الیکشن سے 5 دن پہلے کلنٹن اور ٹرامپ کے مابین پوائنٹس میں قربت - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
به قلم:
کو: بدھ, 9 نومبر, 2016
0

الیکشن سے 5 دن پہلے کلنٹن اور ٹرامپ کے مابین پوائنٹس میں قربت

باراک اوپاما کی اپنی سابق وزیر خارجہ کا ساتھ دیتے ہوئے ووٹروں کو جمہوریت کی حمایت کرنے کی دعوت

1478195687633960100

واشنگٹن: ہبہ قدسی

      امریکی صدارتی الیکشن سے 5 دن پہلے ایک ریفرنڈم کے مطابق دونوں صدارتی امیدوار ڈیموکریٹک ہیلری کلنٹن اور جمہوری ڈونالڈ ٹرامپ کے مابین پوائنٹس میں کمی ہوئی ہے حالانکہ کلنٹن کو اپنے حریف کے مقابلے میں تھوڑی سی برتری حاصل ہوئی ہے۔

      نیویارک ٹائم میگزین اور سی بی اس کی ویب سائٹ کے ایک ریفرنڈم کے مطابق، جس کا رزلٹ کل شائع ہوچکا- کلنٹن کو 45٪ اور اس کے مقابلے میں ٹرامپ کو 42 ٪ ووٹ مل گئے ہیں۔

      نیویارک ٹائم اور سی بی اس کے ایک سابقہ ریفرنڈم، جو پچھلے ماہ 19/اکتوبر کو شائع کیا گیا تھا، کے مطابق کلنٹن کو ٹرامپ پر 9 پوائنٹ (38٪ کے مقابلے میں 47٪) سے برتری حاصل ہوئی تھی، لیکن یہ فرق آخری دنوں میں بہت کم ہوگیا جب فیڈرل تحقیقاتی ادارے کے ڈائرکٹر جیمس کومی نے سابقہ وزیر خارجہ کے اپنے خاص ایمیل کے استعمال کرنے پر دوبارہ تحقیق کرنے کا اعلان کیا۔

      اس دوران جمہوری کیمپ بحال کرنے کے لئے ان عوامی ریفرنڈم  نے یہ امید ظاہر کی ہے کہ اس کی امیدوار ملک کی تاریخ میں اپنے شوہر کی کامیابی کے 24 سال بعد پہلی صدر بنے گی۔

      کلنٹن کی تھوڑی سی برتری کو ظاہر کرنے والے اس آخری عوامی ریفرنڈم نے ایشیائی اور یورپی اسٹاک مارکیٹوں میں استحکام دینے میں ایک اہم کردار ادا کیا-

        دوسری جانب باراک اوپاما نے اپنی سابقہ وزیر خارجہ کے حق میں حمایت کرنے کی کوشش تیز کردی ہے۔ انہوں نےصوبہ شمالی کارولینا کے چابل ہیل کی ایک ریلی میں یہ کہا: جمہوریت کی باگ ڈور اب آپ لوگوں کے سامنے ہے۔ تاریخ رقم کرنے کا سنہرا موقع آپ کے پاس ہے۔ خوف وہراس کو بالائے طاق رکھیں اور امید کی کرن کو گلے لگائیں! اور اپنا صدر چنیں۔ انہوں نے ٹرامپ کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے یہ اشارہ کیا کہ ان کی کامیابی کی صورت میں ملکی استحکام اور امن وسلامتی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے،  اس کے برعکس دونوں امیدواروں کے مابین ریفرنڈم میں سامنے آئے پوائنٹس کے فرق میں قربت  کا لحاظ کرتے ہوئے ریپبلکن کیمپ نے کسی بھی طرح کے تحفظ سے اپنا دامن جھاڑ لیا ہے۔

      ٹرامپ نے فلوریڈا میں دوران گفتگو اس بات پر زور دیا کہ کلنٹن کو منتخب کرنا "ایک بے مثال آئینی بحران” کا ضامن ہے، یہاں تک کہ تیسری عالمی جنگ بھی دور نہیں۔ انہوں نے فلوریڈا کے بنساکولا میں ایک ملاقات کے دوران یہ بھی کہا کہ "وائٹ ہاؤس سے ہم ضرور جیتیں گے، گویا کہ وہاں ہم ابھی سے ہی ہیں”، اس سے پہلے کہ وہ اپنے بارے میں باآواز بلند یہ کہہ چکا ہے کہ "ڈونالڈ صبر سے کام لو تاکہ دھیان برقرار رہے”۔

      دوسری جانب سے کلنٹن نے، جو اپنی خاص ایمیل والے مسئلے کو لے کر کمزور بھی پڑ رہی ہیں، ٹرامپ پر یہ الزام عائد کیا ہے کہ ان کی تو ساری زندگی تو ایسی گزری جس میں وہ عورتوں پر ہجوم کے ساتھ ہی ساتھ ان کی ناقدری کرتے رہے اور ان کی اہانت کرتے رہے۔ کلنٹن نے امریکی سوچ وفکر کو للکارتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ذرا تصور کریں کہ وہ (ٹرامپ) وائٹ ہاؤس کی آفس میں ہیں اور ان کے ہاتھوں میں جوہری خفیہ کوڈ ہے۔

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>