"شیخ میزو" مہدی منتظر! - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
مشاری الذایدی
کو: جمعہ, 25 نومبر, 2016
0

"شیخ میزو” مہدی منتظر!

مشاری الذایدی

   پورے عرب میڈیا میں چاہے وہ روایتی ہو یا موڈرن ہو (میرا مقصد سوشیل میڈیا) ان دنوں  ہرسو صرف ایک ہی خبر نے اتھل پتھل مچا رکھی ہے اور وہ ہے مصری شیخ محمد نصر کی خبر جو "شیخ میزو” کے نام سے جانے جاتے ہیں ، کیونکہ انہوں نے اپنے آپ کو مہدی منتظر بتلایا۔

     دراصل یہ شخص نہ تو پاگل ہے اور نہ ہی دماغی توازن کھویا ہے جیسا کہ بعض لوگوں نے اسے پاگل خانے بھیجنے کا مطالبہ کیا ہے، بلکہ یہ ایک معروف مشہور شخصیت ہے، ٹیلیویژن پر بھی ان کے کئی پروگرام پائے جاتے ہیں ، ہم نے ان کے بعض پروگرام دیکھے بھی ہیں۔

     ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ بسا اوقات یہ شخص "گھمنڈی” کا شکار ہے، ان کے افکار وخیالات جس کو انہوں نے بارہا مصری اور عربی میڈیا میں واضح کیا ہے وہ یہ کہ انہوں نے اپنے چاہنے والوں کے لئے (خاص کر سوشل میڈیا میں اپنے چاہنے والوں کے لئے)  ایک "پھندا بنایا” تاکہ لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کراسکیں، اور ایسا ہو بھی گیا۔

      بےجھجھک انہوں نے مہدی منتظر سے متعلق اپنی سوچ کو لوگوں کے سامنے یہ کہتے ہوئے رکھا”میں اس بات کا اعتراف کرتا ہوں کہ وہ بیان میرا ہی ہے جو سوشل میڈیا (فیسبوک) پر میرے اکاؤنٹ سے نشر کیا گیا ہے ، اس کا مقصد ان لوگوں کو اکسانا ہے جو ایسے شخص کے انتظار میں جس کے بارے میں ان کا یہ عقیدہ ہے کہ وہی (ہر مصیبت سے) نجات دلانے والے ہیں ، وہ دراصل خود اپنے آپ کو ہی سرے سے نجات نہیں دلا سکتے ، ان کا نام ہے مہدی منتظر”۔

       درحقیقت مہدی منتظر کے آخری زمانے میں ظاہر ہونے کا جو مسئلہ ہے وہ  شرعی نصوص میں بہت ہی معروف و مشہور مسئلہ ہے۔ جہاں تک شیعوں  کا تعلق ہے تو ان کے نزدیک یہ ایک اصولی مسئلہ ہے جس کے بغیر ایمان درست ہی نہ ہوگا جبکہ اہل السنۃ والجماعۃ کے نزدیک اگرچہ جمہور ان کا اعتراف کرتے ہیں پر ان کے نزدیک یہ مسئلہ ایسا نہیں ہے جس کے انکار کرنے والے سے ایمان کی صفت چھن جائے ، اگرچہ مہدی منتظر کا انکار کرنے والا صحیح راستے سے منحرف شمار کیا جائے گا۔

     بہرکیف، بات صرف دینی اور غیبی حد تک ہی آکر ختم نہیں ہوجاتی ہے بلکہ سیاسی اور سماجی سطح پر بھی اس کا اثر دکھائی دیتا ہے، چنانچہ مہدی منتظر کا مسئلہ مسلم تاریخ کے ہر دور میں سیاسی بغاوت کا مدعا رہا ہے ، یہاں تک کہ اہل السنۃ والجماعۃ کے یہاں بھی یہ چیز نظر آتی ہے جیسے کہ عباسیوں کا مہدی اور دور جدید میں "جہیمان” کا مہدی۔

      ان لوگوں کی خبروں کے تعلق سے آخری سالوں میں بےچینی میں بڑھاؤ کے ساتھ ہی بہت زیادہ جنگیں اور اقتصادی پریشانیاں اور جدید و قدیم میڈیا میں ان لوگوں کے حالات کو جاننے کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ رجحان لوگوں میں کچھ زیادہ ہی رواج پاگیا ہے۔

     "عربیہ نٹ” کی رپورٹ کے مطابق جسے میرے ساتھی اشرف عبد الحمید نے تیار کیا ہے، اس میں یہ ذکر کیا ہے کہ سنہ 2000ء میں تین (3) مصریوں نے اپنے "مہدی منتظر” ہونے کا دعوی کیا۔ ان میں سب سے پہلا محمد عبد النبی عویس ہے جس کا تعلق سیناء سے ہے۔ اس نے ایک کتاب تالیف کی جس میں اپنی تعلیمات کی وضاحت کی، پھر اس کا حشر یہ ہوا کہ ذہنی مریضوں کا ہسپتال اس کی رہائش گاہ بنی۔ اسی سال بورسعید کا ایک دوسرا شخص جس کا نام حنفی ہے منظرعام پر آیا جس نے اپنے "مہدی منتظر” ہونے کا دعوی کیا ، نتیجتا پولس نے اسے بھی  گرفتار کرلیا۔ اسی طرح اسماعیلیہ میں احمد المتجلی نامی ایک شخص ظاہر ہوا جس نے یہ دعوی کیا کہ وہ جنات سے چھٹکارہ دلانے پر قادر ہے۔

    عبد الحمید نے یہ دلچسپ مثال مزید پیش کیا کہ سنہ 2012ء میں ایک شہری نے صدارتی الیکشن میں امیدوار بننے کے لئے اپنے کاغذات پیش کئے اور یہ دعوی کیا کہ وہ وہی "مہدی منتظر” ہے جو تمام عرب ممالک کو آزاد کرائے گا۔ اسی طرح ایک شخص اور منظر عام پر آیا جس کا نام تھا احمد الجناینی۔ اس نے بھی یہی دعوی کیا کہ وہ "امام مہدی منتظر” ہے، اس نے مصری دار الافتاء میں خط بھیج کر مزید اس بات کی تاکید بھی کی۔ بہرکیف "شیخ میزو”! اگرچہ انہوں نے بھی ایسا کیا تاکہ وہ لوگوں کو ملامت کریں ، وہ بھی پوری ہوش و ہواس کے عالم میں ایسا کیا، انہوں نے بخوبی اس بات کو جان لیا کہ لوگوں کی توجہ اپنی جانب کیسے مبذول کرائی جاتی ہے۔ بس سب سے زیادہ اہم توجہ مبذول کرانا ہی ہے، کس چیز کی جانب؟ یہ کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔

مشاری الذایدی

مشاری الذایدی

مشاری الذیدی (مولود 1970) کا شمار ایک ماہر صحافی، سیاسی تجزیہ نگار اور مضمون نگار کی حیثیت سے ہے، سعودیہ عربیہ کے رہنے والے ہیں اور فی الحال کویت میں مقیم ہیں، متوسط درجے کی کارکردگی اور مذہبی جذبات کے ساتھ ان کی فراغت سنہ1408 هـ میں ہوئی، وہ اسلامی سرگرمیوں، موسم گرما کے مراکز اور لائبریریوں میں پیش پیش رہے ہیں اور اسی کے ساتھ ساتھ مقامی عرب پریس، دیگر پروگرام اور اسلامی انتہاپسندی کے موجودہ مسائل پر ایک ماہر صحافی اور قلمکار کی حیثیت سے حصہ لیا ہے ۔

More Posts

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>