حلب اپنے انجام کے انتظار میں ۔۔ "الباب" شہر کی جنگ پر نگاہیں مرکوز - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: ہفتہ, 10 دسمبر, 2016
0

حلب اپنے انجام کے انتظار میں ۔۔ "الباب” شہر کی جنگ پر نگاہیں مرکوز

%d8%ad%d9%84%d9%861111

شامی باشندے حلب کی جہنم سے بھاگ کر "عزیزہ” نامی گاؤں کے باہر ایک پرامن جگہ پر جمع ہوتے ہوئے۔

لندن: "الشرق الاوسط”

      ایک طرف تو بشار الاسد کی فوج کی طرف سے حلب کے مشرقی علاقوں پر دوبارہ فضائی حملے شروع کئے جانے کے بعد حلب اپنے انجام کے انتظار میں ہے تو دوسری طرف "الباب” نامی شہر کے مشرقی محلہ پر نگاہیں مرکوز ہیں جہاں "شیلڈ فرات” نامی کاروائی از سرے نو شروع ہو چکی ہے اور ترکی کی حمایت سے شہر کی طرف پیش رفت کر رہی ہے۔

      اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے ایک ترجمان "روپرٹ کولویل”  نے کل جنیوا سے اعلان کیا کہ تنظیم  کو حلب میں شامی حکومت  کے ماتحت علاقوں کو  پار کرنے کے بعد سینکڑوں افراد کے گم ہونے کے سلسلہ میں بہت زیادہ پریشان کن خبریں موصول ہوئیں ہیں اور اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ 100 ہزار سے زائد افراد مشرقی حلب میں اپوزیشن فورسز کے ماتحت علاقوں میں موجود ہیں۔

       جنیوا میں امریکی اور روسی حکمرانوں  کے مابین ہونے والے اجلاس کے موقع پر آج شام یہ چیلنج غیر معمولی روسی سختیوں سے دوچار حلب شہر کے سب سے نمایاں نشانی کی تصویر کشی کرتا ہے۔ "الباب” نامی شہرکی فائل نے پیش رفتوں کا ذکر اس وقت کیا  جب "شیلڈ فرات” کے  فوجیوں  نے بیس دن جنگ بندی کے بعد شہر سے دو کیلومیٹر کے فاصلے پر  پہنچ کر شہر پر دوبارہ حملہ شروع کر کے شامی حکومت کو حیران  کردیا۔

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>