ماسکو اور واشنگٹن حلب کے بعد کے لئے تیار - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: بدھ, 14 دسمبر, 2016
0

ماسکو اور واشنگٹن حلب کے بعد کے لئے تیار

%d8%ad%d9%84%d8%a8

شامی خاندان اپنے سابقہ علاقوں کی طرف واپس ہونے کے لئے حلب کے باب الحدید نامی گاؤں میں انتظار کر رہے ہیں

بیروت: نذیر رضا

      حلب میں جاری قتل و‏غارتگری کو روکنے کے لئے ماسکو نے کل ہفتہ کے دن روسی اور امریکی ماہرین کے مابین جنیوا میں ہونے والے اجلاس کو  باقی رکھنے کی خواہش ظاہر کی ہے کیونکہ روسی وزیر خارجہ سیرگئی لافروف نے کل یورپ کے  ہیمبرگ  شہر میں سلامتی اور تعاون کی تنظیم کے اجلاس کے موقع پر کہا تھا کہ شامی حکومت کی فورسز نے عام شہریوں کے نكلنے  کی اجازت کی وجہ سےحلب میں جنگی کارروائیوں کو روک دیا ہے۔

      لافروف نے واضح کیا کہ حلب کی موجودہ صورت حال پر تبادلۂ خیال کرنے کے لئے امریکی اور روسی فوجی ماہرین کے درمیان جنیوا میں ایک اجلاس کے منعقد ہونے پر اتفاق ہو چکا ہے اور میدان کے حالیہ واقعات کی روشنی میں بہت سے تجزیہ نگاروں کا کہنا یہ ہے کہ حلب میں فیصلہ کے بعد امریکہ اور روس کے مذاکرات کس مرحلہ تک پہنچیں گے۔

      کل ماسکو کی طرف سے اعلان کردہ فیصلہ نے فوجی مہم کے بیس دن کے بعد شہر کو  ان کے باشندوں اور جنگجوؤں سے خالی کرنے سے پہلے  محصور علاقوں کے مغرب میں واقع تین محلوں کی طرف عام شہریوں اور جنگجوؤں کو  منتقل ہونے پر آمادہ کرنے کے سلسلہ میں شامی حکومت کی کوششوں کو روک دیا ہے جبکہ یہ وہ علاقے ہیں جہاں کے 75 فیصد سے زائد حصوں پر شامی حکومت کا غلبہ ہے۔ اپوزیشن فورسز اور بہت سے خاندان مشرقی حلب کے محلوں کے جنوبی اور مغربی حصے میں محصور ہیں۔

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>