تحمل کے بعد روس کے غصے کا اظہار - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
الشرق اردو
به قلم:
کو: جمعرات, 22 دسمبر, 2016
0

تحمل کے بعد روس کے غصے کا اظہار

سفیر کے قاتل کا گولن سے تعلق ہونے پر اردگان کا اصرار

kklsdgjkergjrjkreuifjjhfhfiejr

ماسكو: طہ عبد الواحد

     روس نے گذشتہ پیر کے روز انقرہ میں ترک پولیس اہلکار کی گولی سے اپنے سفیر "آندریا کارلوف” کے قتل کئے جانے پر ابتدا میں تحمل کے بعد کل اپنے غصے کا اظہار کیا۔

     روسی صدارتی اخباری ترجمان "دیمتری بیسکوف” نے اس بات پر زور دیا کہ کارلوف کے قتل کی خبر روس کے صدر ولادی میر پوٹن کے لئے انتہائی تشویش ناک تھی "، جنہوں نے اس حادثہ کو دہشت گردی کا عمل قرار دیا”۔ انہوں نے مزید کہا کہ "سفیر پر حملہ کرنا عملی طور پر ریاست پر حملہ ہے،  اور بین الاقوامی سطح پر یہ ترکی کے وقار پر ایک سخت ضربِ کاری ہے”۔

     دریں اثنا سرکاری ترجمان نے یقین دہانی کی کہ دونوں ملکوں کے تعلقات اس قتل کے حادثہ سے متاثر نہیں ہوئے۔ جبکہ روسی میڈیا کی معلومات اس جانب نمایاں طور پر اشارہ کرتی ہیں کہ ماسکو اور انقرہ کے تعلقات روسی سفیر کے قتل کے بعد متاثر ہوئے بنا نہیں رہ سکتے، جیسا کی روس کے اخبار "ازفستیا” نے کل کے شمارہ میں ڈپلومیٹک ذرائع کے بیان کو نقل کیا ہے کہ ماسکو ترکی کے شہریوں کے لیے روسی ویزے کو ختم کرنے کے بارے میں انقرہ سے مذاکرات کو معطل کر رہا ہے۔

     اسی ضمن میں کل ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے یقین دہانی کی کہ روسی سفیر کا قاتل "مولود الٹن طاش” فتح اللہ گولن کے تبلیغی نیٹ ورک کا حصہ ہے۔

    اردگان نے انقرہ میں پریس کانفرنس میں کہا کہ: "اس (قاتل) کا تعلق دہشت گرد تنظیم فتح اللہ گولن سے ہے اور اسے چھپانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

الشرق اردو

الشرق اردو

«الشرق الاوسط» چار براعظموں کے 12 شہروں میں بیک وقت شائع ہونے والا دنیا کا نمایاں ترین روزنامہ عربی اخبار ہے، 1978ء میں لندن كي سرزميں پر میں شروع ہونے والا الشرق الاوسط آج عرب اور بین الاقوامی امور ميں نمایاں مقام حاصل كر چکا ہے جو اپنے پڑھنے والوں کے لئے تفصیلی تجزیے اور اداریے کے ساتھ ساتھ پوری عرب دنیا کی جامع ترین معلومات پیش کرتا ہے- «الشرق الاوسط» دنیا کے کئی بڑے شہروں میں بیک وقت سیٹلائٹ کے ذریعہ منتقل ہونے والا عربی زبان کا پہلا روزنامہ اخبار ہے، جیسا کہ اس وقت یہ واحد اخبار ہے جسے عظیم الشان بین الاقوامی اداروں کے لئے عربی زبان میں شائع ہونے کے حقوق حاصل ہیں جہاں سے «واشنگٹن پوسٹ»،

More Posts - Website - Twitter - Facebook

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>