حلب کے 20 ہزار بچے گھر چھوڑنے پر مجبور - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: ہفتہ, 3 دسمبر, 2016
0

حلب کے 20 ہزار بچے گھر چھوڑنے پر مجبور

بیروت سے  ترکی کے وزیر خارجہ کا بیان: اسداپنے ریکارڈ کی وجہ سے حاکم ہونے کے لائق نہیں
%d8%a8%da%86%db%92

مشرقی حلب میں بچے روس اور حکومت کی طرف سے کی جانے والے ہوائی حملے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے

بیروت: بولا اسطیح

      کل اقوام متحدہ نے اعلان کیا کہ حلب شہر کے مشرقی علاقہ سے تقریبا 20 ہزار بچے اپنے گھروں کو چھورڑ کر فرار ہو گئے ہیں اور آگاہ کیا ہے کہ اس وقت انہیں ہمارے تعاون کی اشد ضرورت ہے۔

      اقوام متحدہ نے یہ بھی کہا کہ 24 نومبر سے اب تک تقریبا 31،500 لوگ حلب کے مشرقی مضافاتی علاقوں میں واقع اپنے گھروں سے  بھاگ چکے ہیں۔

       یونیسف نے (United Nations Children’s Emergency Fund) اندازہ لگایا کہ ہجرت کرنے والے 60 فیصد بچے ہیں یعنی 19 ہزار بچے جبکہ انسانی حقوق کے شامی مبصر کے اندازے سے اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ گزشتہ سنیچر کے دن سے حلب کے مشرقی علاقے میں ہونے والی جنگ کی وجہ سے پچاس ہزار افراد گھر چھوڑ کر جا چکے ہیں۔

      حلب کے مشرق میں اپوزیشن فورسززمینی طور پر بقا کی جنگ لڑ رہی ہیں اورکل شیخ سعید نامی علاقہ کی حفاظت کی کوشش میں وہ حکومتی فورسز کے ساتھ شدید لڑائیوں میں داخل ہوچکی ہیں۔

      کل بیروت میں ترکی کے وزیر خارجہ مولود جاویش اوگلو نے شام میں فوری طور پر فائر بندی کرنے کو کہا ہے اور بتایا کہ حلب کی صورت حال بہت ہی خطرناک اور نازک ہے، مزید یہ کہا کہ شام کے صدر بشار الاسد حکومت کرنے کے قابل نہیں ہے۔

      اسی پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ یہ بھی کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ بشار الاسد  600  ہزار لوگوں کی ہلاکت کا ذمہ دار ہے اور جس کا کردار اس طرح ہو اسے کسی ملک پر حکومت نہیں کرنی چاہئے۔

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>