شاه عبد العزیز اور کتاب الیمن - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
مشاری الذایدی
کو: ہفتہ, 12 نومبر, 2016
0

شاه عبد العزیز اور کتاب الیمن

%d8%b5%d9%88%d8%b1%d8%a9-%d9%85%d8%b4%d8%a7%d8%b1%d9%89

مشاری الذایدی

      حالیہ وقت میں سعودی عرب حکومت کو تمام لوگوں کی جانب سے، خواہ وہ دانشمند ہوں یا غیر دانشمند ہوں سب سے زیادہ یہ نصیحت كي جا رہی ہے کہ وہ سعودی عرب کے داخلی اور خارجی مسائل کے دفاع کے لئے "میڈیا کی سرگرمی”۔ کو واجبی قرار دے

      ہمیں "نئی میڈیا پالیسی” کی ضرورت ہے۔ پچھلے دنوں میں بکثرت یہ بات کہ جانے کی وجہ سے ایک معمولی بات ہوگئ ہے ایسا ہر اس مسئلے کو لے کر ہوا جو امریکی قانون "گاستا” سے لیکر یمنی جنگ کا مسئلہ ہو یا حوثیوں اور صالح کا مخالف پروپیگنڈہ ہو، جس کو سنکر بہت سے عرب اور مغربی لوگ ڈھیلے پڑ جاتے ہیں.

      کیا یہ سب ملامت اور لعن طعن صحیح ہے؟ جہاں تک میرا خیال ہے کہ اس میں سے بعض تو صحیح ہیںلیکن بعض کاتو کوئی مطلب ہی نہیں ہے، یعنی یہ کہ کچھ لوگ ایسے ہیں جنہوں نے پہلے سے ہی یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ وہ آپ کے مقابلے میں دشمنی کا جھنڈا ہی لہرائیں گے خواہ آپ جو کچھ بھی کریں اور اپنے منصوبے کے مطابق میڈیا میں جو بھی تخلیق پیش کریں اور اس کی وجہ چاہے سیاسی ہو یا اس کا تعلق عقیدے سے ہو یا کوئی اور شخصی وجہ ہی کیوں نہ ہو۔

      بہرکیف، کچھ دونوں پہلے ہم نے ایک پرانی کتاب پڑھی، جس کو سعودی عرب کے ایک مؤرخ ڈاکٹر/محمد آل زلفہ نے نئے سرے سے شا‏ئع کیا، انہیں اس کتاب کے حاصل کرنے میں کافی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا نیز سنسر کرنے والے کے ساتھ بھی کافی پریشانیاں جھیلنی پڑی۔

      کتاب کا ٹائٹل ہے (سعودی عرب اور امام یحیی حمید الدین کے مابین تعلقات کا بیان 1925 – 1934)۔ اس کے متعلق آل زلفہ کتاب کے دیباچہ میں رقمطراز ہیں، بےشک "ہر اعتبار سے بہت ہی اہم ڈاکومنٹری ذرائع سعودی عرب کی وہ کتاب اخضر ہی ہے جس کو سعودی حکومت نے سنہ 1933ھـ میں شائع کیا تھا، یعنی کہ براہ راست سعودی یمنی جنگ کے بعد۔

      شاہ عبد العزیز نے بذات خود سنہ 1353ھـ میں حج کے دوران تمام وفود عالم اسلامی کے سامنے اپنی خطاب میں اشارہ کیا تھا، یعنی کہ جنگ ختم ہونے کے چند دن بعد ہی۔ ہمارے اور ان کے درمیان (یعنی امام یحیی کے) جو کچھ بھی ہے اس کی وضاحت کرنے میں کافی وقت درکار ہے لیکن ضروری ہے کہ چند دن کے بعد ہی مسلم لوگ اس کتاب اخضر سے آشنا ہوں گے جس کو تیار کرنے کا ہم نے حکم دے دیا ہے ، تاکہ سب لوگ یہ بات جان لیں کہ وہ کون سے اقوال ہیں جو افعال کے موافق ہیں اور یہ کہ ہم وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں اس کی خلاف ورزی نہیں کرتے (ص: 17)۔

      کتاب اخضر کے دیباچہ میں یہ بات کہی گئی ہے کہ امام یحیی کے امن وسلامتی قبول کرنے کے بعد حکومت نے فیصلہ کیا کہ وہ اس کتاب اخضر کو شائع نہیں کرے گی جس میں سعودی عرب کے نظریہ کی تائید میں تمام محاضرے اور ڈاکومنٹری کی کثرت ہے۔ ایسا حکومت نے اس لئے کیا تاکہ اس سے ایک ایسے شخص کے آبرو کی حفاظت ہو سکے جس کی نسبت عربوں کی جانب ہے اور وہ ساری دنیا کے سامنے رسواہونے سے بھی بچجائے (ص: 25)۔

      لیکن وہ منفی پروپیگنڈے جو عربی صحافت میں امام یحیی اور ان کے چاہنے والے پھیلا رہے تھے، جبکہ عین اسی وقت میں سعودی عرب کے ساتھ براہ راست بات کرتے ہوئے نرمی برتتے تھے، مزید اس خوف سے کہ لوگ حقیقت سے پرے نیز صورتحال کے خلاف مبنی ان اقوال سے دھوکے میں نہ آجائیں، ان تمام چیزوں پر قدغن لگانے کے لئے حکومت نے یہ فیصلہ کیا کہ جلد از جلد اس کتاب کو منظر عام پر لایا جائے تاکہ عوام اس کتاب کو جان سکے (ص: 26)۔

      ہم نے اس پرانی نئی کتاب سے ان عبارتوں کو اس لئے پیش کیا ہے تاکہ ہم شاہ عبد العزیز کے علاقائی بحران میں میڈیا ٹریٹمنٹ کی ایک جھلک دیکھ سکیں، اور یہ جان سکیں کہ سعودی عرب کے موقف کا مہارت کے ساتھ کس طرح دفاع کیا جاتا ہے۔

      یمن ابھی بھی اس بار حوثیوں اور صالح سعودی عرب کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے میں لگے ہوئے ہیں، اور حیرت کی بات یہ ہے کہ عالمی اور علاقائی سطح پر کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو ان کی چکنی چپڑی باتوں میں آبھی رہے ہیں۔ بسا اوقات اس بات کی سخت ضرورت ہوتی ہے کہ تصدیق شدہ سعودی عرب کی کتاب کی اسلوب کا نئے انداز سے اعادہ کیا جائے، جو تصدیق شدہ دلائل سے بھرپور ہو۔

مشاری الذایدی

مشاری الذایدی

مشاری الذیدی (مولود 1970) کا شمار ایک ماہر صحافی، سیاسی تجزیہ نگار اور مضمون نگار کی حیثیت سے ہے، سعودیہ عربیہ کے رہنے والے ہیں اور فی الحال کویت میں مقیم ہیں، متوسط درجے کی کارکردگی اور مذہبی جذبات کے ساتھ ان کی فراغت سنہ1408 هـ میں ہوئی، وہ اسلامی سرگرمیوں، موسم گرما کے مراکز اور لائبریریوں میں پیش پیش رہے ہیں اور اسی کے ساتھ ساتھ مقامی عرب پریس، دیگر پروگرام اور اسلامی انتہاپسندی کے موجودہ مسائل پر ایک ماہر صحافی اور قلمکار کی حیثیت سے حصہ لیا ہے ۔

More Posts

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>