ایران کی (جارحیت) کی روک تھام کے لئے خلیجی – برطانوی شراکت داری - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
کو: جمعرات, 8 دسمبر, 2016
0

ایران کی (جارحیت) کی روک تھام کے لئے خلیجی – برطانوی شراکت داری

"مانامہ سربراہی اجلاس” مداخلتوں اور فرقہ وارانہ کشیدگی کو مسترد کرنے کی یقین دہانی اور یمن کے سیاسی حل پر زور * سعودی معلومات نے سینکڑوں برطانوی افراد کو بچایا: مای
1481134847612275200

کل منامہ میں خلیج تعاون کونسل کے سربراہی اجلاس کے اختتام سے قبل رکن ممالک کے سربراہان اور برطانوی وزیراعظم ٹریزا مای کا گروپ فوٹو (تصویر: بندر الجلعود)

 

منامہ: میرزا الخویلدی – عبید السہیمی

      کل منامہ میں 37 واں خلیجی سربراہی اجلاس اختتام پذیر ہوا جس میں مشترکہ کاروائی کے ذریعے خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کو خود مختاری اور آزادی کو کمزور کرنے کے لئے خطے میں درپیش سنگین خطرات کے خلاف مضبوط کرنے کی یقین دہانی کی گئی۔

       رہنماؤں نے خلیج تعاون کونسل کے  رکن ممالک کے لئے دفاعی اور سلامتی کے دونوں نظاموں کے فروغ کی خاطرکام کرنے کی ضرورت پر زور دیا،  تاکہ کونسل کے رکن ممالک میں  ان کی خود مختاری پرکسی بھی قسم کی  جارحیت یا تعصب کی روک تھام میں ان  کے کردار زیادہ مؤثر ہوں ۔

      سربراہی اجلاس کےحتمی بیان میں بحرین سمیت خطے کے ممالک میں دہشت گردی کی حمایت کرنے،  دہشت گردوں کی تربیت دینے، ہتھیاروں اور دھماکہ خیز مواد کی اسمگلنگ اور فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دینےکے ذریعے ان کے اندرونی معاملات میں ایرانی مداخلت  کے تسلسل کی پر زور مذمت کی گئی۔

      دوسری جانب خلیجی ممالک نے یمن کی وحدت، اسکی خود مختاری اور آزادی کا مکمل احترام کرنے کے عزم کا اظہار کیا اور خلیجی پہل کاری، ایگزیکٹو کے طریقہ کار،  قومی مذاکرات کے نتائج، اور اقوام متحدہ کی قرارداد نمبر  2216 کے مطابق یمنی بحران کے سیاسی حل  کی اہمیت پر زور دیا۔

      دوسری جانب خلیج تعاون کونسل کے سربراہی اجلاس کے ساتھ ساتھ سیکورٹی، سیاسی اور تجارتی شعبوں میں اسٹریٹجک  شراکت کے ساتھ برطانوی خلیجی سربراہی اجلاس کے انعقاد کی کل  منظوری دے دی  گئی۔  برطانیہ کی خاتون  وزیر اعظم” ٹریزا مای” نے خلیجی رہنماؤں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ” خطے میں بڑھتے ہوئے  عدم استحکام کےخلاف  اقدامات کو ہمیں جاری رکھنا چاہئے۔  انہوں نے کہا کہ میں خلیج اور مشرق وسطی کے علاقے میں  ایرانی خطرے سے پوری طرح واقف ہوں، اور خطے میں ایران کی جارحانہ کاروائیوں  کا جواب دینے کیلئےہمیں چاہئے کہ ہم مل کر کام کریں”۔  مای نے دفاعی صلاحیتوں میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور "جیفر” (بحرین) میں نیول بیس کے  قیام کے ذریعے خطےمیں مستقل عسکری قیام کا اعلان کیا۔

      مای نے سعودی سیکورٹی ادارے کی طرف سے اپنے برطانوی ہم منصب کو انٹیلی جنس معلومات فراہم کرنے کا انکشاف کیا جس سے برطانیہ میں سینکڑوں جانوں کو بچانے میں مدد ملی۔

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>