سفیر جرم اور دہشت گردی کے پروپگنڈے کے مابین - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
عبد الرحمن الراشد
کو: جمعہ, 23 دسمبر, 2016
0

سفیر جرم اور دہشت گردی کے پروپگنڈے کے مابین

      ترکیا میں روسی سفیر کا قتل دہشت گردی پر مبنی ایک بہت بڑا حادثہ ہے جس میں ایران اور شامی حکومت کا فائدہ ہے جبکہ شامی شہریوں کا نقصان ہے۔  اس جرم سے اس بات کی تاکید ہوتی ہے کہ پھر دوبارہ پوری دنیا کی امن وسلامتی  پہلے کے مقابلہ میں بہت زیادہ نشانہ پر ہے۔

      افسوس کی بات یہ ہے کہ دہشت گردی اور شام جیسے علاقائی مسئلوں کے مابین پیچیدگیاں  پیدا کی جارہی ہیں۔  جس نے سفیر "اندرے کارلوف” کو انقرہ میں قتل کیا ہے اس نے شام میں جاری حادثات کے سلسلہ میں انتقام کے نام پر اپنے جرم کو جائز قرار دیا ۔

      دہشت گرد تنظیموں کی کاروائیوں کا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔  اسی طرح جرمن کی دار الحکومت برلن میں ایک اور دہشت گرد نے ٹرک حادثہ کے ذریعہ قتل کے جرم کا ارتکاب کیا جبکہ اس ملک نے شامی عوام کا بہت تعاون کیا،  ان کی آزادی کی  کوششوں کو سراہا اور سینکڑوں پناہ گزینوں کو اپنے ملک میں رہائش فراہم کیا ۔ اسی ہفتہ میں داعش کا یہ فخریہ بیان آتا ہے کہ اس کے ایک کارکن نے اردن کے کرک نامی شہر میں دس لوگوں کو قتل کر ڈالا۔  

      جو شخص دہشت گردی پر مبنی روسی سفیر کے قتل کے جرم کو استعمال کرے گا، اس کو جائز قرار دےگا اور شام اور حلب کے ٹریجڈی سے اسے جوڑے گا حقیقت میں وہ شخص روس سے عوام کے غصہ کے جذبات کا استغلال کرے گا اور اس دہشت گرد تنظیم کا تعاون کرے گا جس نے  پوری دنیا کو شامی عوامی اور ان کی آزادی کی کوشش کے خلاف اکسانے اور بھڑکانے کا کام کیا  ہے ۔

      لوگوں کے مابین روس کی کارکردگی سے غصہ کی لہر تو ہے لیکن ضروری ہے کہ ہم اس کے مابین اوردہشت گردی کے مابین فرق کریں کیونکہ روس مشرق وسطی کے علاقوں میں بہت مطمئن تھا خاص کر عرب ملکوں میں تو وہ بہت ہی زیادہ  مطمئن تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ روس استعمار کے خلاف ہے،  آزادی کا  مؤید ہے اور غیر وابستہ تحریک کا حامی ہے۔  روس کو عرب کے فلسطین جیسے اہم مسائل میں اپنے موقف کا علم ہے۔ اسی لئے  وہ علاقائی فوجی مہم میں ملوث نہیں ہے حتی کہ جب روس  نے ستر کے دہائی  میں افغانستان پر قبضہ کیا تھا تو بہت سارے لوگوں نے اس کوشش کو  ایک دور دراز علاقہ میں دو قطبی تنازعہ کا ایک باب قرار دیا تھا۔

      روس کے یہ سارے موقف  شام میں وحشیانہ مداخلت کی وجہ سے بدل گئے۔  ماسکو کا سارہ جمع شدہ انسانی، اخلاقی اور  تاریخی بیلنس طاقت وقوت کےنشہ کی وجہ سےختم ہو گیا ۔ یہ سب کچھ شام میں اور خاص کر حلب کے واقعات میں ان کے رد عمل کے طور پر ظاہر ہوئے ہیں۔ صرف مسلح جماعتیں ہی نہیں بلکہ  شدت پسند جماعتیں بھی ماسکو کے اس ناپسندیدگی کے میدان گارزار میں اترنا چاہتی ہیں جبکہ یہ معلوم ہے کہ مشرق وسطی  کی حکومتیں روس کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہتی ہیں اور ایک ایسا معقول سیاسی حل تلاش کرنا چاہتی ہیں جو سب کے نزدیک قابل قبول ہو اور جس کی بنیاد پر شام کی جنگ کو ختم کرنا ممکن ہو۔ مشرق وسطی کی حکومتیں روس جیسے بڑے ملک کو کھونا نہیں چاہتی ہیں اور نہ ہی اسے ایران اور شامی حکومت کی طرف آمادہ کرنا چاہتی ہیں کیونکہ اس کے ساتھ کوئی سیاسی اختلاف نہیں ہے اور اگر روسی قیادت چاہتی ہے کہ مشرق وسطی  میں اس کا کردار باقی رہ سکے تو اس تعلق کو بحال کیا جا سکتا ہے اور اس کی دوریوں کو کم کیا جا سکتا ہے تاکہ اس کا کردار مثبت ہو۔  یہی وجہ ہے کہ مشرق وسطی میں ماسکو کے خلاف دشمنی پر مبنی کوئی کیمپ نہیں ہے۔ اسی طرح  واشنگٹن اور مغرب سے قریب مشرق وسطی کے علاقوں میں بھی  کوئی فوجی کیمپ نہیں ہے اور یہ ممالک مشرق وسطی کے ملکوں کو کسی کے خلاف یا کسی کے ساتھ دو حصوں میں کئے جانے پر راضی نہیں ہیں جیسا کہ سرد جنگ میں ہوتا ہے۔

      اس کے باوجود کہ امید بہت کم ہے لیکن پھر بھی شامی انقلاب میں شدت پسند عناصر کو ختم کرنے کےلئے روس شام میں بہت ہی اہم مثبت کرار ادا کر سکتا ہے۔  اسی طرح سالہا سال جنگ میں قتل وغارت گری کے ذمہ دار شامی حکومت کی شدت پسندی کو ختم کر سکتا ہے۔

      داعش اور دوسری دہشت گرد تنظیمیں ان کوششوں کو ناکام بنانا چاہتی ہیں اور یہ تنظیمیں جانتی ہیں کہ روس کے ذمہ داروں کو نشانہ بنا کر غضبناک قوم کو برانگیختہ کیا جا سکتا ہے اور مشرق وسطی   کی حکومتوں کو پریشان کیا جا سکتا ہے جو لاکھوں شامیوں کی حمایت اور ان کے تعاون سے عاجز وبے بس نظر آرہی ہیں۔

      روس سے متعلق یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ آج اسے اس قدر بدنامی ہوئی ہے کہ اس سے قبل کبھی نہیں ہوئی تھی اور شام میں ایرانیوں اور شامی حکومت کی مدد سے متعلق اپنی ذمہ داری،   اپنے اعمال اور اپنے موقف کو جائز قرار دینے کے سلسلہ میں "روسیا الیوم” نامی چینل اور دوسرے سرکاری صحافتی پلیٹ فارموں سے پیش کیا جانے والا یہ پروپگنڈہ کامیاب نہیں ہوا اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ روس کو لاکھوں عرب اور مسلمانوں کی رائے کی کوئی پرواہ ہی نہ ہو کیونکہ یہ لوگ ان کا انتخاب نہیں کرتے ہیں اور ناہی ان کی حکومت کی پالیسیوں میں اثر انداز ہوتے ہیں لیکن ہم جانتے ہیں کہ دہشت گردی  لوگوں کے غضبناکی  اور حکومت کی عاجزی جیسی سخت صورتحال سے فائدہ اٹھاتی ہے ۔

      جن لوگوں نے بھی روسی سفیر کے قتل کو سراہا ہے حقیقت میں وہ جذباتی طور پر داعش اور اس جیسے دوسری تنظیموں کے حامی ہیں اور خود ان کی خطرناکی  دہشت گردوں کی خطرناکی  سے کم نہیں ہے۔  طے شدہ بات ہے کہ یہ لوگ اپنی سعادت مندی کا اظہار کر کے اور اس جرم کو جائز قرار دے کر غضبناک سادے لوگوں کو دہشت گرد جماعتوں کی مدد کرنے پر آمادہ کر رہے ہیں اور ہمدردی اور پروپیگنڈے کے ذریعہ دہشت گردی کو آکسیجن فراہم کر رہے ہیں ۔ داعش اور "نصرۃ فرنٹ”جماعتیں شر وفساد اور خطرناکی میں شام کے اندر جنگ کرنے والی ایرانی میلیشیاؤں اور شامی حکومت سے کم نہیں ہیں۔ انقرہ کے جرم کو صحیح سمجھنا براہ راست جرم کے مترادف ہے کیونکہ اس کام سے دہشت گردوں کو فوج میں بھرتی کرنے اور عطیات حاصل کرنے کی قوت ملتی ہے۔  اسی طرح انہیں قانونی حیثیت بھی حاصل ہوتی ہے اور ایک یہ کام مرنے کے قریب لوگوں کی زندگی میں دوبارہ روح پھوکنے کے قائم مقام ہے۔

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>