"ماسکو اعلامیہ" میں فائر بندی کی تجویز - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: بدھ, 21 دسمبر, 2016
0

"ماسکو اعلامیہ” میں فائر بندی کی تجویز

شام سے متعلق”جینوا” اجلاس کی ناکامی کے بعد سہ فریقی اجلاس اور ضمانت کی پیشکش * مشرقی حلب کو خالی کرنے کا عمل ختم ہونے کے قریب
1482255879073239600

کل ماسکو میں شام کے بحران پر بات چیت کرنے کے لئے سہ فریقی اجلاس میں روسی وزیر خارجہ سیرگی لافروف اپنے ترک ہم منصب مولود جاویش اوغلو سے مصافحہ کرتے ہوئے اور ایرانی وزیر محمد جواد ظریف بھی اس میں دیکھے جا سکتے ہیں (ا ۔ ب ۔ ا)

 

ماسکو: طہ عبد الواحد

     کل ماسکو میں سہ فریقی وزرائے خارجہ کے اجلاس میں روسی کے سیرگی لافروف، ترکی کے مولود جاویش اوغلو اور ایران کے محمد جواد ظریف نے "اعلان ماسکو” نامی ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا، جس میں سہ فریق نے فائر بندی  کو وسعت دیتے ہوئے اس کی پورے شام میں نافذ کرنے اور جینوا اجلاس کے ایک واضح ریفرنس کو طور پر شامی حکومت اور اپوزیشن کے مابین مصالحت کرانے کا عہد کیا ہے۔

     لافروف نے اجلاس کے مشترکہ بیان کو نقل کرتے ہوئے کہا کہ "ایران، روس اور ترکی ؛ شامی حکومت اور اس کی اپوزیشن کے مابین سمجھوتہ کے لئے امداد فراہم کرنے اور اپنا بطور ضامن کردار ادا کرنے کو تیار ہیں”۔ انہوں نے مزید کہا کہ "وزرا نے فائر بندی میں مزید اضافہ کرنے کی اہمیت پر اور انسانی بنیادوں پر امداد کے داخلے اور شام کی سرزمین میں شہریوں کی نقل و حرکت کی اجازت دینے پر اتفاق کیا ہے۔

     دریں اثناء، روسی وزارت خارجہ نے بیان دیا ہے کہ لافروف نے اپنے امریکی ہم منصب جون کیری سے ٹیلی فونک رابطے کے دوران انہیں ماسکو مذاکرات کے نتائج کے بارے میں بتایا۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کے توسط سے جنیوا میں ہونے والے مذاکرات شامی اپوزیشن کی جانب سے جلا وطنی کی شرط کے سبب تعطل کا شکار ہو چکے ہیں۔

    وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بالمقابل سہ ملکی وزرائے دفاع کا اجلاس بھی روسی دارلحکومت میں ہوا، جس میں روسی وزیر دفاع "سیرگی شویغو” نے کہا کہ روسی ماہرین نے "ماسکو اعلامیہ” کے مسودہ کی دستاویز تیار کی ہے۔ انہوں  نے مزید کہا کہ "اس سے قبل ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور اس کے شرکا کی طرف سے باہمی اتفاق کی خاطر مربوط کوششیں ناکامی سے دوچار ہوئیں ۔۔۔ ان میں سے کوئی ایک بھی حقیقی معنوں میں کامیاب نہیں ہوسکی”

    دوسری جانب، مشرقی حلب کو شامی اپوزیشن سے خالی کرانے کا عمل اختتام کے قریب ہے۔ اس سلسلہ میں روسی وزیر خارجہ نے یقین دہانی کی کہ یہ عمل زیادہ سے زیادہ دو روز کے اندر اندر مکمل ہو جائے گا۔

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>