حوثی قیادتوں اور صالح نواز سرداروں کے مابین حیفان میں سخت اختلافات - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
کو: بدھ, 9 نومبر, 2016
0

حوثی قیادتوں اور صالح نواز سرداروں کے مابین حیفان میں سخت اختلافات

یمنی انقلاب نواز "مکہ” کو نشانہ بنانے میں شریک ہیں:”اسلامی تعاون”

aer5hyay45y5ey54y_0

جدہ: اسماء الغابری اور فیصل السعدی

عدن: عرفات مدابش

کل جدہ میں تنظیم اسلامی تعاون کی ایگزیکٹو کمیٹی کے ہنگامی اجلاس میں حوثی اور سابق صدر علی عبد اللہ صالح کی حمایتی ملیشیاؤوں کو ہتھیاروں کے ذریعے امداد دینے اور انہیں اسلحہ وبالسٹک میزائل خفیہ طور پر فراہم کرنے والوں کو "اسلامی دنیا کے مقدس مقامات پر در اندازی کرنے میں شریک” سمجھنے کی سفارش کی گئی  اور انہیں "واضح طور پر مسلکی فتنہ پرور قرار دیا گیا”۔

 آئندہ دو ہفتوں کے دوران مکہ مکرمہ میں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کی سطح کا ہنگامی اجلاس منعقد کرنے کا مطالبہ کیا گیا تاکہ حال ہی میں حوثیوں کی جانب سے مکہ مکرمہ کے علاقے کو بالسٹک میزائل کے ذریعہ نشانہ بنانے کے مقاصد کا جائزہ لیا جائے حالانکہ سعودی فضائی  ڈیفینس نے اسے ناکام بنا دیا تھا ، علاوہ ازیں بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ یمن میں ہتھیاروں کی خفیہ فراہمی میں ملوث افراد کی مذمت کرے

دوسری جانب، اطلاعاتی ذرائع کے مطابق حیفان ضلع میں "انقلابی ملیشیاؤں اور سابق صدر علی عبد اللہ صالح نواز  حمایتی سرداروں کے مابین سخت اختلافات پائے جاتے ہیں،اور یہ اختلافات اس حد تک بڑھ گئے کہ    ضلع حیفا ن کے علاقے اثاور کے رہائشی شیخ احمد عبد المجید اور شیخ سعید عبد الحافظ ملیشیاؤوں کو گرفتار کیا گیا، اور یہ وہ تھے کی جنہوں نے انقلابی ملیشیاؤوں کی ضلع میں داخل ہونے میں مدد کی تھی ، اور علاقے کے لوگوں کو انقلابی ملیشیا کی صفوں میں شامل ہونے کیلئے بھرتی کر رہے تھے۔

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>