حلب شہر میں شامی حکومتی فورس کی پیش قدمی ۔۔۔ کردوں کا اپوزیشن فورسز کے ٹھکانوں پر قبضہ - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: منگل, 29 نومبر, 2016
0

حلب شہر میں شامی حکومتی فورس کی پیش قدمی ۔۔۔ کردوں کا اپوزیشن فورسز کے ٹھکانوں پر قبضہ

halab

حلب کے مشرق میں جنگ سے بھاگنے کے لئے شام کے باشندے اپنا سازوسامان لئے ملبے کے درمیان سے راستہ بنا رہے ہیں ۔ (رائٹرز)

بيروت: يوسف دياب

      شامی حکومت اور اس کے اتحادیوں نے حلب شہر کے مشرقی مضافاتی علاقوں میں کل نئی پیش قدمی کی ہے  اور  اسی طرح  "صاخور” نامی علاقہ سمیت مذکورہ مضافاتی علاقوں کے  شمالی حصوں  پر بھی ان کے  قبضہ کرنے کی اطلاع ملی ہے لیکن اپوزیشن فورسز  نے "صاخور” کے مکمل  علاقے پر حکومتی فوج کےقبضہ کرنے  کی خبر کی نفی  کیہے  اور خطے میں  نظام کی  اضافی پیش قدمی نہ ہونے کا اعلان کیا ہے۔

      رپورٹ کے مطابق کرد جنگجوؤں نے حکومت اور حکومت مخالف جماعتوں کے درمیان جنگ کا فائدہ اٹھایا  اور مخالف جماعتوں کے ماتحت "بستان الباشا،  الہلك التحتاني اور الشيخ فارس” نامی علاقوں پر حملہ کیا جبکہ کرد رہنما نے مشرقی مضافاتی علاقوں پر کرد فورسز کے ذریعہ حملہ کرنے کی نفی کی ہے اور "الشرق الاوسط” سے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ "ہم کبھی بھی حکومت کے اتحادی نہیں تھے، ہم نے اپوزیشن پارٹی سے الشیخ نامی علاقہ کے قریب علاقوں کو عام شہریوں کی حفاظت کے لئے حاصل کیا تھا۔

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>