کویتیوں کا زیادہ دھیان الیکشن کے بجائے "حقہ پینے والی خاتون كو" اس کے بچوں سے محروم کئے جانے والے مسئلے کی طرف - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: ہفتہ, 19 نومبر, 2016
0

کویتیوں کا زیادہ دھیان الیکشن کے بجائے "حقہ پینے والی خاتون كو” اس کے بچوں سے محروم کئے جانے والے مسئلے کی طرف

وکیلوں نے عدالتی  فیصلے کو  باطل قرار دینے کی دعوت دی۔  سرگرم کارکنوں نے اس  فیصلے  کو ایک "مثال” میں تبدیل ہونے سے خبر دار کیا-  

news-171116-5

کویت: میرزا الخویلدی

      کویتی عدالت کی طرف سے جاری کردہ ایک فیصلے، جس میں اس نے مطلقہ عورت کو  اپنے بچوں کو گود لینے سے محروم کیا ہے یہ دعوی کرتے ہوئے کہ یہ حقہ پیتی ہے، گھروں سے باہر عوام کی رائے کا موضوع سخن بنا ہوا ہے اور اگلے ہفتے ملک میں ہونے والے الیکشن کے موسم کی خبروں سے بھی انہیں دور کردیا ہے۔

       فیملی کورٹ نے گود لینے والی ماں کے حقہ پینے کو عیب دار سلوک اور معاشرے میں زیب نہ دینے والا قرار دیا، اس کے پائے جانے کی وجہ سے بچوں کو گود لینے کا حق ساقط ہوجائے گا، کیونکہ ایسی صورت میں ماں کا اپنے بچوں کی تربیت کرنا ہر گز قابل  اطمینان نہیں ہوگا ۔

        عدالت کے اس فیصلے سے ملک  مختلف قسم کے رد فعل سامنے آئے وہ بھی ایک ایسے ملک میں جو مکینوں کی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے سب سے اعلی سگریٹ نوشی کے سطح پر ہے، ان میں زیادہ تر سگریٹ نوشی کرنے والے مرد ہیں۔

       ایک قانون شناس نے اس جانب توجہ دلائی ہے کہ یہ فیصلہ اجتہاد پر مبنی ہے جہاں اپیل کرنے والا جج نظرثانی کرسکتا ہے، یہ کوئی ضروری نہیں ہے کہ جج عیب دار سلوک کے مفہوم کو نافذ کرنے کے لئے براہ راست سگریٹ نوشی کے عمل پر اعتماد کرے۔

       فہد البسام نامی ایک کویتی وکیل نے "الشرق الاوسط” سے بات چیت کے دوران بتایا کہ یہ فیصلہ عائلی قوانین  کے جج کے اجتہاد اور اس کے اندازہ لگانے پر موقوف ہے۔ بسام نے مزید کہا کہ اگر اپیل سے بھی اس فیصلے کی تائيد ہوجاتی ہے تو یہ ایک اصول اقرار بن جائگا  جس کا اعتبار دوسرے مسائل میں بھی کیا جائے گا۔ اگر ایسا ہوا تو یہ ایک دروازہ کھول دے گا جس کے ذریعہ مستقبل میں ماں کو یا ماں باپ دونوں کو اپنے ہی بچوں کی تربیت کرنے سے یا کسی اور چیز سے بھی منع کیا جاسکتا ہے یہ دعوی کرتے ہوئے کہ یہ دونوں عیب پر مبنی کام انجام دے رہے ہیں یعنی کہ سگریٹ نوشی کر رہے ہیں۔

      کویتی سرگرم کارکنوں نے متنبہ کرتے ہوئے کہا ہےکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ فیصلہ ایک مثال میں تبدیل ہو کر عام شہریوں کے مابین مساوات اور عدل وانصاف کے اصول نیست ونابود کر دے کیونکہ اس میں عورت کے لئے جو فیصلہ کیا گیا ہے ان لوگوں کے قول کے مطابق مردوں کے لئے ایسا نہیں کیا جاتا ہے۔

      خلیجی سطح پر کویت سگریٹ نوشی سر فہرست آتا ہے، یہاں پر حقہ کیفے بکثرت پائے جاتے ہیں، نیز ایسے ریستوران  بھی بہت ہیں جو اپنے گاہکوں کو حقہ بھی پینے کی خدمات فراہم کرتے ہیں ، یہاں پر مرد اور عورت سب یکساں آتے ہیں۔

       11مارچ سنہ 2015ء میں کویت میں فیملی کورٹ نے ایک قانون صادر کیا جو عائلی كيسوں اور مقدموں میں غور کرنے سے تعلق رکھتا ہے۔ اس قانون کی بموجب، جو 17 بند پر مشتمل ہے، ہر گورنریٹ میں ایک فیملی کورٹ ہو جو براہ راست دوسرے محافظوں سے سے قطع نظر کویتی اور غیر کویتی دونوں  کےعائلی جھگڑوں میں غور کرنے اور اسے نمٹانے کے لیے مخصوص  ہو۔

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>