مشرقی حلب – جرائم کے بعد سمجھوتہ - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
به قلم:
کو: بدھ, 14 دسمبر, 2016
0

مشرقی حلب – جرائم کے بعد سمجھوتہ

ہلاکتوں نے سلامتی کونسل کو بیدار کیا، روسی – ترکی رابطے کی کوشش اور شہریوں کے مستقبل کے بارے میں کئی سوالات
news-131216-a

کل مشرقی حلب میں نا معلوم سمت میں جاتے ہوئے تین بچے (رویٹرز)

 

بیروت: بولا اسطیح – نیویارک: جوردن دقامسہ

      عراقی جنگجوؤں کی شرکت کے ساتھ شامی حکومتی فوج کی طرف سے قتل عام اور دیگر مظالم کے واقعات کے بعد، مشرقی حلب میں روس اور ترکی کی سرپرستی میں جنگ بندی کا معاہدہ طے كيا گیا ہے اور یہ کوشش تمام مسلح افراد اور عام شہریوں کو حلب شہر سے پر امن نکلنے کا راستہ فراہم کرنے کے لئے ہے۔

      مشرقی حلب میں اپوزیشن کے دو دھڑوں کی جانب سے جنگ بندی  کے  اعلان کئے جانے کے بعد، جسکا آغاز کل صبح سے ہونا تھا، اقوام متحدہ میں روس کے نمائندے "ویتالی چرکین” نے انتظار کیا حتی کہ فرانس اور برطانیہ کے مطالبہ پر سلامتی کونسل سمجھوتے تک پہنچنے کے لئے  ہنگامی اجلاس منعقد کرے۔

       دریں اثناء چرکین نے کہا کہ "عنقریب حلب شامی حکومت کے زیر کنٹرول ہوگا چنانچہ باقی شہریوں کو یہاں سے جانے کی ضرورت نہیں، وہاں انسانی انتظامات کی فہرست ہے” خاص طور سے کل  اقوام متحدہ کی جانب سے شامی حکومتی افواج اور ان کے اتحادی عراق جنگجوؤں پر  شہر میں قتل عام  کرنے اور اس کے مضافات میں فائرنگ سے دسیوں افراد  کو ہلاک کرنے کا الزام  عائد کئے جانے کے بعد شہریوں کے مستقبل کے حوالے سے کئی  سوالات اٹھ رہے ہیں۔

      علاوہ ازیں اقوام متحدہ میں امریکہ کی خاتون نمائندہ "سمانتھا پاور” نے شہریوں کے مکمل محفوظ نكلنے کی نگرانی کے لئے "غیر جانبدار بین الاقوامی مبصرین” کی حلب میں تعیناتی کا مطالبہ کیا ہے۔

      اقوام متحدہ میں برطانیہ کے نمائندے "ماتھیو رایکروفٹ” نے کل اسے "سلامتی کونسل کے لئے سخت ترین دن” سے تعبیر کیا، جبکہ ان کے فرانسیسی ہم منصب "فرنسوا  ڈیلاٹر” نے کہا کہ "اس ہلاکت خیز سیاہ  گھڑی میں حلب کے لئے بہت زیادہ دیر بالکل نہیں ہوئی کہ ہم انسانی جانوں کو بچانے کے لئےکچھ کر سکیں”۔  

      یاد رہے کہ روس نے شام کے حوالے سے سلامتی کونسل کے چھ مسودے کی قراردادوں کے خلاف "ویٹو” کاحق  استعمال کر چکا ہے اور ان فیصلوں میں پانچ بار چین نے ماسکو کا ساتھ دیا ہے۔

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>