"جمہوریہ شام" ترکی کی جانبداری اور رقہ معرکہ کا آغاز - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
کو: جمعہ, 11 نومبر, 2016
0

"جمہوریہ شام” ترکی کی جانبداری اور رقہ معرکہ کا آغاز

امریکہ کی حمایت سے "غضب فرات” نامی آپریشن نے شہر کو الگ تھلگ کرنا شروع کر دیا

1478448398390020100

انقرہ: سعيد عبد الرازق

      گزشتہ کل ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی زیرِ قیادت بین الاقوامی اتحادی طیاروں کی فضائی حمایت کے ساتھ "جمہوریہ شام کی فوج” نے تنظیم «داعش» کے شام میں آخری ٹھکانے "رقہ” پر قبضہ کرنے کے لئے ترکی کی جانبداری کے ساتھ ساتھ کاروائی کا آغاز کیا اگرچہ کچھ عرصہ قبل ترکی نے اعلان کیا تھا کہ وہ شہر جانے والے راستے میں «ڈھال فرات» تک اپنی کاروائی میں توسیع کرنے کے لئے پرعزم ہے۔ تشدد پسندوں کے علاقے میں "غضب فرات” نامی آپریشن کے دوسرے مرحلے کے ابتدائی حملے کا آغاز ہو چکا ہے۔ جس میں مشرقی اور شمالی جانب تین محاذوں پر 30 ہزار جنگجوؤں کی شرکت سے حملہ شروع ہو چکا ہے۔

      شامی کردی ذرائع نے «الشرق الاوسط» سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جس وقت موصل پر کنٹرول حاصل کرنے کا فیصلہ ہوا تھا اسی ہی وقت سے یہاں کاروائی کے آغاز کا فیصلہ دو ہفتوں پہلے "ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی طرف سے کاروائی کی حمایت اور تعاون کی یقین دہانی کے بعد ہو چکا تھا، لیکن "داعش” کے خلاف بین الاقوامی اتحاد میں امریکہ کے ایلچی "برٹ مارک غورک” نے کل اردن میں اپنے بیان میں کہا کہ یہ کاروائیاں ترکی کے تعاون سے کی جائیں گی۔

      رقہ سے 50 کلومیڑ شمالی جانب شہر عین عیسی میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں "غضب فرات” آپریشن کی خاتون ترجمان "جیہان شیخ احمد” نے کہا کہ: "ہم جمہوریہ شام کی فوجی جنرل کمانڈنگ میں رقہ اور اسکے مضافاتی علاقوں کو ایک بڑے فوجی حملے کے ذریعے دقیانوسی اور عالمی دہشت گرد ظالم قوتوں کے نمائندے "داعش” کے خون خرابہ سے آزاد کرائیں گے۔

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>