امریکی " ایوان زیریں " جہازوں کے سودے سے دستبرداری کے لئے ایران پر دباؤ بڑھا رہا ہے - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
به قلم:
کو: جمعہ, 18 نومبر, 2016
0

امریکی ” ایوان زیریں ” جہازوں کے سودے سے دستبرداری کے لئے ایران پر دباؤ بڑھا رہا ہے

جوہری توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی جوہری سمجھوتے کی دوسری بار خلاف ورزی پر تہران کو متنبہ کر رہی ہے

امریکی ایوان نمائندگان نئے قانون کی منظوری دے رہا ہے جس کے بموجب تہران کو جہاز فروخت کرنے کے لئے تجارتی سودے کی اجازت دینے سے وزارت خزانہ کو منع کیا جا رہا ہے

امریکی ایوان نمائندگان نئے قانون کی منظوری دے رہا ہے جس کے بموجب تہران کو جہاز فروخت کرنے کے لئے تجارتی سودے کی اجازت دینے سے وزارت خزانہ کو منع کیا جا رہا ہے

واشنگٹن: ہبہ القدسی  – ویینا: "الشرق الاوسط”

       کل امریکی ایوانِ نمائندگان نے رائے شماری کے بعد ایران پر بیرونی دباؤ بڑھا دیا ہے جس میں نئے قانونی مسودے کے تحت حکومت کو  بآسانی تجارتی جہاز  ایران کو فروخت کرنے سے منع کیا گیا ہے،  امریکی وزارتِ خارجہ  کوخبردار کیا جا رہا ہے کہ وہ امریکی بنکوں کو ہدایات جاری کرے کہ ایران کے لیے دو سو سے زائد مسافر بردار طیارے فروخت کرنے کے معاہدے کو  پختہ کرے جس کی صدر اوباما کی انتظامیہ نے منظوری دی تھی اور اسکی مالیت اربوں ڈالرتک پہنچتی  ہے۔

        دریں اثناء رائے شماری میں 174 معتریضین کے  مقابلے میں  243 اراکین کی  اکثریت  رہی، ریپبلکن رہنماؤں کی جانب سےایران کو جہاز  فروخت کرنے کے سودے کو  روکنے کی  بھرپور کوشش  کرتے ہوئے اس جانب  اشارہ کیا کہ پوری دنیا میں دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے  جو بیلسٹک میزائلوں  کے تجربات پر  اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی پاسداری  نہیں کرتا۔

       ایوانِ نمائندگان میں ریپبلکن اراکین نے  اوباما  انتظامیہ پر الزام عائد کیا کہ اس نے جوہری سودے میں  ایران کو رعایتیں دیں .

       اسکے مقابلے میں ڈیموکریٹکس نے خبردار کیا ہے کہ قانون کی منظوری ایران کے ساتھ 5 +1 گروپ کے جوہری سمجھوتے کے برعکس ہے۔ انہوں نے بل کی منظوری پر اوباما انتظامیہ کے متوقع صدارتی ویٹو کی جانب اشارہ کیا۔ ایوان نمائندگان کی طرف سے ایران کو طیاروں کے سودے سے فائدہ اٹھا نے  سے روکنے کے لئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے ،  جو کہ ایران کے خلاف پابندیوں میں  دس سال کی توسیع کی قرارداد کے مسودے پر رائے شماری کے ایک روز  بعد سامنے آیا  تاکہ بین الاقوامی جوہری معاہدے کی شرائط  پرعمل کو یقینی بنایا جائے۔

      اور  اسی سلسلے کے بارے  میں کل جوہری توانائی کی   بین الاقوامی ایجنسی کے سیکرٹری جنرل "یوکیا امانو” نے  تہران سے مطالبہ کیا کہ وہ ایرانی ذخیرے میں  بھاری پانی  کی مقدار میں اضافے  کے بعد جوہری سمجھوتے  کا "مکمل احترام ” کرے۔

        رواں سال کے آغاز سے سمجھوتے پر عملدرآمد کے بعد یہ اپنی نوعیت کی دوسری خلاف ورزی شمار ہوتی ہے۔  امانو نے ویینا میں بورڈ آف ڈائریکٹر کے اجلاس کے افتتاح پر کہا  کہ: "مستقبل میں  اس قسم کے حالات سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ معاہدے پر عمل میں بین الاقوامی اعتماد کو برقرار اکھا جائے”۔

      جوہری توانائی  کی بین الاقوامی ایجنسی کی آخری مرحلے کی رپورٹ جس کے بارے میں گزشتہ ہفتے انکشاف ہوا ہے اس میں یقین دہانی کی گئی  ہے کہ تہران جولائی 2015 میں چھ بڑی طاقتوں کے ساتھ ہوۓ سمجھوتے  کا احترام کرنے کا پابند ہے، لیکن ایجنسی نے انکشاف کیا کہ تہران کے پاس بھاری پانی  کے ذخیرے میں 130 ٹن کی مقررہ مقدار سے تقریبا  سو کلوگرام  زائد ہے۔  جبکہ تہران اس میں سے پانچ ٹن باہر منتقل کرنے کا وعدہ کر چکا ہے ۔

متعلقہ عنوانات‬:, ,
شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>