زندگی اور موت کے درمیان - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
مصطفی الآغا
به قلم:
کو: جمعرات, 22 دسمبر, 2016
0

زندگی اور موت کے درمیان

 

      زندگی کی یہ حقیقت ہے کہ ہم سب خواہ  ابھی یا  چند دنوں کے بعد ضرور مریں گے ۔ میں اس موقعہ سے غیر حقیقت پسند ہونے کی کوشش نہیں کروں گا بلکہ اپنی خواہش کے بقدر حقیقت پسند ہونے کی کوشش کروں گا کیونکہ موت اس زندگی میں ایک ثابت شدہ منفرد حقیقت ہے اور  موت بر حق  بھی ہے۔  اسی لئے ہم نے اپنے ساتھی حمد ابراہیم کے حق میں  اللہ رب العزت کے فیصلہ کو قبول کیا  اور اس کے قضاء اور قدر پر سمعنا واطعنا کہا۔ ہمارے دوست حمد ریاض میں ابو ظبی کے ایک چینل میں نشرکار تھے اور  ایک بیماری میں مبتلا ہونے کےبعد  ان کا انتقال ہو گیا ۔

      زندگی کی حقیقت یہ بھی ہے کہ ہم بات سنتے ہیں، اس کی تصدیق کرتے ہیں پھر کچھ افعال دیکھتے ہیں اور تعجب کرتے ہیں کیونکہ بات کرنا عام طور پر آسان ہوتا ہے اور خاص طور پر جب بات کا تعلق انتخابات ، مفاد اور کرسی سے ہو تو ا ور ہی آسان ہو جاتا ہے۔  جہاں تک کام کی بات ہوتی ہے تو وہی فیصل اور مین پوائنٹ ہوتا جہاں گفتگو عمل میں بدلتی ہے۔

      اس دنیا میں جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے اسپورٹس اخبارات کی عرب یونین کے بارے میں سنتا آیا ہوں بلکہ اس کی چند سرگرمیوں میں شریک بھی ہوا ہوں اور میں اس بات سے انکار نہیں کر سکتا کہ مجھے بھی کسی سال اس کے ایک تمغہ سے نوزا گیا تھا لیکن توقع یہ تھی کہ لوگ زندگی کے حیرت انگیز ترقیوں کے شانہ بشانہ چلیں خاص کر گزشتہ بیس سالوں میں انٹر نیٹ کے ایجاد کے بعد تاکہ ہم کلاسیکی میڈیا کے دور سے نکل کر الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا کی طرف منتقل ہوں جس کا غلبہ ہماری زندگی کے ہر جز پر ہے مگر کھیل میڈیا نہیں بلکہ عرب پریس یونین  اب بھی اپنی فکر، اپنی توجہات، چیزوں کو ہینڈل کرنے، اپنی انتخابی حکمت عملی اور اس کے فروغ میں یہاں تک کے اپنےاختلافات اور تفرقے میں کلاسیکی ہی ہے۔

       سوال کرنے والے کو سوال کرنے کا حق ہے کہ کھیل میڈیا کے عرب یونین کا حمد ابراہیم کی وفات سے کیا تعلق ؟ جواب یہ ہے کہ اگر ہم اپنے ساتھی حمد کی موت کی خبر نہیں پڑھیں گے یا موت کے بعد ہی صحیح اس کے اعزاز کی دعوت کے بارے میں نہیں سنیں گے تو کب سنیں گے جبکہ فرض یہ تھا کہ اس کی زندگی میں تمام عرب میڈیا کے لئے ایک نمونہ ہو۔

      کب تک ہم میڈیا کی حقیقی یونین کے بغیر رہیں گے کیونکہ تقلیدی میڈیا کا زمانہ ختم ہو گیا  اب وہ دوبارہ نہیں آئے گا ۔ کب تک ہم حقیقی سایہ کے بغیر رہیں گے جس میں نہ کسی سرکاری ایجنسی کی دسترس ہو، نہ کسی قسم کی چاپلوسی اور نہ کسی قسم کے محاسبہ کا خوف ہو… یونین ہی اپنے اراکین کی حمایت کرے، زندہ ہونے کی حالت میں  ان کا تعاون کرے اور مادی ومعنوی ہر اعتبار سے اس کے ساتھ رہے۔ اسی طرح موت کے بعد ان کے اہل خانہ کی مدد کرنے میں حصہ لے۔

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>