صنعاء میں عوامی غیظ وغضب۔ حوثیوں نے صالح کے وفادار فوجیوں کو گرفتار کیا - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق الاوسط
کو: اتوار, 13 نومبر, 2016
0

صنعاء میں عوامی غیظ وغضب۔ حوثیوں نے صالح کے وفادار فوجیوں کو گرفتار کیا

تنخواہوں کا بحران مزید سنگین بینکی نظام میں نقدی بہاؤ کو تیز کرنے لئے حکومت کی کوشش

%d9%8a%d9%85%d9%86

تعز- عدن: "الشرق الاوسط”

        یمن کے دارالحکومت صنعاء اور یمن کے دوسرے صوبے جو باغیوں کے ماتحت ہیں وہ عوامی غیظ وغضب کا شکار ہیں، کیونکہ ان باغی ملیشیاؤں کی وجہ سے سرکاری ملازمین کی تنخواہیں تقریبا 3ماہ سے رکی ہوئی ہیں، جن پر یمنی حکومت یہ الزام عائد کرتی ہے کہ اس نے پچھلے ستمبر میں عارضی راجدھانی عدن میں باضابطہ طور پر منتقل کرنے سے پہلے اربوں ڈالر صنعاء کے مرکزی بینک سے ہی لوٹ لیا ہے.

        حوثیوں نے فوجی عدالت کے ان افسران کو گرفتار کیا ہے جو سابقہ صدر علی عبد اللہ صالح کے وفادار تھے اور تنخواہیں نہ ملنے پر مظاہرہ کیا تھا.

       اسی اثناء میں کچھ مسلح حوثی اور اکیڈمک افراد جو بغاوت کی تائید کرتے ہیں انہوں نے کل صنعاء یونیورسٹی کے درس وتدریس فیکلٹی یونین کے بعض رہنماؤں پر حملہ کردیا، صنعاء یونیورسٹی کے اکیڈمک رہنماؤں کے سامنے حوثی مسلح افر اد نے مہلک ہتھیار لہرایا، یہ حملہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب ماہرین تعلیم نے ملک کی سب سے بڑی یونیورسٹی میں احتجاجی مظاہروں کو بڑھاوا دینے پر غور و خوض کے لئے  پے درپے میٹنگ منعقد کرنے کی دعوت دی، اور یہ چند مہینوں سے معیشتی حالات خراب ہونے کے نتیجے میں پیش آیا ، بنابریں بعض یونیورسٹی کے اساتذہ اپنے بچوں کے اخراجات پورا کرنے کے لئے قات کے پتے فروخت کرنے لگے یا تعمیراتی مزدوری کرنے پر مجبور ہوئے.

      دریں اثناء یمنی حکومت اس کوشش میں ہے کہ یہ ساری  رقم مقامی کرنسی میں بینکاری نظام میں واپس لے آئے، اور وہ ایک مکمل سرکاری بینک کے ذریعہ اعلان کیا کہ وہ آج بروز اتوار مقامی مارکیٹ میں عام نیلامی کے ذریعہ ڈالر کی رقم پیش کرے گا، جس کا مقصد صنعاء اور عدن کو درپیش شدید مالی بحران کے حل کے لئےمقامی کرنسی  فراہم کرنا ہے۔

      تجزیہ نگاروں اور مقامی ماہرین معیشت نے سرکاری بینکوں کی اس جانب توجہ خاص طور پر ڈالروں کی اعلانیہ بولی میں خریدوفروخت کرنے کی اہمیت پر زور دیا ہے، جو خفیہ ٹھکانوں سے کرنسی نکال کر دوبارہ بینکاری نظام میں واپس لانے میں معاون ثابت ہوگا۔

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>