ٹرمپ کی فائلیں: ایران سے آمنے سامنے - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: ہفتہ, 12 نومبر, 2016
0

ٹرمپ کی فائلیں: ایران سے آمنے سامنے

rashed_8

عبد الرحمن الراشد

      سنہ1981ء میں جب رونالڈ ریغان کو صدارتی الیکشن میں فتح ملی تو ایک طاقتور رہنما  اور ایران کو  دھمکیاں دینے اور چیلنج کرنے والے صدر کی حیثیت سے اس کو خوب شہرت ملی ،  جس نے تہران میں امریکی سفارت خانہ کے ان باون (52) اہل کاروں کو آزاد کرایا تھا جنہیں جیمی کارٹر کے عہد حکومت میں چار سو سے زائد دنوں تک قید رکھا گیا تھا۔ اس کی صدارت کے پہلے ہفتہ میں ہی یہ سارے امریکی قیدی اپنے وطن پہنچ گئے تھے۔

      تو کیا تاریخ اپنے آپ کو دہرائے گی؟ نومنتخب صدر ڈونالڈ ٹرمپ کیا ایرانی حکومت کے خلاف اپنی پالیسی کو لاگو کرپائیں گے جو پچھلے آٹھ (8) برسوں سے امریکی اثرورسوخ کی عدم موجودگی کا فائدہ اٹھا رہا ہے؟

      باراک اوباما کے منتخب ہونے سے پہلے امریکی پالیسیوں کے مطابق ایران اس خطے میں گھرا ہوا تھا، اب صورتحال یہ ہے کہ جوہری معاہدہ پر دستخط کرنے کی وجہ سے، جس نے اس کی سیاسی اور فوجی آزادی کو بےلگام کردیا، اوباما ہی کے ‏آخری عہد حکومت میں اس نے خود اس خطے کو اپنے گھیرے میں لے لیا۔

      ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے اپنی حکومت کے تعلقات کا آغاز نومنتخب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ ان کو دھمکی دے کر شروع کیا ہے، انہوں نے متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس نے معاہدے کو بالائے طاق رکھا تو ان کے پاس دوسرا راستہ بھی ہے جس کو وہ اپنانے پر مجبور ہونگے.

      ٹرمپ کے صدارتی الیکشن میں فتح ہونے کی بےچینی کو ایرانی لیڈروں نے محسوس کیا اور اس احساس کا پرتو ان کے بیان اور میڈیا میں بھی نظر آیا، یہاں تک کہ تہران میں نماز جمعہ کے خطیب آیۃ اللہ احمد خاتمی نے بھی یہ احساس کیا جس نے  ٹرامپ سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ معذرت پیش کرے، ان کو دھمکی بھرے انداز میں یہ بھی کہا کہ خبردار! جو ایرانی "شیر کی دم” سے کھیلا۔

      صدر ٹرمپ نے جوہری معاہدے کی مخالفت کا اظہار کیا تھا اور اس کے بارے میں یہ کہا تھا کہ یہ "بہت ہی برا معاہدہ” ہے، یہ بسا اوقات "جوہری ہالوکاسٹ” کی جانب لے جاسکتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ حریف ڈیموکریٹک امیدوار کی پارٹی کے خلاف الیکشن میں کہی جانے والی صرف ان کی باتیں تھیں یا یہ انہوں نے قناعت سے کہی تھی جو ان کی آئندہ پالیسیوں میں نظر آئیں گی؟ ہم اس کے بارے میں اب تک کچھ نہیں جانتے، لیکن ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کے بعض لیڈروں کی جانب سے یہ بات آچکی ہے کہ انہوں نے جوہری معاہدے کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ ان میں سے تو زیادہ تر لوگوں نے کانگریس میں بارک اوباما کے بعض مطالبات کو ناکام بنانے کے لئے بھی ووٹ دیا، جیسے کہ انہوں نےایران سے سول طیاروں کو بیچنے کا ارادہ کیا تو ان لوگوں نے اس کی مخالفت کی تھی۔

      اس کے باوجود کہ ایرانی وزیر خارجہ کا ٹرمپ کو یہ  یاد دلانا اپنی جگہ درست ہے کہ جوہری معاہدہ ایران کے ساتھ دو طرفہ نہیں ہیں، بلکہ یہ عالمی ہے۔ یہ معاہدہ سوئٹزرلینڈ کے لوزان میں کیا گیا تھا وہ بھی پانچ ملکوں کے ساتھ، اس میں ریاستہائے متحدہ امریکہ بھی تھا۔ حقیقت میں ایران نے اس معاہدے کا پورا پورا احترام نہیں کیا بلکہ اس نے بہت ساری خلاف ورزیاں کیں، جیسا کہ اہل یورپ کا خیال ہےاور یہ جزئی طور پر اس معاہدے کو معطل بنانے یا اس کے خلاف تنازع کھڑا کرنے کے لئے اتنا ہی کافی ہے۔

      حقیقت تو یہ ہے کہ بارک اوباما کی جانب سے ایران کے ساتھ استثنائی طور پر خصوصی معاملہ کیا گيا، لیکن اس کے مقابلے میں اس نے اس خطہ میں بہت ہی برا اور وحشیانہ معاملہ کیا اور عراق وشام میں تعاون کرنے کی پیشکش جو بارک اوباما نے کی اسی کو چیلنج کردیا، مزید یہ کہ جب امریکی ملاحوں کو گرفتار کیا تو ایرانی لیڈروں نے ان کے ساتھ بہت ہی نا روا سلوک کیا اور انہیں ٹیلیویژن کیمرے کے سامنے ذلیل ورسوا کیا، اس کے بعد ایرانی نژاد ان امریکیوں کو بھی گرفتار کیا جوکہ اپنے اعزاء واقارب کی زیارت کے لئے آئے ہوئے تھے۔

      جوہری معاہدہ کے سلسلہ میں ایرانی نظام کی سنجیدگی میں جو چیز شک پیدا کرتی ہے وہ یہ ہے کہ ایران کی حکمراں فوجی اور دینی جماعت نے ایرانی صدر حسن روحانی اور ان کی جماعت کے خلاف حملہ کیا تھا اور یہ تہمت بھی لگایا تھا کہ وہ اتفاق کے مطابق مغرب کے ساتھ آزادانہ طور پر معاملہ کرنا چاہتے ہیں یعنی انتہاپسند اور بنیاد پرست لوگ مدد وتعاون کے التزام کے بغیر باہمی تجارت کرنا چاہتے ہیں۔

      مزید برآں یہ کہ تہران نے اس اتفاق کے بعد روس سے معاملہ کرنا شروع کر دیا اور یہ دونوں ملک آپس میں ایک دوسرے کے حلیف ہو کر متنازعہ علاقوں میں ایک ساتھ جنگ کرنے لگے اور روس کو شام کے علاقوں میں اپنی سرگرمیاں انجام دینے کے لئے فوجی سہولتیں فراہم ہو گئیں اور موسکو کے ساتھ اس کے اقتصادی اور فوجی بڑے معاہدے ہوئے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایران نے اس اتفاقیہ کی بنیاد پر اوباما کی سخاوت اور اس کی رواداری سے فائده اٹھایا اور ریاستہائے متحدہ امریکہ کے حلیف ملکوں جیسے کہ خلیجی ممالک اور ترکیا کا محاصرہ کیا اور شام اور یمن کے علاقوں میں جنگ شروع کر دیا

      یہ وہ منظر نامہ ہے جو ٹرمپ اور تشکیل پانے والی اس کی انتظامیہ کے سامنے ہے تو کیا اب نئے منتخب صدر جوہری معاہدہ جیسے اوباما کے میراث سے متفق ہونگے اور ایران کی طرف سے متنازعہ علاقوں میں برپا شدہ انارکی اور لاقانونیت سے پہلوتہی کریں گے یا سابق صدر ریغان کی طرح ان کا موقف ہوگا کہ حکومت میں آتے ہی فورا ہی انہوں نے تہران میں سے مقابلہ شروع کر دیا تھا۔

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>