بین الاقوامی گریجوایشن اور برطانوی سیکنڈری بہترین یونیورسٹیوں میں ان دونوں میں سے کس کے لئے زیادہ دروازے کھلے ہیں؟ - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: پیر, 14 نومبر, 2016
0

بین الاقوامی گریجوایشن اور برطانوی سیکنڈری بہترین یونیورسٹیوں میں ان دونوں میں سے کس کے لئے زیادہ دروازے کھلے ہیں؟

مضامین کو ختم کرنے کے بعد برطانوی نظام پر متزلزل اعتماد

%d8%a7%d9%84%d8%a8%d9%83%d8%a7%d9%84%d9%88%d8%b1%d9%8a%d8%a7-%d8%a7%d9%84%d8%af%d9%88%d9%84%d9%8a%d8%a9

لندن: "الشرق الاوسط”

          سیکنڈری تعلیمی سرٹیفکیٹ کے لئے دو نظاموں کے مابین انتخاب کرنے کے لئے بہت سے طالب علموں کو الجھن ہے۔ پہلا نظام بین الاقوامی گریجوایشن کا ہے، اس سرٹیفکیٹ کو یورپی یونیورسٹیوں میں تسلیم کیا جاتا ہے اور اکثر یورپی وبین الاقوامی سکول اس پر عمل پیرا ہیں اور بہت سے برطانوی سکول جو کہ متبادل کی پیشکش کرتے ہیں۔ جبکہ روایتی برطانوی نظام ہائر سیکنڈری پر مبنی ہے جسے "اے لیول” کا نام دیا جاتا ہے اور اسے بعض برطانوی یونیورسٹیاں ترجیح دیتی ہیں۔

        ہائر سیکنڈری نظام تعلیم سے  آثار کے مضمون سمیت بعض مضامین کو ختم کرنے کے بعد، برطانوی نظام پر اعتماد کمزورپڑ گیا ہے، جیسا کہ  یونیورسٹی کے بعض اساتذہ کے تبصرے سے اشارہ ملتا ہے کہ برطانوی سیکنڈری میں طلبہ کو اچھے نمبر دینا بہت ہی آسان ہوگیا ہے، جو کہ حقیقی طور پر علمی مستوی کی عکاسی نہیں کرتا۔ اسی طرح برطانوی وزارتِ تعلیم کے ذمہ داران گریجوایشن نظام کو فوقیت دیتے ہیں کیونکہ یہ نظام مکمل ہے اور اس ڈگری کو حاصل کرنے والے طلبہ مختلف تعلیمی شعبوں سے اعلی درجہ کی واقفیت رکھتے ہیں۔

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>