برطانیہ کے سابقہ دونوں وزرائے اعظم باقی رہنے یا نکلنے پر مزید ریفرنڈم کی کارروائی کو مسترد نہیں کرتے - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق الاوسط
کو: ہفتہ, 26 نومبر, 2016
0

برطانیہ کے سابقہ دونوں وزرائے اعظم باقی رہنے یا نکلنے پر مزید ریفرنڈم کی کارروائی کو مسترد نہیں کرتے

اگر عوام چاہے تو ایسا ممکن ہے: گورنر میجر اور لیبر بلیئر

1480096913232885800

جون میجر اور انکے جانشين ٹونی بلیئر

لندن: "الشرق الاوسط”

        بدھ کے روز پارلیمنٹ کے سامنے پیش کردہ بجٹ کے دوران وزیر خزانہ فلپ ہامونڈ نے افسردہ منظر کشی کی، انہوں نے کہا کہ آئندہ سال میں بریکس کی برف سے برطانیہ کے لئے اقتصادی ترقی سست ہو جائے گی جس سے 122 ارب اسٹرلنگ پاؤنڈ کا اضافی قرضہ لینا پڑے گا، یورپی بلاک میں برطانیہ کی بقا کے لئے ریفرنڈم کے نتیجے کو واپس لیتے ہوئے سیاسی تجربہ کاروں کے ایک گروپ نے حوصلہ افزائی کرتے ہوئے آواز بلند کی، جو 23 جون کو منعقد ہوا اور اس سے برطانیہ یورپی یونین سے نکل گیا۔

        سابقہ برطانوی وزیراعظم "جون میجر” کے مطابق یورپی یونین سے نکلنے کے بارے میں دوبارہ ریفرینڈم کے انعقاد کا تصور "مکمل طور پر ممکن ہے”، ٹونی بلیئر کے دور حکومت میں انہیں انکا جانشین سمجھا جاتا تھا انہوں نے کہا کہ "اگر عوام چاہے” تو بریکس سے بچا جا سکتا ہے۔

        سرکاری توقعات کے مطابق یورپی یونین سے برطانیہ کے نکلنے کی صورت میں 59 ارب اسٹرلنگ پاؤنڈ کے خسارے ہوگا جس پر بریکس کے حامی اسے تنقید کا نشانہ بنائیں گے۔ سابقہ وزیر "ایان دنکان سمتھ” نے کہا "بجٹ کا ادارہ” خود مختار حکومت کے "ایک اورتاریک منظر نامے” کی پیشنگوئی کرتا ہے۔ دنکان سمتھ نے "ڈیلی ٹیلی گراف” سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "بجٹ کا ذمہ دار ادارہ ابھی تک اپنی تمام توقعات میں جیسے خسارہ، ترقی اور روزگار کے مواقع کے بارے میں، وہ تقریبا ہر چیز میں نے غلط رہا ہے”۔

 

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>