چرواہوں اور بچوں کو متاثر کرنے والے "عوامی ہجوم" پر خلاف ورزیوں کے بین الاقوامی الزامات - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: بدھ, 23 نومبر, 2016
0

چرواہوں اور بچوں کو متاثر کرنے والے "عوامی ہجوم” پر خلاف ورزیوں کے بین الاقوامی الزامات

موصل میں اہم پل تباہ ۔۔۔ اور 68 ہزار افراد بے گھر

iraq

مشرقی موصل کے علاقے تحریر میں کل تنظیم داعش سے بچ کر بھاگتے ہوئے عراقی لوگ

لندن: "الشرق الاوسط”

     کل بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیم "ہیومن رائیٹس واچ” نےعراقی شہر موصل میں معرکوں کے دوران "عوامی ہجوم” کی ملیشیاؤں کی طرف سے زیادتیوں کے ارتکاب پر اسے خبردار کیا ہے۔ تنظیم نے اپنے بیان میں کہا ہے ان ملیشیاؤں نے ماہ رواں کی ابتداء میں تنظیم داعش سے تعلقات کے شبہ میں "موصل کے قریب ایک گاؤں میں چرواہوں کو مارا پیٹا اور حراست میں لے لیا جن میں بچے بھی شامل ہیں”۔

      دریں اثناء موصل میں ایک طرف حکومتی فوج وملیشیا اور دوسری جانب تنظیم داعش کے مابین جھڑپوں کے آغاز سے اب تک بے گھر ہونے والے عام شہریوں کی تعداد میں 68 ہزار سے زائد ہوچکی ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی بنیادوں پر تعاون کے دفتر نے کل اپنے جاری بیان میں کہا ہے کہ "اس وقت میں 68550 بے گھر افراد انسانی امداد کے محتاج ہیں”۔

     اس کے برعکس بین الاقوامی اتحاد نے اعلان کیا ہے کہ کل اس نے موصل کے وسط میں دریائے دجلہ کو عبور کرنے کے لئے پل کو تباہ کر دیا ہے کیونکہ "داعش” کے جنگجو اسے اپنے سامان کی منتقلی کے لئے استعمال کر رہے تھے۔ گورنریٹ نینوا کے نائب سربراہ "نور الدین قبلان” نے کہا کہ دریائے دجلہ پر موجود تمام پلوں کو تباہ کر دیا گیا ہے سوائے پرانے لوہے کے پل کے جسے مقامی لوگ "جسرالعتیق” کہتے ہیں۔

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

متعلقہ عنوانات‬:, ,
شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>