حلب: مقصد دولاکھ پچہتر ہزار کو بےگھر کرنا! - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
عبد الرحمن الراشد
کو: جمعہ, 25 نومبر, 2016
0

حلب: مقصد دولاکھ پچہتر ہزار کو بےگھر کرنا!

عبد الرحمن الراشد

    مشرقی حلب المناک تاریکی دور سے گزر رہا ہے، الفاظ یا تصویریں اس کی عکاسی نہیں کرسکتی ہیں۔ روسی لڑاکا طیارے شہر میں بموں کی بارش کر رہے ہیں، بشار الاسد کے فوجی اور ایران کے ملیشیا دستے شہر کے گرد و پیش کو اپنا نشانہ بنائے رہے ہیں، حزب اللہ کے ملیشیات نے شہر کو پہنچنے والی امداد  کا راستہ  روکنے کا ٹھیکہ لے رکھا ہے۔

    پانچ ہسپتال تہس نہس ہو چکے ہیں اور ان میں آخری بچوں کے ہسپتال کو طیاروں نے کلورین گیس سے تباہ وبرباد کیا گیا ہے، اب یہاں کوئی بھی ایسی جگہ نہیں جہاں زخمیوں منتقل کیا جاسکے۔

      جان بوجھ کر زیادہ تر حملے ایسی جگہ کئے جارہے ہیں جہاں جنگجو‌ؤں نہیں ہیں ۔ لیکن ایسا کیوں!؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ سانحہ کو مزید تکلیف دہ بنانا چہاتے ہیں اور دنیا کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا جائے۔ جو باشندے وہاں بچے ہوئے ہیں انہیں ترکی کیسرحدوں کی جانب بھگایا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے عالمی انسانی امداد کے مطالبے کو بھی ٹھکرا دیا، ترکی اور اقوام متحدہ کی جانب سے شہر کو خود مختار انتظامیہ دینے کی تجویز بھی مسترد کردی، غرضیکہ سانحہ کو روکنے کے لئے کسی بھی حل  کو بالائے طاق رکھ دیا اور وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے کی کارروائیاں ہمہ وقت جاری ہیں، جیسا کہ ایک خاتون نے بتایا کہ سانحہ سے بھاگنے کے لئے وہ نیند کا سہارا لیتی ہے۔

       باوجودیکہ  بشار الاسد کی حکومت کے وزیرخارجہ ولید المعلم کہتے ہیں : "ہم شہر کے لئے خودمختار انتظامی حل ہرگز قبول نہیں کریں گے، شہر میں کسی طرح کا امداد بھی پہنچانے کی اجازت نہیں دیں گے، مشرقی حلب میں چھ ہزار دہشتگردوں کے چنگل میں یرغمال بناۓ گۓ دولاکھ پچہتر ہزار باشندوں کو نظرانداز کرنا بھی گوارہ نہیں کریں گے”۔

      حقیقت اس کے برعکس ہے، بشار الاسد کی فوج اور اس کے دونوں حلیف ایران و روس  ہی باشندوں کو یرغمال بنائے ہوئے ہیں۔ محاصرہ کر کے شہر پر حملے کر رہے ہیں باشندوں کو فاقہ کشی پر مجبور کرنے کے ساتھ گھروں کو بھی ڈھا رہے ہیں اور ہسپتالوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان کا مقصد چھ ہزار آزاد فوج کا خاتمہ ہی نہیں بلکہ اس پلاننگ کا حصہ  شہر حلب کو ناقابل سکونت بنانا ہے

     پوری دنیا کی نظروں کے سامنے حلب میں قتل عام ہو رہا ہے لیکن اسے روکنے کے لئے زبانی اپیلوں کے سوا کوئی کچھ بھی نہیں کر رہا ہے

     یہی وہ زمینی حقائق ہیں  جو آنے والے مرحلہ میں شامی "جنگ” کے لئے راستہ ہموار کر رہے ہیں یہاں تک کہ اگر شامی حکومت آزاد فوج کے چھپنے کے آخری اڈوں تک بھی پہنچ گئی اور ان پر قبضہ بھی کرلیا۔

      ہم آزاد فوج کے جنگجؤں کے بارے میں بات کر رہے ہیں، دہشتگرد تنظیموں کے جنگجو اس میں شامل نہیں، انہی میں ” نصرت فرنٹ”  جس کے ساتھ شامی حکومت اور اس کے حلفاء جان بوجھ کر کوئی چھیڑچھاڑ نہیں کرتےتاکہ انہیں نئے سرے سے جواز بناکر استعمال کیا جاکے (جیسا کہ وہ ابھی کر رہے ہے) اور دہشتگرد "داعش” اور ” نصرت فرنٹ ” کے جنگجوؤں سے لڑنے کو دلیل بناکر وہاں کے باشندوں کو بےگھر اور کنٹرول حاصل کرکے  اپنے منصوبے کو پورا کیا جاسکے۔

     پچھلے سال سے جنگ کا دائرہ وسیع ہونے کے بعد بےشک بشار الاسد کی فوج، حزب اللہ کے ملیشیات اور انتہاء پسند شیعہ گروپوں کے باقی ماندہ لوگ روسی فضائی اسلحہ کی موجودگی کے باجود بھی "داعش” کے ساتھ نہیں لڑے جیسا کہ انہوں نے وعدہ کیا تھا اور اپنے بیانات میں اس طرح کا اعلان بھی کرتے رہے۔ جو رقہ اور وہ علاقے جہاں دہشتگردوں کے ساتھ جنگوں کا سلسلہ جاری ہے  وہاں پر "داعش” کا اگر کوئی  مقابلہ کر رہا ہے تو وہ امریکی اتحاد ہے، جس نے ایران اور بشار الاسد کے اتحاد کو سہولت فراہم کی بنابریں ان انتہاء پسند شیعی ملیشیات کے رعب و دبدبہ کو مزید تقویت ملی جو اس خطے کے باشندوں سے لڑنے کے لئے ہاتھ دھل کر ان کے پیچھے پڑگئی جہاں کے باشندے تقریبا سب سنی ہیں، ایسا اس لئے کیا تاکہ وہاں علوی شیعہ گروہ کی حکومت کو مستحکم بنایا جاسکے جو کہ بہت ہی چھوٹی اقلیت شمار کی جاتی ہے۔

      آج جو کچھ بھی وہاں ہو رہا ہے وہ یقینا وہ پاگلپن ہے، مستقبل قریب میں اس کے نتائج بہت ہی گہرے اور طویل ہوں گے۔ بشار الاسد کے زوال کے بعد اگلا مرحلہ کیا ہے؟ آزاد فوج کمزور ہو جائگی، اس کا شیرازہ بھی بکھر سکتا ہے جس نے پچھلے پانچ سالوں میں بشار سرکار کے مدمقابل لڑنے والی اہم قوت کا کردار ادا کیا ہے اور ساتھ ہی زیادہ تر آبادی کی نمائندگی بھی کی ہے۔

       اس جماعت کے زیادہ تر جنگجو اپنی صفوں کو چھوڑ دیں گے تاکہ وہ انتہاء پسند مسلح اسلامی جماعتوں میں شامل ہوسکیں، جیسے کہ "داعش” اور "نصرت فرنٹ” وغیرہ۔

      جب تک وہ اکٹھے لڑ رہے ہیں تو  کوئی شخص یہ سوال کرسکتاہے کہ "آزاد شامی فوج” اور ” نصرت فرنٹ ” جب یہ دونوں ہی بشار الاسد کے خلاف لڑ رہے ہیں تو پھر ان دونوں میں کیا فرق ہے؟ جی ہاں! دونوں میں بہت بڑا فرق ہے، وہ فرق دراصل جنگی مقصد میں پنہاں ہے۔ "آزاد فوج” کے جنگجو شامی ہیں ان کا مقصد قومیت پر مبنی ہے، اپنی زمین اور ملک کو اس نظام حکم سے آزاد کرنا جس سے ان کا اختلاف ہے۔ رہے ” نصرت فرنٹ ” کے جنگجو جن میں اکثریت شامی لوگوں کی ہے ["داعش” کے برعکس جس میں زیادہ تر اجنبی (غیرشامی) ہیں]، ان کا مقصد دینی بنیاد پر قائم ہے جس کے تحت وہ اسے کافروں کے خلاف جنگ سمجھتے ہیں، بایں طور ان کا یہ عقیدہ ہے کہ زیادہ تر لوگ کافر ہیں ، ان ہی کافروں میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو خود ان کے اپنے ہی ملک شام کے ہیں اور ان کا تعلق سنیوں سے ہے، وہ انتہاء پسندی پر مبنی اپنی خلافت قائم کرنے کا خواب دیکھ رہے ہیں اور دنیا کے مختلف گوشوں میں جہاد کرنا چاہتے ہیں۔

     آج حلب میں جو قتل عام جا ری ہے اور اسی طرح ادلب و حماہ کے دیہاتوں میں،  ، اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ہزاروں شامی ” نصرت فرنٹ” میں شامل ہوجائیں گے کیونکہ پھر تنہا وہی ایک ایسی جماعت رہ جاتی ہے جو حالیہ نظام حکم  سے ٹکر لے رہی ہے ، لہذا ان کے ذریعے اپنے سابقہ دشمنوں سے اور پوری دنیا سے انتقام لینا ممکن ہو گا۔

      آزاد فوج کے لئے ہم یہاں تعاون کی بھیک مانگنے کی بات نہیں کر رہے ہیں لیکن ان دنوں روس، ایران، حزب اللہ اور بشار کی حکومت  فرقہ وارانہ تقسیم ، شہریوں کا بڑے پیمانے پر قتل عام اور پلاننگ کے تحت انہیں گھر سے بےگھر کرنے کا جو کام انجام دے رہی ہے یہ تمام چیزیں بطور نتیجہ صرف ماضی ہو کر ہی نہ  رہ جائیں ۔

      مشرقی حلب کا چند دنوں میں زوال ہو سکتا ہے، اس کے بعد دوسرے شہر بھی بلاشبہ بحران کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوجائے گا اور خطے اور دنیا میں خطرہ بڑھ جائے گا۔

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>