بڑے نوٹ پر قدغن لگانے کے بعد یہ عقدہ کھلا - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: بدھ, 30 نومبر, 2016
0

بڑے نوٹ پر قدغن لگانے کے بعد یہ عقدہ کھلا

آخرکار ہندوستانی شوہروں کو اپنی بیویوں کے جمع کردہ کالے دھن کا پتا چل ہی گیا-

%d8%a7%d9%84%d8%b1%d9%88%d8%a8%d9%8a%d8%a9

نئی دلی: پراگریتی گپتا

     حالیہ نومبر کی   8 تاریخ کی شام کو ہندوستانی  وزیر اعظم نریندر مودی نے 500 اور 1000 کے نوٹ پر قدغن لگانے کے لئے سرکاری فیصلے کا اعلان کیا، اس کے بعد سوشل میڈیا پر لوگوں کے مابین بحث چھڑ گئی، ایک کمینٹ کچھ اس طرح تھا: "ہندوستان میں کل اکثر شادی شدہ  مرد یہ جان لیں گے کہ ان کی بیویاں   کتنی مقدار میں  کالے دھن کی مالک ہیں "-  

       گزشتہ دو ہفتوں میں اس فیصلے کا بہت ہی بڑا اثر دکھائی دیا، کالے دھن  یا ناجائز دولت کے انسداد کی خاطر حکومت کی جانب سے بڑے دو نوٹ واپس لینے کے بعد اس فیصلے  کا بھینٹ چڑھنے والی   "غیر مقصود”  ہندوستانی عورت سامنے آئی-  

      کئی نسلوں  سے ہندوستانی بیویوں کی یہ عادت رہی ہے کہ وہ اپنے شوہروں کے ان پیسوں سے جو وہ انہیں گھریلو اخراجات کے لئے دیتے ہیں اس میں سے کچھـ رقم بچاکر   باورچی خانے کے برتنوں   یا بستر کے نیچے یا کپڑوں کی  الماری کے اندر کسی کونے میں چھپا کر رکھتی ہیں۔

       بیویاں یہ رقم مشکل گھڑیوں میں استعمال کرتی ہیں، شوہر اور گھر کے باقی افراد سے چھپائی ہوئی یہ رقم اپنا ذاتی  بیلنس سمجھتی اور جب اور جیسے چاہیں استعمال کرتی ہیں ۔ ہندوستان میں رائج شدہ تقریبا ٪86 نوٹوں پر پابندی لگائے جانے کی وجہ سے متوسط گھرانے کی بیویوں کو اپنی خفیہ جمع پونجی بلاقیمت نظر آنے لگی۔ نوٹوں کے مسئلے کو لے کر ہندوستان میں جو افراتفری اور ہنگامہ برپا ہوا، ہندوستانی بیویاں چاہے وہ گھر کی مالکن ہوں یا گھروں میں کام کرنےوالی ہوں وہ اپنی خفیہ جمع پونجی جو گھر کے دیگر افراد کی نظروں سے چھپا کر رکھے ہوئی تھیں اسے بلاقیمت دیکھ کر اعصابی کشیدگی کا شکار ہو رہی ہیں۔

      دلی میں عورتوں کی پریشانی حل کرنے والے سنٹر میں ہیلپ لائن کی گھنٹی پورا ہفتہ دن بھر بجنے سے رکنے کا نام نہیں لیتی، وہاں کے مشیروں کو ہمہ وقت عورتوں کے ٹیلفون آتے رہتے ہیں جس میں وہ یہی سوال کرتی ہیں کہ ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کے اچانک ٹیلیویژن پر ایک خطاب میں 500 اور 1000 کے نوٹ پر پابندی لگانے کے اعلان کے بعد وہ ان جمع کردہ نوٹوں کا کیا کریں جو انہوں نے بہت ہی مشکل سے اکٹھے کیے ہیں ۔ ۔ ۔ ان نوٹوں پر پابندی لگانے کی وجہ سے عورتوں پر مالی بحران کا صرف اثر ہی نہیں پڑا بلکہ شاید اس خفیہ دھن کی حکمت عملی کے راز کا وہ پردہ بھی فاش ہوجاۓ  جو وہ اپناتی تھیں ، اب وہ  ان کے لئے درد سر بھی بن گیا ہے ۔

      اس سے پہلے کہ اس رقم کا حکومٹ  کے سامنے اعتراف کریں ان عورتوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ سب سے پہلے اپنے شوہروں کے سامنے بھی اس کا اعتراف کریں، زیادہ تر شوہروں کے ہوش اس وقت اڑیں گے جب اس بات کا انکشاف ہوا کہ سالہا سال  سے ان کی بیویاں اتنی بڑی رقم جمع کرتی رہی ہیں۔

      ایک طرف جہاں کچھ شوہروں کو اس بات سے خوشی ہوگی تو دوسری جانب وہیں بعض شوہروں کو بےانتہاء غصہ بھی آئے گا کیونکہ اب وہ یہ سوچیں گے کہ ان انکم ٹیکس والوں کی نگاہوں سے رقم کس طرح بچائیں گے جو گھروں اور دفاتر  میں نقدی رقم رکھنے والوں کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔

     راچنا نے اس خبر کے لکھنے والے سے کہا کہ اب میں کیا کروں؟ میں نے تقریبا پانچ لاکھ روپیہ (3۔7 ہزار ڈالر) کئی برسوں میں اکٹھے کیے ہیں۔   مزید یہ بھی کہا کہ اس کے شوہر کو اس انکشاف نے خوش کیا  تو دوسری طرف اسے خوشی نہیں ہوئی  جب  یہ بات معلوم ہوئی کہ میں نے  اس معاملے میں اسے دھوکہ دیا ہے ۔ ۔ ۔

      ظاہر ہوتا ہے  کہ بیٹی اس  رسم کو اپنی ماوں سے ہی وراثت میں لیتی ہے  لیکن مودی کے اس فیصلے کے بعد ان عورتوں کے لئے ضروری ہوگیا ہے کہ وہ اس کالے دھن سے پردہ اٹھائیں۔

     نسیمہ علی نے بتایا کہ   سال رواں میں جو رقم میں نے اکٹھی کی تھی میں یہ سوچ رہی تھی کہ عمان کا سفر کروں گی اور اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کے لئے تحفے تحائف خریدوں گی۔ گھر کے کسی بھی فرد کو اس نقدی کے بارے میں پتہ نہیں تھا، کیونکہ فیملی کے کسی بھی فرد کے سامنے میں اپنا ذاتی خرچ بتانے کے لئے کسی بھی طرح سے مجبور نہیں تھی۔ ان عورتوں کے لئے اہم بات یہ ہے کہ وہ اس خفیہ رقم کو تمام لوگوں کی نظروں سے بچا کر   رکھیں تاکہ مکمل طور پر پوری آزادی کے ساتھ اسے ایمرجنسی حالت میں یا ذاتی طور پر کسی ٹور پر جاکر خریداری کرسکیں۔

      چالس سالہ عورت اپنی پوری زندگی پیسے اکٹھے کرتی رہتی ہے، یہ رقم ان مشکل گھڑیوں میں کام بھی آتی ہے جہاں وہ زندگی میں مشکلات سے دوچار ہوتی ہے۔ نسیمہ نے مزید یہ بھی کہا کہ گھریلو اخراجات کے لئے میرے شوہر جو رقم مجھے دیا کرتے تھے میں اسی میں سے تھوڑا بہت اکٹھا کیا کرتی تھی، آخر میں میں نے ان پیسوں سے اپنے   لئے سونے کے  زیورات خرید لئے۔ ۔ ۔

     ایک گھریلو عورت نے(جس نے اپنے شوہر کے خوف سے اپنا نام بتانے سے انکار کردیا) کہا کہ مشکل گھڑیوں کے لئے نقدی اکٹھا کرنا اچھا ہے، بینک بند ہونے پر معلوم نہیں کہ ان پیسوں کی کب ضرورت پڑجائے ۔

     ایک دوسری عورت جس نے اس تحقیق میں اپنا نام تبدیل کرکے سویتا بتایا اس نے کہا کہ میرے شوہر کو پتہ ہے کہ میرے پاس بچت کی اسکیمیں ہیں جو صرف میری ہیں لیکن میں ہمیشہ اس بات سے انکار کرتی ہوں، وہ مشکل گھڑی میں مجھ سے ہی ادھار لیتے ہیں اور مجھے میری اصل رقم کے ساتھ ٪18 منافع بھی دیتے ہیں۔

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>