"القائم" نامی شہر پر بمباری کے دوران دسیوں افراد کے ہلاک ہونے پر عراق میں افراتفری - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: جمعہ, 9 دسمبر, 2016
0

"القائم” نامی شہر پر بمباری کے دوران دسیوں افراد کے ہلاک ہونے پر عراق میں افراتفری

%d8%b9%d8%b1%d8%a7%d9%82

موصل کے مشرقی علاقہ زہراء میں اقوام متحدہ کے امدادی مرکز کے باہر عراق کے باشندے قطار میں کھڑے(رائٹرز)

بغداد: "الشرق الاوسط”

      ملک میں بڑے پیمانے پر تنازعہ کی وجہ سے شامی سرحد کے قریب واقع "القائم” نامی عراقی شہر پر کئے گئے فضائی حملوں میں تقریبا 60 افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں زیادہ تر عام شہری ہیں۔

       عراقی پارلیمنٹ کے اسپیکر "سلیم الجبوری”  نے فوری طور پر اس معاملہ کی تحقیق کرنے کا مطالبہ یہ کہتے ہوئے کیا ہے کہ ان حملوں میں شہر کے بازاروں کو  نشانہ بنایا گیا ہے جس میں دسیوں افراد ہلاک ہوئے اور بہت سے زخمی ہوئے ہیں، اسی طرح انہوں نے  ان حملوں کے ذمہ دار افراد کو سزا  دیئے جانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

      دوسری طرف جوائنٹ سپیشل آپریشنز کمانڈ نے ایک بیان میں اس بات کی تصدیق کی کہ  ایئر فورس کے طیاروں نے "القائم” نامی شہر پر حملہ کیا ہے لیکن بعض سیاستدانوں کی طرف سے شہریوں کے ہلاک ہونے کی بیان کردہ خبر تنظیم داعش کا پروپیگنڈہ ہے ۔

      بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ عراقی ائیر فورس کے طیاروں کا مقصد دہشت گردوں کے دومنزلہ مکان پر حملہ کرنا تھا جس میں ان کے 25 غیر ملکی خود کش دہشت گرد چھپے ہوئے تھے جن کا ذمہ دار” ابو میسرہ قوقازی” ہے۔

      اس کے جواب میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی قیادت میں اتحاد کے ایک ترجمان نے داعش کے خلاف جنگ کرنے میں عراقی فورسز کی حمایت کرنے کی تردید کی ہے اور کہا کہ اتحادی افواج نے "القائم” نامی شہر پر کسی بھی طرح کا کوئی حملہ نہیں کیا ہے۔

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>