عرب افریقی سربراہی اجلاس رکن ممالک کے مابین مکمل سیاسی اور سیکورٹی رابطوں کی یقین دہانی کے ساتھ اختتام پذیر - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
سوسن ابوحسین
کو: جمعرات, 24 نومبر, 2016
0

عرب افریقی سربراہی اجلاس رکن ممالک کے مابین مکمل سیاسی اور سیکورٹی رابطوں کی یقین دہانی کے ساتھ اختتام پذیر

شیخ صباح الاحمد کی پانچویں اجلاس کے لئے سعودیہ کی میزبانی کی تائید اور اسکی عالمی عظیم قدرو منزلت کو خراج تحسین
%d9%85%d8%a7%d9%84%d8%a7%d8%a8%d9%88

ملابو میں عرب افریقی سربراہی اجلاس میں شرکت کے بعد حکمرانوں، رہنماؤں اور قیادتوں کی ایک یادگار تصویر

مالابو: سوسن ابو حسین

      کل گینی بساؤ میں چوتھے عرب افریقی سربراہی اجلاس میں افریقی یونین کے اصرار پر جمہوریہ صحرا کو اس سربراہی اجلاس میں شامل کرنے کی وجہ سے سخت اختلافات کے سبب مراکش کے ساتھ یکجہتی کرتے ہوئے نو عرب ممالک کے واک آؤٹ کرنے کے باوجود شریک ممالک کے مابین اسٹریٹجک شراکت کی ضرورت اور مکمل سیاسی وسیکورٹی رابطوں کی یقین دہانی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔

      شرکت کرنے والے رہنماؤں نے چوتھے سربراہی اجلاس میں اعلانِ مالابو پر اعتماد کیا جس میں سابقہ امور کی بنیاد پر مکمل شراکت داری کی یقین دہانی، مستقبل میں بھائی چارے کے جذبے کے پیدا ہونے، علاقوں کے داخلی معاملات میں غیر ملکی مداخلت کے خدشات کو دور کرنے، باہمی مصلحت اور فوائد کی بنیاد پر افریقہ اور عرب دنیا کے مابین دیرینہ برادرانہ تعلقات کے فروغ اور عوام کی خواہشات کے حصول کے لئے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے، چیلنجوں پر قابو پانےاور عرب افریقی تعاون و ترقی کے عمل میں آنے والی رکاوٹوں کو دور کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

     مراکش، بحرین، سعودیہ، امارات، اردن، قطر، یمن کے علاوہ سلطنت عمان اور صومالیہ نے "پائیدار ترقی اور افریقہ اور عرب دنیا کے درمیان اقتصادی تعاون” کے زیر عنوان منعقدہ اس سربراہی اجلاس میں پوليساريو کی شرکت پر احتجاجا واک آؤٹ کر دیا۔

      عرب کی جانب سے شرکت کرنے والی اہم شخصیات میں مصر کے صدر عبد الفتاح سیسی، کویت کے امیر شیخ صباح الاحمد، موریتانیہ کے صدر محمد ولد عبدالعزیز اور سوڈان کے صدر عمر حسن البشیر شامل تھیں۔

     مصری سرکاری عہدہ دار ابو الغیط نے سربراہی اجلاس میں کئی ایک عرب ممالک کی عدم شرکت کے اہم مسئلہ کی وجہ کو حل کرنے اور اس موقف کے اختتام تک پہنچنے کا مطالبہ کیا تاکہ ایسا دوبارہ نہ ہو۔ سیکرٹری جنرل ابو الغیط کے ترجمان نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ابو الغیط نے قطع نظر انکے الفاظ کے اپنے بیان میں سربراہی اجلاس میں شرکت کرنے والے عرب وافریقی ممالک کی الجھن کو دور کرنے کی عدم صلاحیت پر افسوس کا اظہار کیا جس کی وجہ سے سربراہی اجلاس کی کاروائی میں رکاوٹ پیدا ہوئی، علاوہ ازیں شرکت نہ کرنے والے ممالک کی جانب سے یہ موقف سابقہ دو اجلاسوں میں شرائط کی پابندی کے پیش نظر اختیار کیا گیا جو سن 2010 سرت میں اور 2013 کویت میں منعقد ہوئے، وہ موقف جس کی جانب ابو الغیط نے اشارہ کیا کہ انکی بطور سیکرٹری جنرل یہ کوشش صرف افہام وتفہیم اور حماری کے لئے ہے۔

     سیکرٹری جنرل نے عرب افریقی تعاون کے راستے میں رکاوٹ کے طور پر سامنے آنے والے مسئلہ کو جلد ہی عرب وافریقی دونوں جانب کے مابین باہمی مشاورت سے حل کئے جانے پر امید ظاہر کی، جس سے دونوں اطراف کے مابین مثبت سرگرمیوں کی صورت میں بڑے پیمانے پر باہمی تعاون دوبارہ بحال ہو سکے گا۔

     مراکش کی وزارت خارجہ نے یقین دہانی کی کہ مملکت اور اس کے ساتھ دیگر عرب وافریقی ممالک سربراہی اجلاس کی کامیابی کے لئے مناسب حالات میں حمایت کرنے کے خواہشمند ہیں، وہ پہلے بھی اور اب بھی عرب افریقی شراکت داری کی نمائندگی کی اہمیت سے مکمل طور پر واقف ہے جس سے دو گروپوں کی حیثیت بڑھانے کی جانب شرط عائد ہوتی ہے۔

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>