھوا اس پر مراکشی گلوکار کے وکیل کا تبصرہ عرب ملک کے بارے میں ” علاقائی سازش ” کی جانب توجہ مبذول کراتا ہے ۔

          وکیل کے تبصرے کے مطابق ہم نہیں جانتے کہ اس سازش کے پیچھے کون ہے، اگرچہ! اشارہ واضح ہے لیکن فنکار کی برأت یا سزا سے صرف نظر یہ معاملہ عدلیہ پر چھوڑتے ہیں ۔

سوال: فنکار کے عمل اور یہ فن ہے! اور سیاست کے بازار میں نام، قدر، فنکار کی علامت، افکار کی مارکیٹنگ اور معین رجحانات کے مابین حد فاصل کب رکھیں؟

حقیقت اس بات کا تقاضہ کرتی ہے کہ فنکار اور سیاست کے مابین تعلق نہ صرف عرب بلکہ پوری دینا میں قدیم اور تجدد پذیر ہے- بائیں بازو کے مارکسی مشہور سکرپٹ رائیٹر "ڈالٹن ٹرامپو” کی سوانح حیات پر ایک خوبصورت امریکی فلم ہے جو بائیں بازو کا مارکسی تھا , کمیونزم پر امریکی مارکسی حملوں کے عروج پر بعض فنکاروں اورہالیووڈ کی کمیونٹی کی سازش کی وجہ سے اسے اور اس کے بعد بعض ساتھیوں کو کام سے محروم کردیا گیا، ان میں مغربی فلموں کا مشہور اداکار "جون وائن” بھی شامل تھا ۔

          عرب دنیا کی جانب واپس آتے ہیں مثال کے طور پر مصر کو لیجیے، جنوری کے اس جھونکے کے بعد فنکاروں کے مابین سیاسی اختلافات کا اکھاڑہ تھا جو اخوان کی حکمرانی کا باعث بنا ۔ پھر مخالف جھونکے نے اخوان کو چلتا کر دیا ۔ اور اسکی تفصیلات معروف ہیں کہ مصری فنکاروں میں کون مخالف تھا اور کون حمایتی۔ مصر کا ذکر کرتے ہوئے شاید کچھ فنکاروں کی جانب سے سیاسی وابستگی کا اشارہ کرنا بہتر ہوگا مثال کے طور پر سیاہ وسفید کے دور میں ان فنکاروں میں حسین صدقی (ت – فروری 1976ء) جو کہ اخوانی جماعت سے عقیدت رکھتے تھے اور حسن البنا اور سید قطب سے تعلقات بھی تھے۔ حمدی احمد (ت – جنوری 2016 ء) جو بائیں بازو کے سرگرم تھے اور سادات کے دور میں پارلیمانی ممبر بن گئے ۔

تقریبا سب جانتے ہیں کہ لبنان میں کون نصر اللہ یا عون کے ساتھ ہے، اور کون جعجع یا الحریری کے ساتھ، اور اس تعلق کا فخر سے واضح اعلان کررہا ہے۔ اسی طرح شام میں فنکاروں کے بیچ "انقلابی” یا حکومتی ہونے کی درجہ بندی ہے۔

‎          یہ رجحان موجود ہے، بعض فنکار شعوری جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہیں کیونکہ وہ "سیاسی” ہوتے ہیں اور کچھ رعب یا شوق کی وجہ سے اور بعض سادہ ہوتے ہیں جو اپنی موجودگی کو ظاہر کرنا چاہتے ہیں وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ انہیں عوامی پذیرائی کا فائدہ دے گی اور بعض فنکاروں کو انتظامیہ، سیاستدانوں یا معاشرے کی جانب سے کوئی معینہ موقف اختیار کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

یہی فنکارانہ سیاست ہے۔

مشاری الذایدی

مشاری الذایدی

مشاری الذیدی (مولود 1970) کا شمار ایک ماہر صحافی، سیاسی تجزیہ نگار اور مضمون نگار کی حیثیت سے ہے، سعودیہ عربیہ کے رہنے والے ہیں اور فی الحال کویت میں مقیم ہیں، متوسط درجے کی کارکردگی اور مذہبی جذبات کے ساتھ ان کی فراغت سنہ1408 هـ میں ہوئی، وہ اسلامی سرگرمیوں، موسم گرما کے مراکز اور لائبریریوں میں پیش پیش رہے ہیں اور اسی کے ساتھ ساتھ مقامی عرب پریس، دیگر پروگرام اور اسلامی انتہاپسندی کے موجودہ مسائل پر ایک ماہر صحافی اور قلمکار کی حیثیت سے حصہ لیا ہے ۔

More Posts

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>