مشرقی حلب زوال پذیر.. اور تدمر میں ایک بار پھر «داعش» - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
کو: اتوار, 11 دسمبر, 2016
0

مشرقی حلب زوال پذیر.. اور تدمر میں ایک بار پھر «داعش»

پیرس کانفرنس میں روس اور شامی حکومت کو "اپیل” – اور اپوزیشن "اپنی سابقہ شرائط” سے دستبردار

news-101216-39

 

بيروت: يوسف دياب  ـ  پیرس: ميشال ابو نجم

      آٹھ ماہ کی بے دخلی کے بعد کل تنظیم داعش شام کے وسطی قدیم شہر "تدمر” میں داخل ہو چکی ہے۔ ان کے یہاں آنے کی وجہ مشرقی حلب میں شامی حکومت کی  پیش قدمی کرنے سے اس شہر کے زوال پذیر ہونے کے  ساتھ ساتھ ترکوں اور بین الاقوامی اتحاد کی طرف سے  الباب اور رقہ دونوں شہروں میں "داعش” پر گھیرا تنگ کرنا ہے۔

       شام میں انسانی حقوق کی رصد گاہ نے کہا ہے کہ "داعش” کے مسلح افراد "تدمر” کےقریب شمالی حصہ کے  اونچے اسٹریٹجک علاقوں پر کنٹرول  اور ارد گرد کے پہاڑوں پر قبضہ کرنے کے بعد اس میں داخل ہو چکے ہیں۔ رصد گاہ کے سرگرم افراد نے بتایا کہ تنظیم نے "تدمر قلعہ کو گولہ باری اور بھاری مشین گنوں سے نشانہ بنایا”۔

      حکومت کے زیر کنٹرول مغربی حلب کی جانب فرار ہونے والے سینکڑوں شہریوں کامستقبل ابھی بھی واضح نہیں ہے۔  جینوا بیان اور قرار داد 2254 کی بنیاد پر کل پیرس اجلاس میں "سخت موقف” اختتام پذیر ہوا، جس میں شہر کی فائل کو پس پشت ڈال دیا گیا، اس کے زوال کو تسلیم کر لیا گیا اور اپوزیشن پر دباؤ بڑھا کر بغیر کسی پیشگی شرائط کے اسے مذاکرات کی میز پر لانے کے لئے مذاکراتی سپریم کمیشن نے اس کی منظوری دے دی ہے، جسے ریاض نے پس پشت رہتے ہوئے تسلیم کیا تھا۔

     قابل ذکر بات یہ ہے کہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری اس حد تک گئے ہیں کی انہوں نے روس اور شامی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عام شہریوں اور حلب کے ساتھ تھوڑا سا "رحم دلی اور ہمدردی” کا مظاہرہ کریں۔

متعلقہ عنوانات‬:, , ,
شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>