دہشت گردی فتنہ کی آگ کو ہوا دے رہی ہے - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
کو: پیر, 12 دسمبر, 2016
0

دہشت گردی فتنہ کی آگ کو ہوا دے رہی ہے

مصر میں سوگ – قاہرہ میں چرچ کے اندر دسیوں عيسائيوں کی ہلاکت پر اسلامی اور بین الاقوامی ممالک کی مذمت
1-h90hw90jh690whj0w6h

قاہرہ میں کل آرتھوڈکس گرجا گھر سے منسلک ایک چرچ کے اندر بم دھماکے سے ہونے والی تباہی کے اثرات – جس میں 23 افراد جاں بحق ہوئے جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں (رویٹر)

قاہرہ: وليد عبد الرحمن – محمد شعبان

    فرقہ وارانہ فتنے کی آگ کو ہوا دیتی دہشت گردی نے کل قاہرہ کے مرکزی علاقے عباسیہ میں عيسائىآرتھوڈکس گرجا گھر کے ساتھ منسلک چرچ کو نشانہ بنایا، جس میں دھماکے سے کم سے کم 23 افراد جان بحق اور 49  افراد زخمی ہو گئے  جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔ مصر نے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے- اس دوران صدر عبد الفتاح سیسی نے حملہ کی مذمت کرتے ہوئے تمام مصریوں (مسلمان اور عیسائی) سے کہا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف متحد ہوں۔

     حملے کے بعد عوام میں شدیدغم وغصہ کی لہر دوڑ گئی  جس نے ذمے داران کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا، جبکہ عرب، اسلامی اور بین الاقوامی ممالک کی طرف سے اس کی مذمت کی گئی۔  سعودی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ "اس دہشت گرد بزدلانہ کاروائی کو دین اسلام مسترد کرتا ہے اسی طرح دیگر مذاہب  اور انسانی اقدار  واصول بھی اسے مسترد کرتے ہیں”۔

     قاہرہ کے چرچ میں یہ بم دھماکہ دہشت گردانہ منصوبہ بندی کی تکمیل ہے جو تمام حدود کو پار کر چکی ہے۔ مصر میں سن 2013 میں سابق صدر محمد مرسی کی بر طرفى پر اخوان المسلمین نامی جماعت کے حامیوں  کی طرف سے احتجاج کے دوران ملک میں گرجا گھروں کو بڑے پیمانے پر نشانہ بنانے کے واقعات دیکھنے میں آئے۔

      اسی طرح خلیجی ممالک اور خاص طور پر سعودی عرب میں  علاقائی "داعش” کی طرف سے خطرات اور متعدد عبادت گاہوں پر حملوں میں  اضافہ ہوا۔  حتی کہ مکہ مکرمہ میں مسلمانوں کا قبلہ بھی ان حملوں سے محفوظ نہیں رہا، جسےگذشتہ اکتوبر میں حوثی ملیشیاؤں  نے بیلسٹک میزائل سے نشانہ  بنایاتھا۔

 

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>