عربی اور مغربی ناولوں میں دہشت گردی کا منظر - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: بدھ, 30 نومبر, 2016
0

عربی اور مغربی ناولوں میں دہشت گردی کا منظر

انشاء پردازوں نے بہت پہلے معاشرے میں اس کے مختلف اثرات پر توجہ دی-

%d8%b1%d9%88%d8%a7%d9%8a%d8%a7%d8%aa

گزشتہ عرصے میں دہشتگردی نے فرانس کو کئی بار اپنی لپیٹ میں لیا

پیرس: ریاض معسعس

ادب معاشرے کی صورت حال پر آج سے پہلے اتنا زیادہ اثر انداز نہیں ہوا بالخصوص گزشتہ دو دہائیوں کے آغاز سے-

پس جب ادب سماج کا آئینہ ہے تب ادیب اپنے فنی آلات میں اس سے راہنمائی حاصل کرتا ہے تا کہ وہ کسی بھی پیچیدگی کی تعبیر کرسکے ۔ خواہ کسی سانحہ کے بارے یا کسی تھیٹر یا کسی نقصان یا کسی ایسے واقع کے بارے میں ہو جس نے انسانی ضمیر پر گہرا اثر چھوڑا ہو، اس کی بےشمار مثالیں ملتی ہیں۔

        ہماری عرب دنیا جس میں مشرق سے مغرب تک دہشت گردی پھیلی ہوئی ہے، اس منظر سے ناآشنا نہیں تھی بلکہ بہت پہلے سے عرب انشاء پردازوں نے اس جانب دھیان دیا ہے اور خاص طور پر جزائر میں، نوے کی دہائي میں خانہ جنگی کے سبب- اور اس کے بعد پہ درپہ دہشت گردی کا منظر اور معاشرتی زندگی میں اس کے مختلف اثرات-

      لنگڑا واسینی نے اپنی ناول ” لوليتا کی انگلیاں ” میں ناول کی ہیروئن اور ناول نگار کی محبوبہ کی دہشت گردی کی جانب تبدیلی کی کیفیت کی بحث چھیڑی کہ کس طرح وہ پیرس کی ایک مشہور جگہ میں اپنے آپ کو بم سے پھاڑتی ہے، گویا کہ (ناول نگار) واقعہ کے رونما ہونے پر سبقت لے جاتا ہے اور آج (داعش) کی مانند دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے یورپین دوشیزاؤں کے ساتھ ہوئے واقعات کی جھلکی دیکھا رہا ہے-

      یاسمینہ خضرا اپنی ناول ” بندر کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں ” فرانسیسی زبان میں بیان کرتی ہیں کہ کس طرح ایک بھولابھالا نوجوان خانہ جنگی کے دوران دہشت گرد میں تبدیل ہوکرآخر میں قتل ہو جاتا ہے۔

     دوسری ناول "دھشت گرد کاروائی ” فرنچ زبان میں وہ بیان کرتا ہے کہ کس طرح تل ابیب میں ایک کامیاب عرب ڈاکٹر کی بیوی انہتاپسند اسلامی گروپ میں شامل ہوجاتی ہے اور ایک قہوہ خانہ میں اپنے آپ کو بم سے اڑا لیتی ہے، اور کس طرح اس کا شوہر ان اسباب اور محرکات کو جاننے کی کوشش کرتا ہے جنہوں نے اس کی بیوی کو ایسا کام کرنے پر آمادہ کیا-

      اسی طرح مراکش میں بھی ہوا اس نے بھی تاریک دن دیکھے، اسے محمد الاشعری نے اپنی ناول "کمان اور تتلی ” میں بیان کیا ہے کہ کیسے ناول کی ہیروئن کا لخت جگر دہشتگرد میں تبدیل ہو کرخود اور اپنے باپ کو بم سے اڑا دیتا ہے-

     اکثر شامی ادیبوں نے حکومت کی دھشت گردی کے بارے میں ایسی بہت ساری ناولیں لکھیں شامی حکومت کی دہشتگردی جسے قتل وغارت گری، ایذا رسانی اور انقلابیوں کے خطوں میں دھماکہ خیز کاریں رکھنے کی کوئی پرواہ نہیں-

      عراقی احمد سعداوی فرانکشتاین کی کہانی سے اپنی کہانی لیتے ہیں تاکہ وہ اس عراقی کی کہانی اپنی ناول "فرانكشتاين بغداد میں” فرنچ زبان میں بیان کرسکیں جو بغداد میں روزانہ ہونے والے دہشت گردانہ بم دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں کے جسمانی ٹکڑے اکٹھےکرتا اور پھر انہیں ایک دوسرے سے ملاتا ہے تاکہ وہ "فرانکشتاین” سے ملتے جلتے آدمی کے ہمشکل ہوکر اس میں زندگی کی روح لوٹ آئے ، ایک ایسی عجیب و غریب مخلوق جس کا جسم مختلف عراقی نسلوں کے فرقوں کے جسم کے ٹکڑوں سے مل کر بنا ہے، گویا کہ وہ پورے عراق کی نمائندگی کر رہا ہے، لیکن یہ عجیب و غریب سرکش مخلوق جس میں زندگی کی روح لوٹ آئی ہے وہ دوبارہ اس لئے زندہ ہو تاکہ اپنے قاتلوں سے بدلہ لے سکے-

        یہ ادبی منظر گیارہ ستمبر کے سانحہ کے بعد امریکہ کی جانب منتقل ہوا جس نے اس امریکی عوام کو چونکا دیا جو یہ گمان کرتی تھی کہ وہ کسی بھی بیرونی حملے سے امن میں ہے، لیکن وہ تہذیب کی سب سے بڑی علامت ورلڈ ٹریڈ سنٹر کو اتنی بڑی دہشتگردی کا نشانہ بننے کا مشاہدہ کررہی تھی-

       اکثر ادبی کارناموں نے امریکی عوام پر اس واقعہ کے اثرات چھوڑے- ان میں سے ہم بعض کا ذکر کرتے ہیں۔ ادیب جی ماک اینرنی کی "خوبصورت زندگی ” اس کتاب میں قلمکار نیویارک اور بالخوص منہاٹن کے عوام کا تذکرہ چھیڑتے ہیں کہ یہاں کے باشندوں کی زندگی میں خوشحالی، لالچ آپس میں پھوٹ بالکل نمایاں نظر آتی ہے لیکن وہیں ان میں الگ تھلگ چھوٹے گروپ بھی ہیں، ایسی صورتحال میں اچانک ایک ہولناک منظر سامنے آتاہے تاکہ انہیں ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرسکے اور ان کے مابین نئے تعلقات پیدا کرسکے جو انہیں کسی بیرونی خطرے کا سامنا کرنے میں ایک دوسرے سے باہم جوڑے رہیں، لیکن معاملات پھر وہی لوٹ آئے ، سب اپنی پرانی عادتوں پر واپس ویسے آگئے گویا کہ کچھ ہوا ہی نہیں-

        ان ہی میں سے جوناٹان سافران فور کی کتاب "بہت طاقتور اور بہت قريب”، جان ابڈیک کی کتاب "دہشت گرد "، جوناتھان فرانزن کی کتاب "حريت"، ڈونا ٹارٹ کی کتاب "چڑیا "۔ یہ تمام کتابیں اس خوفناک سانحہ کے بعد (جس نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا) پانچ سالوں میں سامنے آئیں، ان کتابوں میں دہشتگردی کے منظر کی گہرائیوں اور اس کے مختلف اثرات کو بیان کیا گيا ہے-

    فرانس بھی اپنے طور پر اس اصول سے مثتسنی نہیں رہا، چنانچہ بہت ہی کم عرصہ میں (جنوری سنہ 2015ء سے جولائی سنہ 2016ء تک) فرانس کے شہر پیریس اور ونیس میں دل دہلانے والے دہشتگردی کی کئی کاروائیوں نے فرانس کو ہلا کر رکھ دیا، ایک عام فرانسیسی کی نظر کو جو پوری دنیا کو اپنے اردگرد محسوس کرتا تھا خیرہ کردیا، اس کے احساس وجذبات کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا-

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>