خلیجی ممالک کے سامنے دنیا میں چھٹا بڑا معاشی بلاک بننے کا  موقع - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
به قلم:
کو: جمعہ, 11 نومبر, 2016
0

خلیجی ممالک کے سامنے دنیا میں چھٹا بڑا معاشی بلاک بننے کا  موقع

سمجھوتوں پرجلد عملدرآمد کے مطابق  ترقی اور خوشحالی کے حصول کے لئے کوشش کر رہے ہیں: محمد بن سلمان "معاشی ترقیاتی ادارے” کے اجلاس میں

as

ریاض: شجاع البقمی

اور عبد الھادی حبتور

          ولی عہد کے ولی عہد، نائب وزیراعظم دوم اور سعودی وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان بن عبد العزیز نے یقین دہانی کی کہ؛ خلیجی تعاون  کونسل کے پاس موقع ہے اگر آئندہ سالوں میں بہتر انداز میں کام کرے تو وہ دنیا کا چھٹا بڑا معاشی بلاک بن سکتی ہے-

کل ریاض میں ولی عہد کے ولی عہد نے عرب خلیجی تعاون  کونسل کے ممالک کے معاشی ترقیاتی  امور کے ادارے کے پہلے اجلاس کے افتتاح کے موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ: "اس اجلاس کے ذریعے ہم چاہتے ہیں کہ ترقی اور خوشحالی کے حصول کی خاطر تعاون  کونسل کے ممالک کے رہنما اور انکی عوام مطلوبہ مقاصد کے حصول کے لئے آگے بڑھیں-”  شہزادہ محمد بن سلمان نے مزید کہا کہ پچھلے عرصے میں کئی کامیابیاں حاصل کی گئیں ہیں جس کا فائدہ ہمارے ممالک اور ہماری عوام کو پہنچا ،  تعاون  کونسل کے ملکوں میں معاشی خوشحالی وترقی کے حصول کو یقینی بنانے، رسد اور معاشی تحفظ کی ضمانت کے لئے اور بھی کئی مواقع پائے جاتے ہیں”-

          دوسری جانب خلیجی تعاون  کونسل کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر عبد اللطیف الزیانی نے یقین دہانی کی کہ؛ معاشی وترقیاتی امور کے ادارے کا یہ پہلا اجلاس سعودی ولی عہد کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی سربراہی اور كونسل  کے تمام رکن ممالک کی اعلی شخصیات کی موجودگی میں منعقد ہوا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ اجلاس میں ادارے کے  داخلی نظام، اسکی تمام شقوں اور ادارے کے عملی طریقۂ  کار سمیت اس بات پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا کہ کس طرح کونسل کے ملکوں کے مابین حکمت عملی اور معاشی یکجہتی کی پختگی کے لیے پروگرام کی تیاری ممکن ہوگی-

          اس کے جواب میں سعودی معاشی منصوبہ بندی کے وزیر انجینیئر عادل فقیہ نے کہا کہ؛ ملاقات کے دوران گذشتہ سالوں میں ہونے والے معاہدوں کو جلد مکمل کرنے پر اتفاق کیا گیا، یہ خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے اس تصور کو پورا کرنے کا عمل ہے جس کی رہنماؤں کی سابق ملاقات میں منظوری دی گئی تھی-

دوسری جانب شیخ ناصر بن حمد آل خلیفہ نے یقین دہانی کی کہ خلیجی تعاون  کونسل  کے معاشی وترقیاتی امور کا یہ پہلا اعلی سطحی اجلاس نتیجہ خیز رہا جس میں خلیجی معیشت کو بہتر بنانے کے لئے کئی ایک اہم نکات پر بحث کی گئی جو کونسل کے رکن ممالک  کے رہنماؤں کے تصور کے مطابق ہے-

اسی سیاق میں گذشتہ مارچ میں "ارنسٹ اینڈ ینگ” نے ( قوت یکجہتی ) کے عنوان سے ایک رپورٹ میں اشارہ کیا تھا کہ اگر آنے والے 15 سالوں میں خلیجی معاشی پیداوار میں2٫3 فیصد سالانہ کی شرح سے ترقی کی حفاظت کی جائے، تو ممکن ہے کہ وہ 2030 تک دنیا کی چھٹی بڑی معیشت بن کر جاپانی معیشت سے قریب تر ہوجائے ، ظاہری طور پر خلیجی تعاون کونسل کے ملکوں کی تجارت اور سرمایایہ کاری کو درپیش رکاوٹوں کا خاتمہ کرنا ہوگا ، ممکن ہے یہ علاقائی پیداوارکو 4٫3 فیصد یا تقریبا 36 ملیار ڈالر کو فروغ دے سکے-

          رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پیداوار کی صلاحیت  میں شرح منافع بیوروکریسی کی  رکاوٹوں کے خاتمہ پر منحصر ہے جو کہ اس ترقی کا تقریبا 96 فیصد بنتا ہے، اور اسکا فائدہ تمام خلیجی ممالک کو ہوگا-

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>