"اوپیک" ممالک اور تیل برآمد کرنے والے دوسرے ممالک کے درمیان ایک معاہدہ - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: اتوار, 11 دسمبر, 2016
0

"اوپیک” ممالک اور تیل برآمد کرنے والے دوسرے ممالک کے درمیان ایک معاہدہ

%d9%be%d9%b9%d8%b1%d9%88%d9%84

سعودی پٹرولیم کے وزیر خالد الفالح وینا میں (اوپیک) تنظیم کے اجلاس کے دوران پٹرولیم اور معدنی وسائل کے نائب وزیر شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان کے ساتھ دیکھے جا سکتے ہیں

خبر: وائل مہدی

      کل وینا میں تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم  (اوپیک) اور تیل برآمد کرنے والے (تنظیم میں غیر شامل) دوسرے ممالک کے درمیان ایک معاہدہ ہوا ہے۔

      قطر پٹرولیم کے وزیر اور اس سال "اوپیک” کانفرنس کے وزارتی سربراہ  ڈاکٹر محمد السادہ  نے آسٹریا کے دارالحکومت میں ایک پریس کانفرنس کے دوران اعلان کیا کہ تنظیم "اوپیک” کے علاوہ 12 ممالک نے عام پیداوار کو کم کر کے صرف 558 ہزار بیرل یومیہ پیداوارکرنے  پر اکتفا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید یہ بھی کہا کہ یہ تعداد ہدف کے مقابلہ میں کم ہے لیکن پھر بھی "اوپیک” نے گزشتہ ماہ وینا میں ہونے والے حالیہ معاہدہ میں شامل ہونے کے لئے  تنظیم میں غیر شامل ممالک کو قائل کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔

      اجلاس کے بعد سعودی پٹرولیم کے وزیر انجینیئر خالد بن عبد العزیز  الفالح نے ٹوئٹر پر کہا کہ یہ اجلاس تاریخی ہے اور یہ اجلاس "اوپیک” ممالک اور دوسرے ممالک کے درمیان پہلے کے مقابلہ میں وسیع پیمانہ پر تعاون کے امکانات کو فراہم کرے گا۔

      امید کی جاتی ہے کہ روس "اوپیک” ممالک اور تیل برآمد کرنے والے دوسرے ممالک کے درمیان ہونے والے معاہدہ کے مطابق تیل کی پیداوار میں حقیقی کمی کرکے یومیہ 300 ہزار بیرل تک کی پیداوار کرنے پر اکتفا کرے گا۔ یاد رہے کہ یہ معاہدہ 2001 سے اب تک کا پہلا معاہدہ ہے ۔

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>