شام کی جنگ میں پوٹن اپنے اقتصادی حصے کے خواہاں ہیں - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: بدھ, 23 نومبر, 2016
0

شام کی جنگ میں پوٹن اپنے اقتصادی حصے کے خواہاں ہیں

پابندیوں سے بچنے کے لئےغیر اعلانیہ کمپنیوں کے ساتھ سودہ طے کرنے  کے معاہدہ کے لئے دمشق کی طرف پوٹن کا ایک وفد

%d9%be%d9%88%d8%aa%db%8c%d9%86

موسکو: طہ عبد الواحد

       روسی نائب وزیر اعظم اور فوجی صنعتوں کے انچارج  "ڈیمتری روگوزین” نے کل دمشق میں شامی حکومت کے سربراہ کے ساتھ بات چیت کی جس میں دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعاون پر زور دیا گیا۔

       کل روگوزین خارجہ، دفاع اور اقتصادی ترقی کے نائب وزراء پر مشتمل ایک بڑے وفد کے سربراہ کی حیثیت سے  دمشق پہنچے جبکہ ان کے ساتھ ان غیر اعلانیہ کمپنیوں کے نمائندوں کی ایک بڑی تعداد بھی شامل تھی جن کمپنیوں کے بارے میں یہ بات کہی گئی ہے کہ یہ کمپنیاں  شام میں ملوث ہونے کی وجہ سے مغربی پابندیوں کا سامنا کریں گی، قابل توجہ بات  ہے کہ  توانائی اور ٹرانسپورٹ کے میدان میں  بہت   بڑے پروجیکٹ اسد کے سامنے پیش کیے گئے ہے۔

      تجزیہ نگاروں نے اس دورے کو موجودہ جنگ کے ساۓ میں صدر پوٹن کا اسد حکومت سے اس سودے بازی کی حصولیابی  کی ایک کوشش شمار کیا ہے جس کا حصول امن کے دنوں میں نہیں ہو سکا ۔

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>