حلب خود مختار اداره؟! - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: پیر, 21 نومبر, 2016
0

حلب خود مختار اداره؟!

حلب میں ترکی تجویز "خود مختار اداره” اور روس کی خاموشی شہر سے "نصره” اور ہتهيار نكلنے  كى دعوت ديتى ہيں

21

حلب كے گهير ہوئے مشرقى حصے ميں ايك  زخمى بچہ اور اسكے خاندان ميں سے ايك آدمى  (گزشتہ جمعہ،  رويئٹرز)

بیروت: ثائر عباس

     شہر حلب (جس کا آدھا مشرقی حصہ شامی حکومت اور اس کے حلیفوں نے گھیر رکھا ہے) اس کی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے اقوام متحدہ کے سفیر سٹیفان ڈی میسٹورا نے ترکی کی جس تجویز کو شامی گورنمنٹ کے سامنے پیش کیا تھا اسے کل شامی گورنمنٹ نے نا منظور کردیا ہے- ليكن شہر سے نكلنا "نصره” كى شرط كے انتظار سے مراد يہ نہيں كہ يہ نا منظورى نے اس تجويز كو مكمل طور پر بالائے طاق ميں ركها-

     ترکی ذرائع سے "الشرق الاوسط” کو یہ معلوم ہوا ہے کہ (شامی) گورنمنٹ کا اسے مسترد کر دینا یہ کوئی آخری فیصلہ نہیں ہے- کیونکہ روس نے اس تجویز کو سمجھنے کا عندیہ دیا ہے- اس سے پہلے کہ ڈی میسٹورا یہ پیشکش ان کے سامنے رکھیں یہ عالمی اور علاقائی سطح پر متداول بھی ہو چکا ہے۔ ذرا‏ئع نے اس بات کو بھی واضح کیا ہے کہ روس کا بنیادی مطالبہ یہی تھا کہ "نصرہ” اس شہر سے بھاری ہتھیاروں کے ساتھ چلنا ہے- یہ پیشکش "اب بھی ممکن ہے”۔

     ذرائع نے مزید یہ بھی واضح کیا کہ انقرہ روس کے ساتھ مل کر پوری جد وجہد کے ساتھ حقیقت پر مبنی کوئی حل کا راستہ نکالنا چاہتا ہے تاکہ عالمی کوششوں کی ناکامی کے باوجود بھی حلب کے بحران کا خاتمہ کیا جا سکے- اور اس جانب بھی اشارہ کیا کہ اس بحران سے نمٹنے کے لئے ترکی نے روسیا کے سامنے کئی تجویز پیش کی ہے- ان ہی تجاویز میں سے ایک تجویز وہ بھی ہے جو ڈی میسٹورا نے مشرقی حلب میں "خود مختار اداره” کے حوالے سے پیش کیا ہے۔

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>