سفارت خانوں کی صنعاء سے عدن کی طرف منتقلی شروع اور "صومالیہ" سب سے پہلے نمبر پر - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
به قلم:
کو: جمعہ, 11 نومبر, 2016
0

سفارت خانوں کی صنعاء سے عدن کی طرف منتقلی شروع اور "صومالیہ” سب سے پہلے نمبر پر

حوثیوں کے ساتھ بگڑتے اختلافات کے دوران "صالح "کے اپنے اہل خانہ کو مسقط منتقل کرنے کی خبر

news-08-11-01_0

عدن: عرفات مدابش

      صومالیہ پہلا ملک ہے جو اپنا سفارتخانہ صنعاء سے یمن کے عارضی دارالحکومت عدن منتقل کر رہا ہے، یمنی وزارت خارجہ نے صومالی وفاقی حکومت  کے اس فیصلہ کا خیر مقدم کیا اور دیگر ممالک کو اس اقدام کی  پیروی کرنے کی دعوت دی ۔

      "یمنی وزارت خارجہ” کے ذمہ دار ذریعے نے بتایا کہ  صومالیہ کا یہ اقدام "قانونی حکومت کی حمایت کے ضمن میں آتا  ہے”-  انہوں نے بقیہ برادر اور دوست ممالک کو دعوت دی  کہ وہ بھی جلد از جلد اسی قسم کے اقدامات اٹھائیں- کیونکہ دارالحکومت صنعاء ابھی تک باغی انقلابی طاقتوں کے قبضے کے نیچے دبا ہوا ہے۔

       باوجودیکہ عربی اور غیر عربی تمام سفارت خانے صنعاء میں اپنی موجودگی کو برقرار رکھےہوئے ہیں، لیکن اکثرسفیر ہمسایہ ملکوں میں اپنے سفارت خانوں کے ذریعے اپنے سفارتی امور چلا رہے ہیں اور خاص طور پر سعودی عرب سے۔ ستمبر 2014ء میں حوثی ملیشیاؤں کے دارالحکومت صنعاء پر حملے کے دوران انقلابیوں نے بڑی تعداد میں سفارت خانوں میں توڑ پھوڑ کی اور انکی دستاویزات میں ردوبدل کیا جبکہ بعض معلومات کے مطابق انہوں نے ان میں سے کچھ سفارت خانوں کو جنگی انتظام کے مراکز میں تبدیل کردیا۔

      دوسری جانب یمنی باخبر ذرائع نے انکشاف کیا کہ سابق صدر علی عبد اللہ صالح نے اپنے خاندان کے اکثر افراد کو اقوام متحدہ کے ایک جہاز کے ذریعے صنعاء سے عمانی دارالحکومت مسقط بھیج دیا ہے، جن میں انکی اولاد، انکے بھائی کے بیٹے، انکی بیویاں اور پوتے شامل ہیں، یہ اس لیے کہ گذشتہ عرصے میں  انکے اور باغیوں کے مابین کشیدگی اور اختلافات میں اس وقت اضافہ ہوا جب حوثیوں نے جمہوری پاسبان فورس  پر مکمل کنٹرول کی کوشش کی۔

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>