"داعش" تدمر میں قلعہ بند - اورحلب انتظار میں - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
کو: پیر, 12 دسمبر, 2016
0

"داعش” تدمر میں قلعہ بند – اورحلب انتظار میں

6-89h9w485u9h8w4

"داعش” کے ماتحت "اعماق” نامی ایجنسی کی طرف سے بنائی گئی ویڈیو سے لی گئی تصویر، جس میں انتہا پسند تنظيم کی طرف سے دوبارہ قبضہ کئے گئے شہر تدمر میں دو جنگجو اس گودام کے سامنے کھڑے ہیں جسے انہوں نے آگ لگانے کا دعوی کیا ہے (رويرنز)

بيروت: كارولين عاكوم

     چار روز قبل تنظیم داعش پر اچانک  حملے کے بعد وہ آثار قدیمہ کے شہر تدمر میں قلعہ بند ہو رہی ہے- اس نے شہر کے فوجی ہوائی اڈے اور آثار قدیمہ کے قلعہ سمیت پورے شہر پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ شامی حکومت کے ماتحت روسی جنگی طیاروں کی جانب سے شدید فضائی حملوں کے باوجود  شامی حکومتی افواج جنوب مغربی صحرائی علاقوں کی جانب  پسپا کر دی گئی ہیں۔

     "شامی انسانی حقوق کی رصد گاہ ” کے مطابق تنظیم نےتدمر کی فرنٹ لائن اور گورنریٹ حمص کے مشرقی مضافات میں 300 سے زائد عناصر کو بھیجا  گیا ہے،  جو کہ  اس کے رہنماؤں سمیت 500 سے زائد جنگجوؤں کو عراق سے رقہ  لانے کے بعد ہے۔

       دوسری جانب، مشرقی حلب میں محصور افراد اپنے بارے میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور روس کے آخری فیصلے کے منتظر ہیں، اور یہ اپوزیشن کی طرف سے مخالفین کے لئے  «محفوظ انخلاء» کی تجویز دینے اور ماسکو کی جانب سے اسے مسترد کرنے  اور پھر دونوں ملکوں کے حکام کی یقین دہانی کرنے  کے بعد ہے۔  اپوزیشن  کے ذمے داران نے "رویئٹرز” ایجنسی کو یقین دہانی کی کہ گورنریٹ ادلب میں جانے کے لئے "فتح شام” نامی فرنٹ (سابقہ نصرت فرنٹ) کے جنگجوؤں پر  اس تجویز کی پابندی  ضورورى ہے لیکن اس میں دیگر جماعتوں کے جنگجوؤں کو دوسرے علاقوں کی طرف جانے کی اجازت ہے انہی میں ترکی کی سرحد کے قریب شمالی حلب کے علاقے بھی شامل ہیں۔

      مگر روس کے نائب وزیر خارجہ” سیرگی ریابکوف” نے ماسکو  کے واشنگٹن کے ساتھ کسی سمجھوتے پر پہنچنے کی تردید کی ہے۔  ریابکوف نے "روسیا الیوم” سے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن "جنگ بندی کی ناقابل قبول شرائط پر مصر ہے”۔

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>