ترکی کی "رقہ" سے محرومی - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
مشاری الذایدی
کو: جمعہ, 11 نومبر, 2016
0

ترکی کی "رقہ” سے محرومی

%d8%b5%d9%88%d8%b1%d8%a9-%d9%85%d8%b4%d8%a7%d8%b1%d9%89

ترکی کی "رقہ” سے محرومی

مشاری الذایدی

      عراقی شہر موصل میں داعش کے ساتھ جنگ اور اس کی جانشینی کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے اس کے لئے اچانک معرکے پھوٹ پڑے ، اور فوجی اتحاد  سامنے آنے لگے، اب یہی حال شامی شہر "رقہ”  کا ہے۔

      یہ بات ایک طرف ، لیکن بہت مشکل ہے کہ کوئی شخص (تیزترین) اور (معمولی) کامیابی کے حصول کی خاطر امریکی اوباما انتظامیہ کے انتخابی  پروپیگنڈے  کی غرض کو اپنے ذہن سے نکال سکے ، تاکہ امریکی راے دھندگان کو کہا جا سکے کہ یہ ہے ان کی انتظامیہ جو ان کے لیے داعش کے جانشین بغدادی کا سر لے آئی ہے جیسا کہ فلمی انداز میں القاعدہ کے زعیم اسامہ بن لادن کے قتل میں کیا گیا تھا ۔

      اوباما کے دور میں آخری لمحوں میں میٹر کے حساب سے امریکی بھاگ دوڑ سامنے آئی تاکہ تیزی کے ساتھ سیاسی اور فوجی فوائد ہاتھ  لگ سکیں، اسی "جلدبازی” کا ایک حصہ یمن میں اقوام متحدہ کا دباؤ جس میں ولد الشیخ کے منصوبہ کا قبول کیا جانا بھی شامل ہے۔

      اس کانا پھوسی سے زیادہ اہم ہے، وہ "سنجیدہ” فوجی جنگ جو پہلی بار عراق اور شام میں داعش کے خلاف، وہ بھی امریکی تعاون سے فضائی مدد، پلاننگ، ٹریننگ اور انٹلی جنس، عراقی فوج کی مؤثر انداز میں میدانی شراکت اور کردی بیشمرگہ – جس کو کہ انتہاء پسند عوامی جمگھٹے نے کسی امریکی لاپرواہی اور عراقی حکومت کی چھتری کے بغیر آلودہ کردیا ہے- کے ذریعہ انجام دی جارہی ہے.

      ترکی کو موصل کی جنگ سے دور کردیا گیا ہے جبکہ معاملہ  ایران کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے ۔ حیدر العبادی کے مطابق، جنہوں نے ترکی فوج کو دھمکی  دی کہ  ایرانی مداخلت حلال ہے کیونکہ یہ بغداد میں خود مختار حکومت کی طلب کی بناء پر ہے۔  اب یہی سیناریو شامی شہر ( رقہ) میں دہرایا جا رہا ہے ، جنگ رقہ سے قریب اب یہی منظر امریکی وزیر دفاع کارٹر کے ذریعہ دیئے گئے ایک فوری بیان کے مطابق شامی شہر "الرقہ” میں درپیش ہے، جبکہ عوام کی حفاظت کرنے والی فوج "کردی ملیشیات اور بعض عرب” نے یہ اعلان کیا ہے  کہ عملی طور پر جنگ شروع ہو چکی ہے۔

      ان ملیشیات کے اسپیکر طلال سلو کے بیان کے مطابق، خصوصی مشارکت عوام کی حفاظت کرنے والی یونٹس اور ترکی کو واضح طور پر اس سے دور رکھنا، امریکہ کا اس کے موافق ہونا جبکہ کارٹر نے اپنے ایک بیان میں عجیب وغریب یہ بات کہی: ہم ترکوں کے ساتھ بعد میں مشورے کریں گے!

      رقہ آپریشن کو "فرات کا غصّہ” نام دیا گیا، شاید  یہ شام کے شمال اور فرات کے مغرب میں ہوئے ترکی آپریشنز کے نام کا رد عمل ہو۔ ترکی کا مقصد داعش کے خلاف جنگ کرنے کے علاوہ صالح مسلم کے ملیشیات کی قیادت میں کردی وجود کے قیام کو روکنا بھی تھا۔

      رقہ کے معرکے کے بارے میں  صرف تن تنہا امریکہ ہی پرجوش نہیں ہے بلکہ فرانس، برطانیہ اور ترکی سب کے سب داعش کے خلاف جنگ کرنے اور اسے توڑنے  پر متفق ہیں،  لیکن ان کا اختلاف اس میں ہے کہ اس جنگ میں اور جنگ کے بعد قیادت کون کرے گا۔

      دوسرے لفظوں میں یہ کہ داعش کے خلاف جنگ ہونی ہی ہے، یہ ایک ضروری اور قانونی جنگ ہے جس پر سب کا اتفاق ہے اور بعض پارٹیوں – چاہے وہ جماعت یا قومیت یا دونوں پر مبنی ہوں- کے لئے میدانی اور سیاسی فوائد کے حصول کا ذریعہ ہے ۔

      اب یہ فوائد، چاہے عراق میں "عوامی جم گھٹہ” سے ہوں یا شام میں حفاظت کرنے والی یونٹس کے ملیشیات ہوں ، بات بالکل واضح ہے  یہ تمام ترکی کے حساب پر ہوں گے- شاید "داعش” اور غیر "داعش” کے خلاف شامی میدان میں ترکوں کو تاخیر سے اپنی آمد کے لئے قیمت چکانی پڑے  ۔ کیونکہ جو پارٹی میں تاخیر سے آتا ہے اس کے لئے بہت مشکل ہے کہ وہ کرسی حاصل کرسکے!

مشاری الذایدی

مشاری الذایدی

مشاری الذیدی (مولود 1970) کا شمار ایک ماہر صحافی، سیاسی تجزیہ نگار اور مضمون نگار کی حیثیت سے ہے، سعودیہ عربیہ کے رہنے والے ہیں اور فی الحال کویت میں مقیم ہیں، متوسط درجے کی کارکردگی اور مذہبی جذبات کے ساتھ ان کی فراغت سنہ1408 هـ میں ہوئی، وہ اسلامی سرگرمیوں، موسم گرما کے مراکز اور لائبریریوں میں پیش پیش رہے ہیں اور اسی کے ساتھ ساتھ مقامی عرب پریس، دیگر پروگرام اور اسلامی انتہاپسندی کے موجودہ مسائل پر ایک ماہر صحافی اور قلمکار کی حیثیت سے حصہ لیا ہے ۔

More Posts

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>