سب سے اچھا امیدوار اوباما کی روانگی - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
سلمان الدوسری
کو: جمعہ, 11 نومبر, 2016
0

سب سے اچھا امیدوار اوباما کی روانگی

urdu

سلمان الدوسری

چیف ایڈیٹر "الشرق الاوسط”

گرینج (جى ايم ٹى) ٹائم کے مطابق کل فجر کے وقت جب امریکی صدارتی الیکشن کے نتائج کا اعلان کیا جائے گا- تب پچھلے ہفتوں میں سب سے زیادہ اٹھنے والا یہ سوال ختم ہوجائے گا کہ اس خطے کے لئے کون شخص سب سے زیادہ مناسب ہے؟ ڈیموکریٹک امیدوار ہیلری کلنٹن یا ریپبلیکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ؟

کیا یہ وہی خاتون ہے جس نے صدر بارک اوباما کی انتظامیہ میں شرکت کی، پلاننگ کی نیز ان کی پالیسیوں کو نافذ کیا، یا وہ پہلا صدارتی امیدوار ہے جو اپنی قوم کے مختلف طبقوں کے حق میں اپنے اختلاف کا اعلان کرتا ہے، مسلمانوں، مہاجروں، معذوروں اور مکسیکیوں سے دشمنی ظاہر کرتا ہے، اپنی جنسی چھیڑچھاڑ پر فخر کرتاہے؟

شاید دونوں امیدواروں کی یہ خوش قسمتی ہے کہ وہ دونوں ایک ساتھ مقابلہ کر رہے ہیں، کیونکہ اگر ٹرمپ کے مقابلے میں کلنٹن کے علاوہ کوئی دوسرا ڈیموکریٹک امیدوار ہوتا تو وہ اس کا نصیب بہت ہی اچھا ہوتا، اور اسی طرح اگر ریپبلیکن کا امیدوار ٹراپ کے بجاۓ کوئی دوسرا ہوتا اور وہ ہیلری کلنٹن کے مقابلے میں ہوتا-

کلنٹن اور ٹرمپ کے درمیان انتخابی مباحثہ کے دوران، اس میں بحث کا معیار غیراخلاقی سطح پر پہنچنے سے قطع نظر اس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی، بہرکیف یہ ایک ایسا امر ہے جوس پر ان انتخابات میں کوئی توجہ نہیں دی گئی اور نہ ہی یہ کوئی حیران کن امر ہے، کیونکہ اس بحث و مباحثہ میں مشرق وسطی کے مسائل پر کوئی نئی بات سامنے نہیں آئی، مثال کے طور پر ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کی کے موقف کے بارے میں ٹرمپ نے واضح طور کوئی متبادل پیش نہیں کیا، جسے وحشیانہ طور پر انہوں نے خود ہی آڑے ہاتھوں لیا تھا-

جہاں تک کلنٹن کا تعلق ہے توانہوں نے ایک جانب سے تو معاہدے کا دفاع کیا پھر یہ اعتراف بھی کیا کہ ایرانی حکومت امن کے لیے خطرہ بن رہی ہے- انہوں نے اس جانب بھی اشارہ کیا کہ معاہدہ کی خلاف ورزی کی صورت میں ایران کے خلاف فوجی کار روائی بھی کی جاسکتی ہے، لیکن انہوں نے جوہری معاہدے کو حل کرنے کے لئے اب تک کوئی تفصیلی تجویز پیش نہیں کیا-

اگر ہم مجروح شام کی طرف جائیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ دونوں امیدواروں نے اپنے بحث و مباحثہ میں حالیہ تاریخ میں ہونے والی سب سے بڑی انسانی تباہی کے المناک پہلو کو نظرانداز کیا ہے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ دونوں اوباما کی پالیسی کے نقش قدم پر ہی پیہم چلنے والے ہیں جس کو "بےحسی کی حکمت عملی” کا نام دیا جاسکتا ہے-

اسی طرح سے سن 2003ء میں عراقی جنگ پھر وہاں سے سن 2011ء میں انخلا کے بارے میں دونوں امیدواروں کے مابین وہی حال برقرار رہا۔ افسوسناک ی بات تو یہ ہے کہ ٹرمپ اور کلنٹن کے درمیان ہوئے بحث و مباحثے زیادہ تر سابقہ امور سے متعلق ہی باتیں ہوئیں اور آئندہ آنے والی پالیسیوں سے متعلق کوئی تفصیلی بات سامنے نہیں آئی، نہ ہی اس جانب جس کی وضاحت آنے والے صدر کو اپنی عوام کے لئے اور دنیا کے سامنے افتتاحی خطاب میں کرنی ہوگی۔ سواۓ ان باتوں کے جو دونوں امیدوار پارٹی سے متعلق لیک ہوئیں، قطعی پالیسیاں نہیں جن پر آئندہ کی حکمت عملی کی بنیاد رکھی جاسکتی ہو-

سنہ 2009ء میں قاہرہ یونیورسٹی میں باراک اوباما کے ہوئے مشہور خطاب سے لے کر، ان کے اس ریڈ لائن کے جھوٹے وعدوں سے گزرتے ہوئے جس میں انہوں نے بشار الاسد کی حکومت کے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کرنے کی تعیین کی تھی، نیز ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کا اختتام جس کی حقیقت آشکارہ ہوکر کچھ اس طرح سامنے آئی کہ یہ اس نظام کا انعام ہے جسے بذات خود واشنگٹن نے دہشت گردی کو ہوا دیتے ہوئے تیار کیا ہے، میں یہ گمان نہیں کرتا کہ کوئی بھی شخص مشرقی وسطی میں صدر باراک اوباما کی پالیسیوں کو گمراہی اور تردد پر مبنی نہ گردانے-

یہ دیکھتے ہوئے کہ کلنٹن صدر کے لئے ایک آلے کی حیثیت رکھتی اور بارک اوباما کی انتظامیہ میں مکمل طور پر شریک تھیں، چاہے مشاورتی کردار نبھانے کی حیثت سے ہو یا وزیر خارجہ کے عہدے پر فائز ہونے کی حیثیت سے ہو۔ علاقوں کے فائلوں کو جسے ” بہارعربی: الربيع العربي ” سے موسوم کیا جاتا ہے اسے مینجمنٹ کرتے ہوئے واشنگن انتظامیہ نے اس مرحلے میں قدم رکھ دیا جس میں اس خطے کے بعض علاقوں میں خانہ جنگی چھڑ گئی، اس سے اچھائی کی امید کرنا کہ وہ اس سے اچھی پالیسیاں سامنے لائے گی جس پر پچھلے سالوں میں وہ قناعت کے ساتھ سرگرم رہی ہے یہ صحیح نہیں ہے-

دریں اثنا وہ انفرادی مثبت پہلو جو ہیلری کلنٹن کے پاس اس خطے کے لئے ہے، اور حالیہ میں اس خطے کی جو حالت ہے ان کے حریف کے مقابلے میں ان کا انفرادی مثبت پہلو کوئی حیرت انگیز نہ ہوگا۔ ۔ اس کے مقابلے میں سیاسی شخص (وہ کوئی بھی سیاسی شخص ہو) کے لئے یہ بات موزوں نہیں ہے کہ وہ ناسمجھ اور بدلتے ہوئے شخص بطور مثال ٹرمپ سے بازی لگائے۔ (بسا اوقات) حیران کن بات بھی سامنے آسکتی ہے اور وہ باراک اوباما سے کم بُرا ہوسکتا ہے، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ اس کے برخلاف (بسا اوقات) ہمارے سامنے ایسا امریکی صدر سامنے آئے جو ایسا شرپسند ہو جس کی مثال نہ ملتی ہو، (بسا اوقات) یہ بھی ممکن ہے کہ ہم کسی دن بیدار ہوں اور ایک نئی بری دنیا دیکھیں جس کی قیادت امریکہ کر رہا ہو۔ یقینی طور پر ٹرمپ میں وہ مناسب اشارے موجود ہیں کہ وہ برے صدر بن کر سامنے آئیں، تو کیا اس کو لے کر جُوا کھیلا جاسکتا ہے کہ کیا چیز ممکن ہے اور کیا چیز ناممکن ہے، یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ عربی دارالحکومتوں نے اب تک یہ بات نہیں سمجھی ہے کہ عالم عربی کے تیئیں ٹرمپ کے نظریوں کی حقیقت کیا ہے اور یہ کہ ان کی پالیسیاں حالیہ انتظامیہ کے مقابلے میں مثبت ہوں گی یا مزید بُری ثابت ہوں گی-

صدر باراک اوباما کی انتظامیہ نے اس خطے میں پچھلے آٹھ برسوں میں حلیفوں کی شراکت کو مستحکم بنانے سے زیادہ اگر مخالفین کے ساتھ رابطہ کرنے کی پالیسیوں پر دھیان دیا تو وائٹ ہاؤس میں آنے والا اگلا رہائشی اس بات کی بھرپور کوشش کرے گا کہ اس خطے سے دامن جھاڑ لینا یہ آپشن نہیں ہے، یا جیسا کہ ہیلری کلنٹن نے کہا: "یہ امریکہ کی بہت ہی بھیانک اور سنگین غلطی ہوگی کہ وہ اس کی ذمہ داری سے اپنا دامن جھاڑ لے یا اس کی باگ ڈور تھامنے سے باز آجائے” اس پہلو کو نظر انداز کرتے ہوئے کہ آئندہ وائٹ ہاؤس میں ٹھرنے والا نیا شخص کون ہوگا، اس خِطے کی بہت ہی شدت کے ساتھ سب سے پہلی دوسری دسویں خواہش ہی یہی ہے کہ حالیہ صدر کوچ کرجائیں جن کی پالیسیوں کی وجہ سے یہ پورا خِطہ خسارے سے کراہ اٹھا، ایسا کسی بھی سابقہ صدر نے نہیں کیا، لہذا آئندہ آنے والے صدر کی گہرائی اور اس کی حقیقت کو اچھی طرح سے سمجهنا چاہئے جو یقینی طور پر بہت ہی خوش قسمت ہوگا کہ وہ باراک حسین اوباما کے بعد آئے گا-

سلمان الدوسری

سلمان الدوسری

محترم جناب سلمان الدوسری صاحب نے بزنس ایڈمنسٹریشن اور معاشیات میں گریجویشن کیا ہے۔ انہوں نے اپنی صحافتی زندگی کا آغاز2004ء میں شرق الاوسط بحرین کے نامہ نگار کے طور پر شروع كيا تها- اس سے پہلے سن 1998ء میں ایس آر ایم جی میں ریاض کے اخبار الاقتصادیہ میں فری لائنس صحافی كى حيثيت سے كا كيا تها۔ سن 2006 میں انہیں شرق الاوسط متحدہ عرب امارات بیورو کے سینئر ایڈیٹر منتحب ہوئے۔ تین سال قبل الدوسری کو شرق الاوسط کے اشاعتی ہیڈ کوارٹرز لندن کا اسسٹنٹ چیف ایڈیٹر مقرر کیا گیا اور اکتوبر 2011ء میں الدوسری الاقتصادیہ کے چیف ایڈیٹر بن گئے۔

More Posts

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>