دہشت گردی کا شکار کون؟ مسلمان یا عیسائی - الشرق الاوسط اردوالشرق الاوسط اردو
مشاری الذایدی
کو: جمعہ, 23 دسمبر, 2016
0

دہشت گردی کا شکار کون؟ مسلمان یا عیسائی

               

           تقریبا ایک ہی وقت میں ، جرمنی میں کرسمس مارکیٹ میں معصوم  لوگ، روسی سفیر، یمنی عوام اور اردنی فوج وغیرہ دہشت گردی کا شکار ہوئے۔

         شاید اس کالم کے لکھتے وقت بھی مختلف ممالک کی شہریت کے حامل افراد اورمختلف مذاہب و ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے مزید افراد اس دہشت گردی کے اندھے پن اور جامعیت کا شکار ہو رہے ہوں۔

         ہم داعش، قاعدہ اور خمینی کی دہشت گردی کےسیاہ آلات کار کا شکار ہونے والے مسلمانوں اور عربوں  کی تعداد یا ان کے اعدادوشمارمیں نہیں جائیں گے، کیونکہ ان کی تعداد  ہزار ہا ہے۔ جبکہ ان کے علاوہ  شام، سعودیہ، بحرین، کویت، عراق، ترکی، اردن،تیونس، لیبیا، الجزائر، مراکش اور انڈونیشیا وغیرہ کے مسلم ممالک میں ہلاک  ہونے والے متاثرین ان کے علاوہ ہیں۔ اسی طرح ہلاک شدگان،  زخمیوں،سوگواروں، بیواؤں  اور یتیموں کی ایک بڑی تعداد صرف القاعدہ، داعش اور خمینی کی جماعتوں کے دہشت گردانہ حملوں کا نتیجہ ہیں۔

        امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونالڈٹرمپ نے برلین میں کرسمس سے قبل داعش کے مجرم کی طرف سے ٹرک کے ذریعے کچلنے کے دہشت گردانہ حادثہ کے بارے میں جو دلیل دی ہے اس بات پر تبصرہ کرنے کے لئےہم نے یہ سب کہا ہے۔ ٹرمپ نےبرلن حملہ پر سخت بیان دیتے ہوئے  کہا کہ”معصوم شہریوں کو شاہراہوں پر اس وقت قتل کر دیا گیا جبکہ وہ کرسمس کی تیاری کر رہے تھے۔  تنظیم داعش اور دیگر اسلامی دہشت گرد اپنے عالمی جہاد کے طور پر مسلسل عیسائیوں کے اجتماعات اور انکی عبادت گاہوں پر حملہ کر رہے ہیں”۔

         بہت سے ذرائع ابلاغ نے خبر کو مختصرا  بیان کیا ہے کہ ٹرمپ نے کہا  "میں پوری دنیا سے عنقریب ان  تمام  دہشت گردوں کوختم کر دونگا جو عیسائیوں کو قتل کر رہے ہیں”۔ لیکن امریکہ کے نئے صدر کی اس بیان کی تفصیلات کے مطابق یہ سب امریکہ کے پوری دنیا میں شرکاء کے تعاون سےہی ہوگا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سعودیہ یا اردن جیسے ممالک سیکورٹی، سیاست اور معیشت کے قضیوں میں واشنگٹن کے فطری طور پر حلیف ہیں۔

        دوسری بات یہ کہ دہشت گردی کی بھینٹ چرھنے والوں کی ایک بڑی تعدار سنی اور شیعہ کی ہے جو بالآخر مسلمانوں میں سے ہی ہیں۔ اور وہ  یورپ اور باقی مغرب پر دہشت گردانہ حملوں کی اس شدت کو مسترد نہیں کرتے۔

       اس طرح سےیہ عالمگیر دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کی کامیابی کے لئے صحیح نقطہ آغاز  ثابت نہیں ہوگا سوائے یہ کہ اس جنگ میں اتحادیوں اور شرکاء کی تعداد کو وسیع کیا جائے۔

       دہشت گردی کے خلاف اس عالمی جنگ میں مسلمانوں کی کامیابی کی ضمانت انتہائی ناگزیر ہے؛ جس میں سب سے پہلےان کے مذہب کی ساکھ کا دفاع  اور دوسری بات یہ کہ وہ حقیقی طور پر ان جرائم سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

         یہ تمام انسانیت کے خلاف برائی ہے، چنانچہ تمام بنی نوع انسان کو چاہئے کہ وہ سیاسی تیزی سے دور رہتے ہوئے اس برائی کی حقیقی شکل کو سمجھیں اور اس کے خلاف اتحاد بنائیں۔

مشاری الذایدی

مشاری الذایدی

مشاری الذیدی (مولود 1970) کا شمار ایک ماہر صحافی، سیاسی تجزیہ نگار اور مضمون نگار کی حیثیت سے ہے، سعودیہ عربیہ کے رہنے والے ہیں اور فی الحال کویت میں مقیم ہیں، متوسط درجے کی کارکردگی اور مذہبی جذبات کے ساتھ ان کی فراغت سنہ1408 هـ میں ہوئی، وہ اسلامی سرگرمیوں، موسم گرما کے مراکز اور لائبریریوں میں پیش پیش رہے ہیں اور اسی کے ساتھ ساتھ مقامی عرب پریس، دیگر پروگرام اور اسلامی انتہاپسندی کے موجودہ مسائل پر ایک ماہر صحافی اور قلمکار کی حیثیت سے حصہ لیا ہے ۔

More Posts

شيئر

تبصرہ کریں

XHTML/HTML <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <s> <strike> <strong>