کیا گھر میں ہوم ورک مکمل کرنا ضروری ہے؟ - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: ہفتہ, 17 دسمبر, 2016
0

کیا گھر میں ہوم ورک مکمل کرنا ضروری ہے؟

%d8%a8%da%86%db%81

مڈریڈ: صبیح صادق

      اسپین میں روز بروز خاص طور پر ابتدائی مرحلہ کے بچوں کے لئے ہوم ورک ختم کئے جانے اور دوسرے مراحل کے طلبہ کے لئے کم کئے جانے کا مطالبہ بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ اس معاملہ کی تائيد اور مخالفت کرنے والے کے مابین بارہا گفتگو ہو چکی ہے۔ یوں تو  اس مسئلہ کو ختم کرنے کے سلسلہ  میں سب سے زیادہ متحمس اسپین میں طلبہ کے والدین کی کونسل ہے جس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ اس کونسل کا کہنا ہے کہ گھر پر ہوم ورک مکمل کرنے کی ذمہ داری غیر ضروری ہے۔ اس کونسل کی طرف سے اساتذہ سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ طلبہ کو گھر پر ہوم ورک کرنے کا مکلف نہ بنائیں۔  اسی طرح  کونسل نے طلبہ کے ذمہ داروں سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو گھر پر ہوم ورک نہ کرنے کا مزاج بنائیں خاص طور پر ہفتہ کی چھٹی کے دنوں میں کیونکہ اسکول کے یہ ہوم ورک  بچوں پر بہت زیادہ بوجھ ہیں  اور یہ بچوں کو ان کے اہل خانہ سے جدا کردیتے ہیں۔  کونسل نے اسی پر اکتفاء نہیں کیا  بلکہ ایک معتدل حل کے طور پر یہ تجویز بھی پیش کی کہ ان ہوم ورک کے علاوہ کوئی دوسرا ہوم ورک دیا جائے تاکہ بچے ہوم ورک بھی کریں اور اہل خانہ کے ساتھ ان کا تعلق بھی رہے۔ مثال کے طور پر بچہ کو مکلف بنایا جائے کہ وہ کسی خاص موضوع سے متعلق اپنے گھر والوں سے گفتگو کرے یا اپنے گھر والوں کے ساتھ میوزیم جائے یا کسی ثقافتی ادارہ کا قصد کرے یا کسی شہر یا گاؤں کا رخ کرے پھر وہ اپنے  اس سفر کا ایک رپورٹ بنا کر  اپنے استاذ کو پیش کرے۔

       اسپین میں طلبہ کے والدین کے کونسل کے صدر نے "ایڈیال” نامی میگزین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہماری اس درخواست کامقصد اسپین کے تربیتی نظام کو بدلنا ہے اور یہ ہوم ورک کا مسئلہ اسی کی ایک کڑی ہے۔  یہ کہنا غلط ہے کہ بچہ علم حاصل کرنے کے لئے جھیلتا اور تکلیف برداشت کرتا ہے۔  انہوں نے مزید کہا کہ ہوم ورک زیادہ کرانے کے  مقابلہ میں اسکول کے اخیر سالوں میں اوقات میں اضافہ کردیا جائے۔  جس وقت تین سے چھ سال کے بچوں کو کھیل وکود میں اپنا اوقات گزارنے کی ضرورت ہوتی ہے آج ہم دیکھتے ہیں کہ وہ اس وقت پڑھتے ہیں اور ستم بالائے ستم یہ کہ وہ ہوم ورک بھی گھر لا کر مکمل کرتے ہیں جبکہ اسکول کے کام اسکول ہی میں مکمل کرا دینا چاہئے تاکہ وہ  گھر پہنچ کر اسکول کے کام کے بجائے من کے مطابق کام کریں۔

       جہاں تک اسپین میں مزدوروں کے ایسو سی ایشن میں تعلیم کے جنرل سکریٹری "فرانسسکو گارسیا” کی رائے کی بات ہے تو ان کا کہنا ہے کہ اس مسئلہ سے متعلق والدین کے مابین بے چینی کی فضا قائم ہے۔  اس کی وجہ یہ ہے کہ اسپین میں بچے بہت زیادہ ہوم ورک کرتے ہیں۔  اسی لئے اس سلسلہ میں تمام لوگوں کے مابین گفتگو ہونی ضروری ہے۔

      طلبہ کے والدین کی کونسل کی اپیل کو بہت سارے اداروں کی طرف سے سخت مخالفت کا سامنا کرنا پڑا اور اس مذکورہ اپیل کو غیر ذمہ دارانہ اپیل سے تعبیر کیا گیا ہے۔ کیتھولک اسکول یونین کے ذمہ دار نے صراحت کے ساتھ کہا کہ ہم کسی بھی صورت میں اسکول کے ہوم ورک کے خلاف کوئی اپیل قبول نہیں کریں گے اور یونیورسٹی کے ریاضیات کے استاذ نے بھی کہا کہ ہم کسی بھی صورت میں اسکول کے ہوم ورک کے سلسلہ میں کسی بھی خلاف ورزی کو قبول نہیں کریں گے لیکن اسی کے  ساتھ یہ بھی کہا کہ ہوم ورک کم ہونے چاہئے کیونکہ بہت زیادہ ہوم ورک کا مطلب یہ ہے کہ ایک بچہ ہوم ورک مکمل کرنے کے لئے پوری شام بیٹھا رہے لہذا یہ کام بہت زیادہ ہوگا اس میں کمی کرنا ضروری ہے ۔

       ایک استاذنے اس بات کی شکایت کی کہ اہل خانہ  اپنے بچوں کی مطلوبہ تربیت نہیں کرتے ہیں لہذا اس وقت ضروری ہوتا ہے کہ ایک استاذ استاذ ہونے کے ساتھ ساتھ مربی بھی ہو اور ایسا لگتا ہے کہ ہم اساتذہ پر لازم ہے کہ ہم درجہ میں والدین کی بھی ذمہ داری انجام دیں۔  ہم پر یہ بھی لازم ہے کہ ہم بچوں کو دوسروں کے ساتھ تعامل کرنا اور ان کا احترام کرنا سکھائیں بلکہ معاملہ اس حد تک پہنچ چکا ہے کہ ہم پر ضروری ہے کہ ہم انہیں سکھائیں کہ وہ زمین پر کاغذ نھ پھینکیں جبکہ ضروری یہ تھا کہ بچے یہ سب گھر سے سیکھیں یہ سب گھر والوں کی ذمہ داری ہے۔  اگر والدین نے گھر میں  اچھی طرح تربیت دی ہوتی تو ہم اساتذہ بہت ساری چیزوں کو مختصر مدت میں انجام دے سکتے تھے اور مضمون کو اچھے انداز میں پڑھانے اور سمجھانے میں وقت کا صحیح استعمال کر سکتے  تھے۔

       "El-Mundo” نامی ایک اسپینی میگزین نے 1748 والدین اور 472 بچوں کے درمیان ہوئے ایک سروے کا ذکر کیا تھا جس میں نتیجہ کے طور پریہ بات سامنے آئی تھی کہ چالیس فیصد گھروں کے بچوں کے پاس بہت زیادہ تجربات ہیں اور اڑتالیس فیصد گھروں کا یہ گمان ہے کہ یہ ہوم ورک گھریلو تعلقات پر منفی طور ر اثر انداز ہوتے ہیں۔  لہذا اس سروے کے مطابق ہر پانچ والدین میں سے ایک کا کہنا ہے کہ ان کا بیٹا ان اسکول کے ہوم ورک کو مکمل کرنے کے لئے روزانہ دو گھنٹے بیٹھتا ہے۔

       ایک اسپینی میگزین نے تربیتی امور کے دو ماہرین کے درمیان ایک مکالمہ پیش کیا ہے۔ جن میں  ایک کا نام ” ایبا بائلین” ہے۔  ان کے پاس تین اولاد ہیں اور  ان کی رائے یہ ےہ کہ یہ اسکول کے ہوم ورک کام میں اضافی گھنٹوں کے مانند ہیں اور تکلیف دہ بھی ہیں کیونکہ بہت سے کام کرنے والے کام میں اضافی گھنٹوں میں کام کرنا نہیں چاہتے ہیں لیکن یہ لوگ بچوں کے سلسلہ میں ہوم ورک کے طریقہ کی تائید کرتے ہیں۔  دوسرے کا نام "سونیا گارسیا ” ہے ۔  یہ کمیونیکیشن کے میدان میں سکریٹری کی حیثیت سے کام کرتی ہیں۔  ان کی رائے یہ ہے کہ ہوم ورک میں تھوڑی سی کمی کی جانی چاہئے لیکن اسے مکمل طور پر ختم نہیں کرنا چاہئے کیونکہ یہ ہوم ورک کا طریقہ بہت مفید ہے۔  اس سے بچوں کو یہ فائدہ ہوتاہے کہ ان کے اندر تعلیم میں تسلسل کی کیفیت پیدا ہوتی ہے اور اسی طرح  ذمہ داری اٹھانے کی صلاحیت پیداہوتی ہے۔  اسی کی وجہ سے وہ ذاتی محنت کے ذریعہ تعلیم حاصل کرتے ہیں اور یہ طریقہ مضمون کو سمجھنے میں ان کے لئے معاون ثابت ہوتا ہے لیکن یہ سب بچوں کی عمر کے مطابق ہونا چاہئے اور ہوم ورک کی کمیت سے متعلق اساتذہ کے درمیان ایک اتفاق ہونا چاہئے ۔

       اسپین میں ابھی بھی یہ مسئلہ موضوع بحث بنا ہوا ہے لیکن اس کے ذریعہ ملک کی تعلیمی نظام میں دوبارہ غور وفکر کرنے کی اہمیت کی طرف توجہ مبذول کی جا رہی ہے۔

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>